57

اربعین واک: عراق میں نجف سے کربلا تک پیدل سفر کی کہانی

Spread the love

چند برسوں سے صفر کے مہینے میں سوشل میڈیا اربعین واک کی تصاویر اور ویڈیوز سے بھر جاتا ہے جن میں ہر کوئی عراقیوں کے جذبہ مہمان نوازی کو سراہاتا نظر آتا ہے۔ لیکن ان تصاویر اور ویڈیوز کے پسِ منظر میں کیا اہم موقع ہے، یہ شاید بہت کم افراد جانتے ہیں۔ اربعین واک کے بارے میں پڑھیے بی بی سی کی منزہ انوار کی تحریر۔

وہ ایک 80 کلومیٹر طویل سڑک تھی۔ ایک عام شاہراہ جو کسی بھی ملک میں دو شہروں کو ملانے کے لیے تعمیر کی جاتی ہے لیکن شیعہ مسلمانوں کے لیے مقدس سمجھے جانے والے دو عراقی شہروں نجف اور کربلا کو ملانے والی اس سڑک پر منظر کچھ خاص تھا۔

یہاں جا بجا دورانِ سفر کسی بھی مسافر کو پیش آنے والی ہر ضرورت کا مفت انتظام تھا۔ کوئی زبردستی آپ کو جوس پلانا چاہتا تو کوئی کجھوریں یا دیگر اشیائے خوردونوش پکڑا دیتا۔

کچھ بچے ملے جو درخواست کر رہے تھے کہ ہم ان سے اپنے جوتے پالش کروا لیں تو کوئی چاہتا تھا کہ آپ انھیں اپنی ٹانگیں دبانے کی سعادت دے دیں۔

سڑک کنارے ایک طرف صوفے لگے ہوئے تھے تاکہ تھکے ہوئے مسافر ان پر بیٹھ کر آرام کر لیں تو دوسری جانب کسی نے اپنے گھر کے بہترین گدے بچھا رکھے تھے۔

آخر یہ کون لوگ ہیں اور اس سڑک پر یہ ساری چیزیں مفت کیوں بانٹ رہے ہیں اور اپنے گھروں کا بہترین سامان سڑک پر کیوں لے آئے ہیں؟

اربعین واک کا آغاز کب ہوا اس بارے میں مصدقہ طور پر تو کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم نجف کے حوزة علمیة سے تعلق رکھنے والے عالم سید رضا کے مطابق ‘تاریخی روایات کے مطابق جابر بن عبد اللہ الانصاری وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے امام حسین کی قبر کی زیارت کی۔’

آج، کربلا کے واقعے کے 1400 سال بعد بھی نواسۂ رسول کی قربانی کی یاد میں دنیا کے کونے کونے سے کروڑوں افراد کربلا پہنچتے ہیں۔

صدام حسین کے دور میں اربعین
عراق کے سابق صدر صدام حسین کے دورِ حکومت میں اربعین واک پر سخت پابندیاں عائد تھیں اور حکام ہر برس عراقی عوام کو اربعین کے موقع پر روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے تاہم اس کے باوجود اس سفر کا سلسلہ جاری رہا۔

سنہ 2003 میں صدام حسین کے دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد سے اربعین واک کا سلسلہ ایک نئے جذبے سے شروع ہوا اور تب سے ہر سال اس سفر کے لیے کربلا پہنچنے والے افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

اربعین کے لیے زائرین کی آمد کا سلسلہ تب بھی جاری رہا جب عراق کا ایک بڑا حصہ شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کے زیرِ اثر تھا اور بہت سے ممالک اپنے شہریوں کو عراق کے سفر سے اجتناب برتنے کا مشورہ دے رہے تھے۔

اربعین کے سفر کا آغاز
عموما ً اس سفر کا آغاز نجف سے ہی ہوتا ہے اور اربعین کے لیے سفر کرنے والے زیادہ تر افراد نجف کے ہوائی اڈے پر ہی اترتے ہیں لیکن میرے لیے اس سفر کا آغاز عراقی شہر بصرہ سے ہوا تھا۔

سنا تھا غیر شادی شدہ خاتون کوعراقی ویزہ نہیں دیتے تاہم میرا نمبر آنے پر ٹوٹی پھوٹی انگریزی عربی میں صرف اتنا پوچھا گیا کہ عراق کیوں آئی ہو، میں نے جواب دیا ‘زیارت حسین’۔

نہ کوئی سوال نہ مزید تفتیش۔ شیشے کے پیچھے موجود نوجوان نے ٹھک سے میرے پاسپورٹ پر دو ہفتے کا ویزہ لگایا اور ‘مرحباک فی عراق’ کہتے ہوئے پاسپورٹ واپس تھما دیا۔

دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر کھانے پینے کی چیزوں سے لے کر پینے کا پانی تک خریدنا پڑتا ہے اور وہ بھی زیادہ قیمت پر لیکن بصرہ ایئرپورٹ پر زائرین کے لیے پانی کا مفت انتظام تھا۔

دیکھا جائے تو اربعین کے موقعے پر سوائے جہاز کے ٹکٹ اور ویزے کے ہر چیز ہی تقریباً مفت ہے۔

اس بات کا اندازہ ایئرپورٹ سے نکل کر ہوا۔ ایئرپورٹ کے باہر سینکڑوں بسیں اور کاریں کھڑی تھیں۔

بصرہ سے کربلا یا یا نجف یا جہاں کہیں بھی آپ جانا چاہیں، ایک مناسب قیمت طے کرنے پر یہ ڈرائیور آپ کو وہاں لے جائیں گے اور اگر آپ کے پاس پیسے نہیں تو فکر کی کوئی بات نہیں، بصرہ کے رہائشی بنا کسی قیمت کے مفت میں یہ خدمت انجام دینے کو بھی تیار نظر آئے۔

نجف جانے کے لیے گاڑی میں سوار ہونے لگی تو اس کے دروازے پر بھی ڈرائیور نے بنا کچھ کہے مجھے پانی کی بوتل اور کجھوروں کا ایک پیکٹ تھما دیا۔

بصرہ سے نجف تقریباً چار گھنٹے کی مسافت پر ہے اور سارے راستے میں چیک پوسٹوں اور سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود بہت رونق دکھائی دی۔

نجف سے کربلا کا پیدل سفر
اس مختصر سٹاپ کے بعد ہماری بس مزید ایک گھنٹے کے سفر کے بعد نجف پہنچ گئی۔ اربعین کے لیے آنے والے زائرین کا سفر نجف میں حضرت علی کے روضے پر سلام سے شروع ہوتا ہے۔

ہر برس چہلمِ امام حسین کے موقع پر نجف سے کربلا کا رخ کرنے والوں کی درست تعداد کے بارے میں مختلف اندازے لگائے جاتے ہیں لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق اربعین کے موقع پر اس علاقے میں تین کروڑ سے زیادہ افراد کا اجتماع ہوتا ہے۔

عراقی نہ صرف اربعین کو بلکہ اس کے لیے آنے والوں کی خدمت کو بھی ایک عبادت سمجھتے ہیں اور اسی لیے وہ زائرین کی خدمت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے اور پورے پورے عراقی خاندان اس خدمت میں بخوشی مگن دکھائی دیتے ہیں۔

ایک عراقی نے بتایا کہ اس عمل میں بچوں کو خاص طور پر اس لیے شریک کیا جاتا ہے تاکہ زائرین کی خدمت کا عمل نسل در نسل جاری رہے۔

اگرچہ نجف سے کربلا تک سڑک پر کیے گئے 99 فیصد انتظامات مقامی عراقی ہی کرتے ہیں لیکن یہاں تقریباً ہر ملک کا کوئی نہ کوئی سٹال نظر آتا ہے۔

کہیں پاکستانی بریانی اور چائے تیار کرکے آپ کی راہ دیکھ رہے ہوتے ہیں تو کہیں اچانک کوئی لبنانی آپ کے سامنے آکر فلافل تھما دیتا ہے۔

اربعین واک میں جہاں صنف اور عمر کی کوئی تفریق نہیں وہیں یہ سفر صرف شیعہ مسلمانوں تک بھی محدود نہیں بلکہ سنی، کرد، یزیدی، عیسائی غرض ہر مذہب اورفرقے کے لوگ باہمی ہم آہنگی سے رواں دواں نظر آئے۔

ایک ایرانی خاتون اپنے ڈیڑھ ماہ کے بچے کو لیے جانبِ کربلا جا رہی تھیں۔ ان کے دو بچے واکر میں بیٹھے تھے جنھیں ان کے شوہر چلا رہے تھے۔

کچھ فاصلے پر ایک نوجوان ایک برقع پوش خاتون کی ویل چیئر چلاتا نظر آیا۔

دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کی ضعیف والدہ چلنے پھرنے سے قاصر ہیں لیکن ان کی خواہش تھی کہ اس سال اربعین کے موقعے پر کربلا جائیں۔

ایک مقام پر سیاہ برقعوں میں ملبوس عورتوں کو اونٹوں کی ایک قطار میں دیکھا۔ ان کے ہاتھ رسیوں سے بندھے تھے۔

پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اربعین کے موقعے پر عراق کے مختلف علاقوں سے کئی قبیلے واقعہِ کربلا کی یاد میں ایسے جلوس کی صورت میں کربلا پہنچتے ہیں جو اس دوران پیش آنے والے واقعات کی عکاسی کر سکیں۔

ہمارا قافلہ جس وقت کربلا میں داخل ہوا تو فجر کا وقت تھا۔ ہم شہر کی حدود میں داخلے کے بعد دم لینے کو بیٹھے ہی تھے کہ چند نوجوان عراقی چائے لے آئے۔

یہاں بھی فری وائی فائی میسر تھا سو میں نے چائے پیتے پیتے گھر والوں کو کربلا پہنچنے کی اطلاع دی۔

کچھ فاصلے پر واقع چیکنگ پوائنٹ پر زائرین کے سامان کی چیکنگ کے لیے بڑے بڑے سکینرز لگائے گئے تھے۔ سکیورٹی پر مامور اہلکار خوش اخلاق لیکن چیکنگ کا عمل انتہائی سخت تھا۔

ہماری لائن میں موجود سب افراد کو انتظار کرنے کو کہا گیا ہے کیونکہ ایک صاحب کے سامان سے زنجیرزنی میں استعمال ہونے والی چھریاں برآمد ہوئیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ اربعین کے دوران کربلا میں کسی قسم کا چاقو، چھری وغیرہ لے جانے پر پابندی ہے۔

کربلا شاید دنیا کا وہ واحد شہر ہے جہاں کوئی تفریح کی غرض سے نہیں جاتا۔ یہاں آنے والے تقریباً سبھی افراد نواسۂ رسول اور ان کے اہلِ خانہ کی عظیم قربانی کی یاد منانے آتے ہیں۔

جن کو موکب میں جگہ نہیں ملی انھوں نے گلیوں میں چھوٹے ٹینٹ لگا رکھے تھے۔ جو خیمے نہیں لائے انھوں نے ایک کمبل نیچے بچھا رکھا ہے اور ایک اوپر لیے مزے سے فٹ پاتھ پر سو رہے تھے۔

راتوں رات یہ کمبل کہاں سے آتے ہیں اور صبح کہاں غائب ہو جاتے ہیں یہ اگلے روز معلوم ہوا جب میں نے کمبلوں سے بھرے ایک بہت بڑے ٹرک کو دیکھا۔

ہر روز رات کو ایسے کئی ٹرک کربلا کی سڑکوں پر چکر لگاتے اور کمبل پھینکتے جاتے ہیں۔ اگلے دن فجر کے بعد یہی ٹرک دوبارہ آکر یہ کمبل اکٹھے کرتے ہیں۔

یہ چھوٹا سا شہر کروڑوں افراد کو کیسے سمو لیتا ہے یہ میں آج تک نہیں سمجھ پائی۔

20 صفر کا دن بہت اہم ہے۔ ہر شخص اپنے کام کاج چھوڑ اور راستے کی صعوبتیں برداشت کرکے اسی دن کے لیے یہاں پہنچتا ہے۔

رش کی صورتِ حال یہ تھی کہ صرف روضے کے بیرونی دروازے تک جاتے جاتے مجھے تین گھنٹے لگ گئے جبکہ یہ دروازہ بالکل میرے ہوٹل کے سامنے چند منٹ کی مسافت پر واقع تھا۔

تاہم اتنے زیادہ ہجوم کے باوجود یہ مجمع انتہائی پرسکون تھا۔ نہ کوئی کسی سے جھگڑتا نظر آیا نہ کہیں بھگدڑ مچتے دیکھی۔

سب سکون سے روضہ امام حسین کی جانب جا رہے تھے جیسے یقین ہو کہ کچھ بھی ہو جائے وہ روضے تک ضرور پہنچیں گے۔

اگر کسی نوجوان کے پیچھے کوئی عورت چل رہی ہے تو وہ اپنے آگے والے شخص کے کندھے پر ہلکا سے تھپتپھا کر بتاتا ہے کہ عورتیں ہیں راستہ بناؤ اور سب جتنا ہو سکے ادھر ادھر کھسک کر آپ کے لیے راستہ چھوڑ دیتے ہیں۔

اس ہجوم میں شامل افراد کسی ایک فرقے یا تہذیب سے تعلق رکھنے والے لوگ نہیں تھے۔ کہیں عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد صلیب اٹھائے روضہ امام حسین کی طرف بڑھ رہے تھے تو کہیں سفید لباس میں ملبوس بوہرہ برادری کے افراد ایک گروپ کی صورت میں روضے میں داخل ہوتے دکھائی دیے۔

یورپی اور افریقی ممالک کے لوگ بھی اپنے اپنے ملکوں کے جھنڈے اٹھائے اپنی زبانوں میں کلمات پڑھتے اندر جا رہے تھے۔

نواسۂ رسول کے روضے اور اردگرد کی گلیوں میں ہر افراد کی زبان پر ایک ہی ورد جاری تھا ’لبیک یا حسین، لبیک یا حسین‘۔

میں سوچ رہی تھی کہ 14 صدیاں قبل دینِ اسلام کے لیے جان دینے والے ایک فرد کی قربانی میں کیا طاقت ہے کہ دنیا کے کونے کونے سے کروڑوں افراد ان کا غم منانے اور ان کی دی گئی قربانی کی یاد تازہ کرنے کربلا کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر شخص کا امام حسین سے ایک انفرادی تعلق ہے جسے کوئی دوسرا نہیں سمجھ سکتا اور یہی وہ جذبہ ہے جو دنیا کے کونے کونے سے ہر مذہب کے لوگوں کو کربلا لے آتا ہے اور عراقیوں کے خاندان در خاندان اس خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں۔

بشکریہ : بی بی سی اردو