58

حافظ آباد سرکاری ہسپتال میں ایک ہی رات 4 نوزائیدہ بچے دم تو ڑ گئے

Spread the love

حافظ آباد(جتن آن لائن ڈسٹرکٹ رپورٹر) حافظ آباد سرکاری ہسپتال

صوبہ پنجاب کے ضلع حافظ آباد کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے نرسری

وارڈ میں ایک ہی رات میں 4 نوزائیدہ بچے دم تو ڑ گئے، ڈپٹی کمشنر نے تین

افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا دو ماہ میں ادویات کی قیمت میں دوسری بار اضافہ

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ریحان اظہر کے مطابق نرسری

وارڈ میں ایک ہی رات میں فوت ہونیوالے چار میں سے تین بچے قبل از وقت

پیدا ہونے کے باعث جبکہ چوتھا بچہ بہت ہی کمزور پیدا ہونے کی وجہ سے

ہسپتال لایا گیا تھا جبکہ تمام بچوں کی عمریں ایک سے سات دن کی تھیں۔

بچوں کی حالت تشویشناک تھی، لاہور ریفر کیا والدین نے جانے سے انکار
کرتے ہوئے یہیں علاج کرنے کی ضد کی،ایم ایس ڈی ایچ کیو

ایم ایس کے مطابق ہسپتال کے ڈاکٹروں کی جانب سے بچوں کی حالت تشویش

ناک ہونے کے باعث والدین کو آگاہ کرتے ہوئے انہیں چلڈرن ہسپتال لاہور لے

جانے کا کہا گیا لیکن بچوں کے والدین نے ان کا علاج ڈی ایچ کیو ہسپتال میں

ہی کرنے کو کہا اور اس ضمن میں والدین نے تحریری طور پر ہسپتال انتظامیہ

کو لکھ بھی دیا۔

بچوں کے والدین کا احتجاج نہ کرنا ہماری
بے گناہی کا ثبوت ہے، ہسپتال انتظامیہ

ایم ایس نے بتایا کہ مذکورہ چاروں بچے ایک ہی رات میں وقفے وقفے کے بعد

تشویشناک حالت کے باعث دم توڑ گئے جبکہ ہسپتال انتظامیہ نے بچوں کو

علاج معالجہ کی تمام ممکنہ سہولیات فراہم کیں، لہٰذا ہماری اس میں نہ تو کوئی

غفلت ہے اور نہ ہی لاپرواہی جس کا ثبوت یہ ہے کہ فوت ہونے والے بچوں کے

والدین میں سے نہ تو کسی نے احتجاج کیا اور نہ ہی شکایت۔

ڈی سی کا واقعہ پر اظہار افسوس، انکوائری کمیٹی بنا دی

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر نوید شہزاد مرزا نے واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار

کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی انکوائری کمیٹی

تشکیل دے دی ہے جو ایک یوم میں رپورٹ مرتب کرکے پیش کرے گی۔

حافظ آباد سرکاری ہسپتال