92

“ننھی لالی” کو مرنے کے بعد پتہ چلا —– اس کے قاتل کون!

Spread the love

“ننھی لالی”

موٹر سائیکل سوار صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے معروف تعلیمی

ادارے کوئین میری سکول و کالج کے پاس سے گزر رہا تھا، سخت گرمی پڑ

رہی تھی، کالج کی دیوار کے پاس ٹھیلے والا اپنی ریڑھی پر مشروبات بیچنے

میں مصروف تھا، جو لوگ اپنی پیاس بجھا رہے تھے ان میں سے کچھ سخی دل

قریب کھڑے سائیکل سوار کے پنجرے سے 35 روپے میں فی لالی، 15 روپے

میں فی چڑیا اور 80 روپے میں فی کوا آزاد کروا رہے تھے،

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی خواہش اور ہمارے شیخو جی

موٹر سائیکل سوار وہیں رک گیا، ایک دریا دل آدمی لالیاں آزاد کروا رہا تھا،

موٹر سائیکل سوار نے اوپر آسمان کی جانب دیکھا تو فضا میں چیلوں کی بھرمار

تھی، ادھر لالیاں پنجرے میں تڑپ رہی تھیں اور بے چین تھیں انہیں آزادی نہیں

چاہئے اس لئے کہ وہ اڑتی چیلوں کو صاف دیکھ رہی تھیں، وہ آزادی کے نام پر

سیدھا موت کے منہ میں نہیں جانا چاہتی تھیں، انہیں آزاد کروانے والے آدمی کو

ان کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی-

سائیکل سوار آگے آگے ، چیلیں پیچھے پیچھے

سائیکل سوار پنجرے کو لے کر جہاں جہاں جاتا چیلیں وہاں پہنچ جاتیں، وہ ہر

اڑنے والی لالی پر جھپٹتی تھیں اورانہیں ہوا ہی میں کھا پی جاتی تھیں، موٹر

سائیکل سوار نے اس آدمی سے کہا پرندوں کو آزاد کروانے کا یہ طریقہ غلط

ہے، پرندوں کو قید کرنیوالا سائیکل سوار بولا بھائی جان چیلیں بھی تو اللہ کی

مخلوق ہیں انہیں بھی رزق چاہئے، موٹر سائیکل سوار نے اس سے کہا کہ بھائی

تم نے کب سے مخلوقات کے رزق کا ٹھیکہ لے لیا ہے؟انہیں آزادی چاہئے، موت

نہیں-

مزید پڑھیں: سوانی تے رن وچ کیہ فرق آ —– ؟

لالیوں کو آزاد کروانے والا آدمی بولا زندگی موت خدا کے ہاتھ میں ہے، میرا کام

انہیں آزاد کروانا ہے۔ موٹر سائیکل سوار نے اس سے کہا کہ آزادی واقعی نعمت

ہے، لیکن گوروں والا حساب نہ کرو جو انہوں نے 1947 میں کیا تھا، تم بھی وہی

کچھ کر رہے ہو، آزادی کے نام پر موت بانٹ رہے ہو، انہیں جال میں بند کرکے

کسی کھلے باغ میں لے جائو تاکہ یہ بڑی ہو جائیں، ابھی تو یہ بہت چھوٹی ہیں

اورانہیں اڑنا بھی ٹھیک سے نہیں آتا لیکن اس آدمی نے موٹر سائیکل سوار کو

خبطی سمجھ کر نظر انداز کر دیا، بات اس کی سمجھ میں نہ آئی تھی، اس نے

کافی ساری لالیاں آزاد کروا ئیں اور چلا گیا، اس دوران چند ایک کے سوا تمام

چیلوں کی خواراک بن گئیں،

ایکو سسٹم تیزی سے تباہ وبرباد

موٹر سائیکل سوار جانتا تھا ایکو سسٹم تیزی سے تباہ وبرباد ہو رہا ہے، تتلیوں،

بھنوروں، چڑیوں اور شہد کی مکھیوں کی جگہ اندھیر نگری کی مخلوقات یعنی

کوے، چیلیں، کتے، چوہے اور کاکروچ دھڑا دھڑ پیدا ہو رہے ہیں، وہ سخت

پریشان تھا۔ بالآخر وہ مایوس ہو کر آگے بڑھ گیا۔ اسی دوران ایک لالی اڑتی اڑتی

شہر کے ایک باغ میں جا گھسی، وہ جانتی تھی قانون فطرت بہت سخت ہے ہر

درخت پر پہلے ہی کسی نہ کسی مخلوق کا قبضہ ہے، وہ چیلوں سے بچتی بچاتی

ایک درخت پر جا بیٹھی تو وہاں کوئوں کا بسیرا تھا وہ اسے کھانے کیلئے جھپٹے

وہ پھر وہاں سے اڑی اور ایک دوسرے درخت پر جا بیٹھی جہاں چڑیاں پہلے

سے موجود تھیں انہوں نے بھی اسے قانون فطرت کے مطابق درخت پر پناہ دینے

سے انکار کر دیا اور شور مچا دیا کہ اجنبی گھر میں گھس آیا ہے،اسے بھگائو،

درخت پر پناہ

آخر کار ایک درخت پر اسے پناہ مل ہی گئی، شام ہو رہی تھی، اسی دوران

طوطوں کا جھرمٹ اڑتا ہوا آیا اور اس لالی پر حملہ بول دیا، وہ زخمی ہو کر

نیچے گر گئی، کوے پہلے سے ہی طاق میں تھے، اڑتے ہوئے آئے اور اسے

پنجوں میں اٹھا کر لے گئے جہاں ان کے بچوں نے اس نیم مردہ لالی کو جی بھر

کر کھایا اورسوگئے۔

عالم ارواح اور ننھی لالی

عالم ارواح میں ننھی لالی بے چین تھی، وہاں متعین ایک فرشتے نے اسے بتایا

کہ چند سال میں عالم ارواح میں بے شمار چڑیاں آئی ہیں جن کی ناحق موت واقع

ہوئی ہے، لالی اپنے آبائی درخت سے بیدخلی سے لیکر قید اور موت کی وجہ

جاننا چاہتی تھی، اسے فرشتے نے بتایا کہ دراصل شہر میں ظالموں کی بھرمار

ہو چکی ہے، پرندوں کو پکڑنے اور ان کے شکار پر قانون نام کی کوئی شے

موجود نہیں، شہر کا رکھوالا زمین کا گلہ گھونٹ رہا ہے، اس پر پکا فرش بچھا

کر اس کا نہ صرف زمین کا سانس گھونٹ رہا ہے بلکہ وہ زیر زمین بنجر ہوتی

چلی جا رہی ہے، سیاہ لک والی سڑکیں بننے سے بارش کا پانی بھی جذب ہونا بند

ہو گیا ہے اور جو پانی بہتا ہے اسے پائپوں کے ذریعے دریا تک پہنچایا جا رہا

ہے-

زمین کو سانس لینے میں سخت دشواری کا سامنا

لاہور شہر کی زمین کو سانس لینے میں سخت دشواری کا سامنا ہے جس کے

باعث درجہ حرارت بھی بڑھتا جا رہا ہے، پانی کی سطح دن بدن نیچے جا رہی

ہے، لالی فرشتے کی باتیں بڑے انہماک سے سن رہی تھی، اسے اپنے قتل کی

وجہ معلوم ہو رہی تھی، فرشتے نے اسے بتایا کہ ظالم رکھوالے نے تمھارے آبائو

اجداد سے چلے آنے والے درختوں کو کٹوا دیا تھا، تمھارے والدین تو اڑ گئے

البتہ شکاریوں نے تمھیں قیدی بنا لیا تھا، لالی کی آنکھوں کے سامنے اس کا

مختصر بچپن گھوم گیا کہ کس طرح اس کے والدین اس کو چومتے اور کھلاتے

تھے اور چند ہی دنوں میں دھڑا دھڑ درخت کٹنے سے وہ ان سے جدا ہو گئی تھی

اور قیدی بن کر رہ گئی تھی۔

لالی کی آہ شرارہ بن کر اوپر اٹھ گئی

فرشتے کی ساری باتیں سن کر ننھی لالی کی ایک طویل آہ نکلی اور وہ آہ شرارہ

بن کر اوپر کو اٹھ گئی اور پھر بجلی کی مانند نیچے زمین کی جانب لپکی، لالی

کو بجلی کا روپ دھارے اپنی آہ زمین کی جانب جاتے صاف دکھائی دے رہی

تھی کہ وہ شکاری، شہر کے رکھوالے، ایل ڈی اے محکمے کے سربراہ، دفتر

میں بیٹھے ایک سیکرٹری اور چند ٹھیکے داروں کے سر پر جا گری، انہیں کچھ

بھی نہ ہوا تو لالی حیران ہو کر فرشتے سے بولی انہیں توکچھ ہوا ہی نہیں؟ یہ جل

کیوں نہیں گئے؟

تمھاری آہ کو قبولیت بخش دی گئی

فرشتے نے اسے بتایا کہ تمھاری آہ کو قبولیت بخش دی گئی ہے اب یہ انہیں جلا

جلا کر مارے گی، آہستہ آہستہ ان کے راستے بند کر دے گی، یہ بھی قیدی بن

جائیں گے، تڑپیں گے اور تم اپنی آنکھوں سے خود ان کی بربادی دیکھو گی،

ان کے بچے بھی ان سے جدا ہو جائیں گے، یہی تمھارے قاتل ہیں جنہوں نے

تمھارے گھروں کو ختم کرنے اور انسانوں کے کھانے پینے کے اڈوں کو اتنا

فروغ دیا کہ رزق جگہ جگہ بکھرا پڑا رہتا ہے جس کے باعث چیلوں اور کوئوں

کی بھرمار ہو گئی ہے-

لالی سکون سے زمین کی جانب دیکھنے لگی

اندھیر نگری کی مخلوقات نے روشنی کی مخلوقات کو ختم کرنا شروع کر دیا ہے

لیکن سب کا انجام تمھارے سامنے ہو گا۔ یہ سب کچھ جان کر ننھی لالی کو قرار

آ گیا اور وہ اپنے قاتلوں کی بربادی کا جائزہ لینے کیلئے سکون کے ساتھ زمین

کی جانب دیکھنے لگی۔

“ننھی لالی”