45

بھارت پھرنامراد، پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کا خواب چکنا چُور

Spread the love

پیرس،اسلام آباد (جتن آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزرپورٹر) بھارت پھرنامراد

بھارت پھر نامراد، پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کا بھارتی خواب چکنا چور ہو

گیا، پاکستان فروری 2020ء تک گرے لسٹ میں ہی رہیگا۔ فنانشل ایکشن ٹاسک

فورس نے بڑا فیصلہ سنا دیا، پاکستان بلیک لسٹ نہیں ہوگا، کارکردگی بہتر قرار

دیدی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف اجلاس،بھارت ڈوزیئر،پاکستان جواب دینے کیلئے تیار

ذرائع کے مطابق تین دوست ملکوں کی حمایت سے پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے

کی بھارتی سازشیں ناکام ہو گئیں۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کی

چین ترکی اور ملائیشیا نے بھرپور حمایت کی اور بھارت کے پاکستان کو بلیک

لسٹ میں دھکیلنے کے عزائم خاک میں ملا دیے اور پاکستان کو وارننگ بھی

نہیں دی۔

ذرائع کے مطابق بھارت بلیک لسٹ نہ کرنے پر بھی پاکستان کو سخت وارننگ

دینے کی کوششیں کر رہا تھا۔ پاکستان کو فروری 2020 تک مختلف اہداف کے

حصول کا وقت مل گیا۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کی جانب سے دہشت

گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کیخلاف اٹھائے جانیوالے اقدامات کو

تسلیم کرتے ہوئے باضابطہ اعلان کیا کہ آئندہ 4 ماہ (فروری 2020) تک پاکستان

گرے لسٹ میں ہی رہے گا۔

بھارت پھرنامراد، مزید چاہ ماہ کی مہلت مل گئی

پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے اختتام پر ٹاسک فورس کے صدر

شیانگ من لو نے پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ پاکستان کو مزید 4 ماہ کیلئے

اسی فہرست میں رکھا جائے گا۔ اسلام آباد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ منی

لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کے مکمل خاتمے کیلئے مزید اقدامات

کرے جن کا فروری 2020 میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ فروری 2020 تک اپنے مکمل

ایکشن پلان کو تیزی سے پورا کرے اگر اس نے آئندہ اجلاس تک اپنے ایکشن

پر مکمل طریقے سے موثر و نمایاں پیش رفت نہ کی تو کارروائی کی جائےگی،

جون 2018 سے پاکستان نے انسداد منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور دہشتگردی

کیلئے مالی معاونت کے خاتمے (سی ٹی ایف) کو مضبوط بنانے اور دہشتگردوں

کی مالی معاونت سے متعلق خامیوں کو دور کرنے کیلئے ایف اے ٹی ایف اور

ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کیساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا

تھا، اس کے بعد سے پاکستان نے اے ایم ایل، سی ایف ٹی سے متعلق کافی پیش

رفت کی ہے-

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف، پاکستان کی تیسری جائزہ رپورٹ منظور

اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان نے اب تک 27 ایکشن نکات میں سے بڑے

پیمانے پر صرف 5 پر عمل کیا جبکہ باقی ایکشن پلان پر کی گئی پیش رفت کی

سطح مختلف ہیں۔

پاکستان کی وزارت خزانہ کی جانب سے اس اعلان کے بعد جاری بیان میں کہا

گیا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے عزم کا دوبارہ

اظہار کرتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس 13 تا 18 اکتوبر 2019 تک پیرس میں

ہوا، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر اقتصادی امور ڈویژن محمد حماد اظہر

نے کی۔

اجلاس میں ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان اور پاکستان کی اے پی جی میوچل

ایوالوشن رپورٹ (ایم ای آر) پر پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس

میں پاکستانی وفد نے ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کیلئے سیاسی عزم کا اظہار

کیا، جسکے بعد اجلاس میں ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر جمود برقرار رکھنے

اور اے پی جی ایم ای آر کیلئے 12 ماہ کے مشاہدے کی مدت کی اجازت دینے کا

فیصلہ کیا گیا۔ بھارت پھرنامراد

وزارت خزانہ کے مطابق وفد نے اجلاس کی سائڈ لائن پر مختلف ملاقاتیں کیں

اور پاکستان کی جانب سے ایکشن پلان اور اے ایم ایل، سی ایف ٹی فریم ورک

کو مضبوط کرنے سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا۔

وزارت خزانہ کے مطابق یو این او ڈی سی اور اے پی جی سیکریٹریٹ کے

اشتراک سے پاکستان کی تکنیکی مدد اور تربیت کی ضروریات سے متعلق ایک

اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس میں چین، امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، جاپان، یورپین

یونین، عالمی بینک، آئی ایم ایف، اے ڈی پی اور یو این او ڈی سی سمیت مختلف

ممالک اور کثیرالجہتی ایجنسیوں نے شرکت کی-

بھارت پھرنامراد