PTI Core Committee Ijlas at Banigala at Islamabad 95

حکومت مذاکرات پر تیار، مولانا کا انکار، احتجاج سب کا حق، اسلام آباد ہائیکورٹ

Spread the love

اسلام آباد (جتن آن لائن سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت تیار، مولانا انکار

وفاقی حکومت نے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے

مذاکرات کیلئے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیدی،

کمیٹی اپوزیشن سے ان کے مطالبات پر مذاکرات کرے گی۔ کور کمیٹی نے پنجاب

اور خیبرپختونخوا میں فوری بلدیاتی انتخابات کرانے کا بھی فیصلہ کیا۔

کورکمیٹی سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا اپوزیشن کی جانب

سے کسی بھی قسم کا انتشار کشمیر کاز کو نقصان پہنچائے گا، ملک کو اس وقت

اور بھی خطرات درپیش ہیں، حکومت اپوزیشن کے جائز مطالبات ضرور سنے

گی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا مولانا کیساتھ مذاکرات کا عندیہ

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کا

معاملہ حکومتی اور پارٹی سطح پر زیر بحث لانے کا فیصلہ کیا، اس سلسلے میں

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کورکمیٹی کا اجلاس بنی گالہ سیکرٹریٹ

میں ہوا، جس میں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار، وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود

خان سمیت وفاقی وزراء، تینوں گورنرزاور پارٹی کی سینئر قیادت شریک ہوئی۔

فضل الرحمان سے مذاکرات، حکومت نے کمیٹی قائم کر دی

کورکمیٹی نے ملکی سیاسی و معاشی صورتحال اور مہنگائی کیخلاف اقدامات پر

جبکہ پارٹی کی صوبائی تنظیموں کو تحلیل کرنے پر بھی سوچ بچار کی گئی۔

حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کیلئے کمیٹی بنانے کا فیصلہ

کرنے سمیت وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل بھی دیدی-

اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے شرکا کو سعودی عرب، ایران اور چین

کے دوروں پر اعتماد میں بھی لیا۔

مولانا کا بات نہ کرنا ملک کیخلاف سازش ہو گی، پرویز خٹک


اجلاس کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا مولانا فضل الرحمان کا

مذاکرات نہ کرنا ملک کیخلاف سازش ہوگی، مولانا کو مذاکرات کرنا ہونگے،

مذاکرات کرنے سے مولانا کی عزت کم نہیں ہوگی۔ بند گلی میں جائیں گے تو

پھر کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ (حکومت تیار، مولانا انکار)

پرویز خٹک کا جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے

حکومت مخالف احتجاج پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا ہم جمہوری لوگ ہیں،

مذاکرات سے معاملات حل کریں گے۔ پرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن ملک

کو نقصان ہوا تو ایکشن لینا پڑے گا۔ مسئلہ کشمیر پر ہمیں متحد ہونے کی

ضرورت ہے۔ مولانا اپنا ایجنڈا ہمارے سامنے رکھیں، ڈکٹیٹر نہ بنیں اور جمہوری

انداز اپنائیں، اگر مولانا فضل الرحمان کا ون پوائنٹ ایجنڈا وزیراعظم کو ہٹانا ہے

تو وہ ممکن نہیں- پی ٹی آئی نے دھرنے میں اپنے مطالبات سامنے رکھے تھے۔

تصادم نہیں چاہتے مارشل لاء لگا تو رخ ”اداروں“
کی طرف موڑ دیں گے، مولانا فضل الرحمن

جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کیساتھ

مذاکرات کے امکان اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا

ہے وزیراعظم عمران خان کے استعفیٰ سے قبل حکومت سے مذاکرات نہیں ہوں

گے، اداروں سے تصادم نہیں چاہتے، اگر اداروں نے مارشل لاء کی کوشش کی

گئی تو آزادی مارچ کا رخ ان کی طرف موڑ دیا جائیگا- (حکومت تیار، مولانا انکار)

قوم نے 10 ماہ میں جعلی الیکشن کے نتائج دیکھ لئے ہیں، 400 ادارے بیچے

جارہے ہیں، اب پوری قوم کی ایک ہی آواز ہے نئے الیکشن کرائے جائیں،

انتخابات کے بعد جو بھی نتائج ہوں اور جو بھی جیتے ہم قبول کریں گے،

حکومتی لوگ غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں، ان کے تمام حربے ناکام ہوچکے، آئین

کی حکمرانی اور اداروں کا حدود میں رہ کر کام کرنے کے مطالبے پر دوسری

رائے نہیں ہوسکتی۔ (حکومت تیار، مولانا انکار)

اپنی رہائش گاہ پر گزشتہ روز پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود

خان اچکزئی اور مسلم لیگ (ن) کے یعقوب خان ناصر سے ملاقات کے بعد

مشترکہ پریس کانفرنس میں انکا مزید کہنا تھا انصار الاسلام رضاکار فورس ہے،

حکومت پر کا پرندہ اور بات کا بتنگڑ بنا کر خوف پھیلا رہی ہے، حکومت

خوفزدہ نہ ہو، تیر سے شہتیر نہ بنائے۔ حکومت سے استعفے کے سوا مذاکرات

نہیں ہوسکتے۔

موجودہ حالات میں گول میز کانفرنس ناگزیر، محمود اچکزئی

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا اس موقع پر کہنا

تھا موجودہ صورتحال میں گول میز کانفرنس بلائی جائے، تمام ادارے اپنی آئینی

حدود میں کام کریں، آزادی مارچ میں بھرپور شریک ہونگے، ہمیں کسی کی شکل

کا مسئلہ نہیں، پاکستان دن بدن تنہا ہورہا ہے، مولانا صاحب کی تحریک میں

مذہبی کارڈ کی باتیں درست نہیں، ہم سب مسلمان ہیں، ہم آئین کے تابع اس پاکستان

میں رہتے ہیں- (حکومت تیار، مولانا انکار)

مولانا فضل الرحمن کو گول میز کانفرنس میں لیکر آﺅں گا، ہم آزادی مارچ میں

شرکت کریں گے، تنگ کیا گیا تو ایسا جمہوری ہنگامہ کھڑا کریں گے کہ جام

کمال کی حکومت جام کردیں گے۔ غیر جانبدار الیکشن کرائیں، نوازشریف اور اس

کی بیٹی کا کیا قصور ہے، پنجاب سے نوازشریف اور مریم نواز کی رہائی کیلئے

آواز اٹھنی چاہئے جبکہ سینیٹر سردار یعقوب خان ناصر کا کہنا تھا مسلم لیگ ن

مارچ میں شرکت کرے گی۔

حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے مولانا کیساتھ ہیں، بلاول بھٹو

لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو

زرداری نے جمعیت علما اسلام (ف) کے حکومت مخالف آزادی مارچ کی حمایت

کرتے ہوئے کہا نیازی حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے مولانا فضل الرحمن کا

بھرپور ساتھ دینگے۔ پی ایس 11 کے عوام دھاندلی نہیں ہونے دیں گے، ضمنی

انتخاب کے حوالے سے سپورٹ کا مولانا ہی جواب دے سکتے ہیں۔ بنوں میں

پیپلز پارٹی نے مولانا کے امیدوار کو سپورٹ کیا تھا۔ امید ہے وہ بھی سپورٹ

کریں گے، مسلم لیگ (ن) کی سپورٹ پر شکر گزار ہوں۔ (حکومت تیار، مولانا انکار)

بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان کے ایران اور سعودی عرب کے

درمیان ثالثی کروانے کو اچھا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا سب کی کوشش ہونی

چاہیے جنگ نہ ہو۔ ایران اور سعودی عرب میں اگر جنگ ہوگی تو پاکستان بھی

متاثرہوگا۔ (حکومت تیار، مولانا انکار)

عوام کا خیال رکھنا اور روزگار دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پیپلز پارٹی کی

حکومت نے ہر دور میں زیادہ سے زیادہ روزگار دیئے۔ پیپلز پارٹی اور دوسری

جماعتوں کی پالیسی میں یہی فرق ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ

حکومت میں سازش کے تحت لوگوں کو بیروزگار کیا گیا۔ یہ لوگوں کو روزگار

دینے کے بجائے مزید اداروں کو بند کریں گے، فواد چودھری کا بیان ہی خان

صاحب کی اصلی پالیسی ہے۔

مسلم لیگ ن حکومت مخالف تحریک میں ہراول دستہ، احسن اقبال

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ

مسلم لیگ (ن) اس حکومت کیخلاف ہر تحریک میں ہر اول دستہ ہو گی، ہم فوری

نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں، ملک اس نالائقی نااہل حکومت کا مزید متحمل

نہیں ہو سکتا، اس حکومت سے نجات ضروری ہے، ہمارے عہدیداران کا خیال

ہے حکومت پنجاب کوانتقام کا نشانہ بنارہی ہے ہمیں پنجاب بچاﺅ تحریک شروع

کرنا پڑے گی۔ ہم اپوزیشن اتحادی جماعتوں سے ملکر اس حکومت کے خاتمے

کی بھرپور اور ملک گیر کوشش کریں گے۔ (حکومت تیار، مولانا انکار)

18 اکتوبر کو مولانا فضل الرحمان شہباز شریف کی ملاقات کے بعد آزادی مارچ

کا حتمی لائحہ عمل دیا جائے گا۔ ہم پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کے

ساتھ رابطے میں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب کے پارٹی عہدیداروں کے اجلاس

اوران سے حلف لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انکا مزید کہنا تھا نواز شریف

کی ہدایت پر پارٹی میں ڈویژن سطح کی نئی تنظیم سازی کی گئی ہے، بہت جلد

پارٹی کے خالی عہدوں پر تعیناتیاں کرلی جائیں گی۔ ہم پارٹی کو گراس روٹ لیول

تک لے کر جائیں گے۔

شہریوں کا تحفظ کرنا حکومت کا کام ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مولانا فضل الرحمان کا دھرنا روکنے کی درخواستیں نمٹا

دیں۔ چیف جسٹس نے کہا ضلعی انتظامیہ قانون کے مطابق مولانا فضل الرحمان

کی درخواست پر فیصلہ کرے، دنیا میں کوئی عدالت احتجاج کا حق ختم نہیں

کرسکتی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا یہ ریاست کا کام ہے کہ شہریوں کے

حقوق کا تحفظ کرے۔

وکیل نے موقف اپنایا کہ بادی النظر میں دھرنے اور احتجاج کا اعلان کرنیوالوں

کی نیت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ چیف جسٹس نے کہا انتظامیہ کو درخواست دی گئی

ہے اس پر قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائیگا۔ پی ٹی آئی کو احتجاج

کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی اس عدالت نے اجازت دی تھی، احتجاج کرنا پی

ٹی آئی کا حق ہے، ہم نے انتظامیہ کو حکم دیا تھا احتجاج کو پرامن بنانا ہے۔

میں انتظامیہ ہوں نہ آپ، چیف جسٹس کا وکیل ریاض راہی سے مکالمہ

چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا آپ حکومت کی طرف سے دلائل دے رہے ہیں،

جس پر ایڈووکیٹ ریاض حنیف راہی نے کہا اس دھرنے سے میرے حقوق متاثر

ہونگے۔ چیف جسٹس نے کہا میں انتظامیہ ہوں نہ آپ، انتظامیہ کو انکا کام کرنے

دیں، آپ عوامی فلاح کی درخواستیں دیتے ہیں، ایک درخواست مقامی عدالتوں کی

حالت زار سے متعلق بھی دیں، ان ریمارکس کے ساتھ چیف جسٹس اسلام آباد

ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سربراہ جے یو آئی (ف) کی درخواستیں نمٹا

دیں

حکومت تیار، مولانا انکار