69

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا 12 سال بعد تاریخی دورہ ریاض، 14 معاہدے متوقع

Spread the love

ریاض،ماسکو (جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک ) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن 12 سال بعد تاریخی سرکاری دورے پر سعودی

عرب پہنچ گئے جہاں پہلے ریاض انٹر نیشنل ائیرپورٹ اعلیٰ سعودی حکام اور

پھر شاہی محل آمد پر سعودی فرماروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے دولادیمیر

پیوٹن کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا، اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی

ترانے اور سعودی عرب کی روایتی موسیقی بھی بجائی گئی،

یہ بھی پڑھیں: سعودی آئل تنصیبات پرحملہ، امریکی فضائی دفاعی نظام
ناکارہ ہونے کا ثبوت ہے، روس

سعودی فرماروا شاہ سلمان بن عبدالعزیر سے مختصر سے ملاقات کے بعد

ولی عہد شہزاد محمد بن شاہ سلمان اور صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان

باضابطہ مذاکرات کا انعقاد ہوا جس میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ

تعلقات کے مختلف پہلووں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دورے کے موقع پر دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات کو فروغ دینے سے

14 سرمایہ کاری اور تعاون کے نئے معائدے بھی ہونے کی توقع ہے، پیوٹن

دورہ ریاض کے بعد متحدہ عرب امارات جائیں گے جہاں وہ خلیجی ممالک کیساتھ

اہم عالمی، علاقائی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے-

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا دورہ تاریخی، باہمی تعلقات
میں نئی جان ڈالنا ہے، سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے

دورہ سعودی عرب کو تاریخی قرار دتیے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ

ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا پیوٹن کے دورے کا مقصد روس اور سعودی عرب

تعلقات میں نئی جان ڈالنا اور بالخصوص مختلف شعبوں میں اہلیت کا تبادلہ کرنا

ہے، سعودی عرب کے دورے کے دوران کئی معاہدوں پر بھی دستخط ہون گے

جن میں خاص طور پر توانائی اور تیل کے معاملات شامل ہیں۔

روس کی سعودی کمپنیوں کیساتھ 3 ارب ڈالرمالیت
کے 14 نئے معاہدوں پر دستخط کرنے کی تصدیق

روس کے سرمایہ کاری فنڈ کے چیف ایگزیکٹو کریل دیمتریوف نے تصدیق کی

ہے کہ سعودی کمپنیوں کیساتھ 3 ارب ڈالرمالیت کے 14 نئے معاہدوں پر دستخط

جلد کئے جائیں گے۔ اپنے ایک بیان میں دیمتروف نے کہا ان متوقع معاہدوں میں

سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو اور روسی آئل کمپنیوں کے درمیان معاہدے

بھی شامل ہیں۔

روسی عہدیدار کا مزید کہنا تھا روس کے سب سے بڑے لاجسٹک گروپ میں

سے ایک سعودی عرب کیساتھ مشترکہ سرمایہ کاری کا معاہدہ کرے گا جبکہ اس

کے علاوہ ریاض اور ماسکو کے درمیان طیاروں کی لیز کے شعبے میں بھی

سرمایہ کاری کا امکان ہے۔

دیمتروف کا یہ بھی کہنا تھا سعودی عرب اور روس کے مابین زراعت کے شعبے

میں معاہدوں کی منظوری بھی متوقع ہے، انہوں نے روسی گندم کی درآمد پر

سعودی عرب کی طرف سے ڈیوٹی کم کرنے کے اقدام کو تاریخی پیش رفت قرار

دیا اورکہا روس اور سعودی عرب میں زرعی شعبے میں بے شمار مواقع موجود

ہیں امید ہے اس شعبے میں دونوں ممالک تعاون کو فروغ دیں گے-

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن