79

علی دا ملنگ میں تے علی دا، استاد نصرت فتح علی خان کی آج 71 ویں سالگرہ

Spread the love

لاہور(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) نصرت فتح علی خان

عالمی شہرت یافتہ گلوکار و موسیقار استاد نصرت فتح علی خان کی 71 ویں

سالگرہ ( آج) 13 اکتوبر بروز اتوار کو منائی جارہی ہے، اس موقع پر ان کے اہل

خانہ، دوست احباب اور مداحوں نے ان کی روح کے ایصال ثواب اور درجات کی

بلندی کیلئے قرآن خوانی اور دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا ہے وہیں انہیں ان کی

خدمات پر خراج تحسین پیش کرنے کیلئے محافل قوالی کا بھی انعقاد کیا جارہا ہے

اکتہر سال قبل 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہونیوالے نصرت فتح علی

خان کے والد فتح علی خان اور تایا مبارک علی خان اپنے وقت کے مشہور قوال

تھے۔ ان کے خاندان نے قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر

سے ہجرت کرکے فیصل آباد میں سکونت اختیار کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: چاکلیٹی ہیرو مرحوم وحید مراد کی 81 ویں سالگرہ پر گوگل کا
بھی خراج تحسین

استاد نصرت فتح علی خان نے اپنی تمام عمر قوالی کے فن کو سیکھنے اور اسے

مشرق و مغرب میں مقبول عام بنانے میں صرف کر دی۔ انہوں نے صوفیائے

کرام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا اور ان کے فیض سے خود

انہیں بے پناہ شہرت نصیب ہوئی۔ آپ کی دادا افغانستان کے دارالحکومت کابل کے

رہنے والے پٹھان کے شاخ نورزئی سے تعلق رکھتے تھے جو بعد میں بھارت

مشترکه ہندوستان کے صوبے مشرقی پنجاب کی شھر جلندھر میں آبسے-

مشہور قوالی “علی مولا علی”

پاکستان میں نصرت فتح علی خان کا پہلا تعارف اپنے خاندان کی روایتی رنگ

میں گائی ہوئی ان کی ابتدائی قوالیوں سے ہوا۔ ان کی مشہور قوالی ’علی مولا

علی‘ انہی دنوں کی یادگار ہے۔ بعد میں انہوں نے لوک شاعری اور اپنے ہم عصر

شعرا کا کلام اپنے مخصوص انداز میں گا کر ملک کے اندر کامیابی کے جھنڈے

گاڑے اور اس دور میں ’سن چرخے مٹھی مٹھی مٹھی کوک ماہی مینوں یاد آوندا‘

اور ’سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام‘ نے عام طور پر قوالی سے لگاؤ

نہ رکھنے والے طبقے کو بھی اپنی طرف راغب کیا اور یوں نصرت فتح علی

خان کا حلقہ اثر وسیع تر ہو گیا۔

یادگار قوالی ’دم مست قلندر مست مست‘

آپ صحیح معنوں میں شہرت کی بلندیوں پر اس وقت پہنچے جب پیٹر جبریل کی

موسیقی میں گائی گئی ان کی قوالی ’دم مست قلندر مست مست‘ ریلیز ہوئی۔ اس

مشہور قوالی کے منظر عام میں آنے سے پہلے وہ امریکہ میں بروکلن اکیڈمی آف

میوزک کے نیکسٹ ویوو فیسٹول میں اپنے فن کے جوہر دکھا چکے تھے، لیکن

’دم مست قلندر مست مست‘ کی ریلیز کے بعد انہیں یونیورسٹی آف واشنگٹن میں

موسیقی کی تدریس کی دعوت دی گئی۔

فلم ’ڈیڈ مین واکنگ‘ کا ساؤنڈ ٹریک
پہلی شاہکار تخلیق

بین الاقومی سطح پر صحیح معنوں میں ان کا تخلیق کیا ہوا پہلا شاہکار 1995ء

میں ریلیز ہونے والی فلم ’ڈیڈ مین واکنگ‘ کا ساؤنڈ ٹریک تھا۔ بعد میں انہوں نے

ہالی وڈ کی فلم ’دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ‘ اور بالی وڈ میں پھولن دیوی کی

زندگی پر بننے والی متنازع فلم ’بینڈٹ کوئین‘ کے لیے بھی موسیقی ترتیب دی۔

نصرت فتح علی خان نے جدید مغربی موسیقی اور مشرقی کلاسیکی موسیقی کے

ملاپ سے ایک نیا رنگ پیدا کیا۔ اور نئی نسل کے سننے والوں میں کافی مقبولیت

حاصل کی۔

بحیثیت قوال 125 آڈیو البم ورلڈ ریکارڈ

انہوں نے کئی بھارتی فلموں کی موسیقی دی اور کئی میوزک البمز بھی ریلیز

کئے، نصرت فتح علی خان نے بحیثیت قوال 125 آڈیو البم ریلیز کئے جوکہ ورلڈ

ریکارڈ ہے انہیں پاکستان سمیت کئی حکومتوں اور اقوام متحدہ نے شاندار فنی

خدمات کے اعتراف میں متعدد سرکار ی اعزازات سے نوازا وہ 49 سال کی عمر

میں 16 اگست 1997 کو اپنے لاتعداد مداحوں کو چھوڑ کر دنیا فانی سے رحلت

کرگئے، لیکن وہ آج بھی اپنے مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

حق مغفرت فرمائے ،الہٰی آمین