47

ٹرمپ کا اعتراف، متاثرہ ممالک کو امریکہ کیخلاف عالمی عدالت جانا چاہیئے!

Spread the love

ٹرمپ کا اعتراف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعتراف کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی فوجی

مداخلت ایک بدترین فیصلہ تھا۔ انہوں نے اس امر کا بھی اعتراف کیا ہے کہ

امریکی فوج کو عراق میں وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے

نام پر بھیجا گیا تھا مگر وہاں پر ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ امریکی صدر نے انسانیت

کیخلاف امریکی جرائم کا اعتراف اس وقت کیا ہے جب امریکی فوج کشی کے

نتیجے میں کئی ممالک تباہ ہوگئے ہیں، لاکھوں افراد بے گناہ مارے گئے اور

کروڑوں افراد اس کے نتیجے میں متاثر ہوئے۔ شہرکے شہر کھنڈر بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں: “اِس ہاتھ دے اْس ہاتھ لے” کا اصول ہی سکہ رائج الوقت

امریکی حکومت اس سے قبل باقاعدہ اس امر کا اعتراف بھی کرچکی ہے کہ نائن

الیون میں اسامہ بن لادن کی شمولیت کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ سانحہ نائن الیون

کا اسامہ بن لادن پر الزام لگا کر امریکہ نے افغانستان میں تباہی پھیلادی جس سے

پاکستان بھی شدید متاثر ہوا۔ دہشت گردی کیخلاف اس نام نہاد جنگ میں پاکستان

کے 70 ہزار سے زائد افراد مارے گئے جبکہ اس کے نتیجے میں پاکستان خود

بھی دہشت گردی کا شکار رہا۔ یہ سب کچھ امریکہ کی جانب سے جنگی جرائم کا

اعتراف ہے۔ ٹرمپ کا اعتراف

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ پر جنگ کے منڈلاتے بادل

اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیے کہ پاکستان، افغانستان، عراق، لیبیا ودیگر متاثرہ

ممالک عالمی عدالت انصاف میں امریکہ کیخلاف مقدمہ دائر کریں تاکہ خطے

میں ہونیوالے نقصانات کے ازالے کیلئے امریکہ پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے۔

امریکہ نے لاکربی میں ہونیوالے ہوائی جہاز کو تباہ کرنے کے الزام میں لیبیا

سے اربوں ڈالر وصول کیے۔ یہ محض چند سو افراد کو مارنے کا جرمانہ وصول

کیا گیا مگر امریکہ نے تو لاکھوں افراد کو جان بوجھ کر مارا، پورے کے پورے

ملک تباہ کردیے، کروڑوں افراد اس سے متاثر ہوئے جس کا اعتراف خود صدر

امریکا کررہا ہے۔ اس پر پاکستان ہی کو پیش قدمی کرنا چاہیے اور عالمی عدالت

انصاف سے رجوع کرنا چاہیے۔ صرف یہ ہی نہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی

تباہ ہونیوالے ممالک کو بھاری جرمانہ ادا کریں بلکہ وہ اس امر کا بھی عہد کریں

کہ آئندہ کسی بھی ملک کے معاملات میں دخل دیں گے نہ ہی حملہ آور ہونگے۔

ضرور پڑھیں: امریکہ ایران کشیدگی، عالمی امن کیلئے ایک اور خطرہ

امریکہ کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو انکشاف ہوتا ہے کہ دنیا میں سب سے

زیادہ دہشت گردی پھیلانے والا ملک امریکہ ہی ہے۔ گزشتہ نصف صدی سے

زیادہ عرصے سے امریکہ مسلسل حالت جنگ میں ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ

کسی ملک نے امریکہ پر حملہ کردیا ہو بلکہ ہر مرتبہ امریکہ ہی کسی آزاد ملک

پر حملہ آور ہوا ہے۔ امریکہ کے اس دہشت گردانہ کردار کی وجہ سے دنیا غیر

محفوظ ہوگئی اور امن و سکون رخصت ہوگیا ہے۔ دنیا کو اب امریکہ کو اس

کردار کی مزید ادائیگی سے روکنے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

اور پڑھیں: ٹرمپ کا اعلان، مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی پالیسی کا نیا رخ

امریکی صدر ٹرمپ کے اعتراف جرم کے بعد بھی عالمی ادارے حرکت میں

نہیں آئیں گے تو کب عالمی امن کیلئے وہ اپنا کردار ادا کریں گے۔ یہ بھی یاد

رہے کہ اسرائیل فلسطین میں اور بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ کررہا ہے

وہ بھی امریکہ کی آشیر باد سے ہو رہا ہے اور اب امریکہ پراکسی وار لڑ رہا

ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74

ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’ہمارے پاس دو راستے ہیں۔ سرنڈر یا

جنگ، وزیراعظم عمران خان کا مذکورہ خطاب یقینا بہت اہم ہے۔ تاہم وزیراعظم

عمران خان کے خطاب کو مکمل طور پر عوام کے جذبات، پاکستان کے مفادات

اور عالم اسلام کی توقعات کے مطابق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ بات بہت اہم ہے

کہ ’’سرنڈر‘‘ مسلمانوں کی جنگی یا جہادی تاریخ کا کبھی حصہ نہیں رہا۔

سرنڈر کا لفظ ملت اسلامیہ کی ڈکشنری میں نہیں

مدمقابل کس قدر طاقتور اور خوفناک کیوں نہ ہو، سرنڈر کے آپشن پر کبھی غور

نہیں کیا گیا۔ بدر، احد، خیبر، موتہ، یرموک اور کربلا کے میدان میں کئی گنا

زیادہ لشکروں سے مقابلہ کیا گیا۔ بازوکٹ گئے، تلواریں ٹوٹ گئیں، سر نیزوں پر

بلند ہوگئے مگر سرنڈر کے لفظ کو سننا تک پسند نہ کیا گیا۔ ابوجہل سے تاریخ

میں ’’اہل حق‘‘ ہی کو فاتح قرار دیا گیا۔

اسوہ شبیری ہمارے سامنے بڑی اور واضح مثال

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، خلفائے راشدین اور نواسہ رسول صلیٰ اللہ

علیہ وآلہ وسلم کے بعد جب عام مسلمان بھی میدان جنگ میں اْترتے تو انہوں نے

بھی ’’سرنڈر‘‘ کے آپشن پر کبھی غور نہیں کیا۔ محمد بن قاسم، طارق بن زیاد،

موسیٰ نصیر، سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان محمد فاتح، سلطان محمود غزنوی

اور ٹیپو سلطان کی تاریخ گواہ ہے دشمن اپنی تمام تر طاقت اور عددی اکثریت

کے باوجود مسلمان مجاہدین کے سامنے ٹھیر نہ سکا۔ بیت المقدس سے سومنات

کے مندر تک کا جنگی منظر بھی کیا خوب ہے کہ جہاں مسلمان مجاہدین نے

صلیب اور بت کو ایک ہی ضرب میں پاش پاش کردیا۔

جارح عالمی قوتوں کی شکست و ریخت کی داستانیں

برطانیہ، سوویت یونین (روس) امریکہ اور نیٹوممالک آج کے دور میں سب سے

طاقتور افواج کے حامل ممالک ہیں، مگر جب یہ افغانستان جیسے غریب اور

پسماندہ ملک پر حملہ آور ہوئے تو افغان مجاہدین اور عوام نے ایک اللہ کے

بھروسے پر اِن تمام جارح قوتوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا۔ مسلمانوں

کی شاندار تاریخ جو بدر، احد، خیبر، موتہ، یرموک اور کربلا سے گزرتی ہوئی

افغانستان تک جارہی ہے اس میں ’’سرنڈر‘‘ کا راستہ کبھی اختیار نہیں کیا گیا۔

محاہدین کا نعرہ “اللہ اکبر” منزل شہادت یا غازی

ہر دور اور ہر میدان میں مسلمان مجاہدین ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے میدان

جنگ میں اْترے اور جس کا اختتام غازی یا شہید پر ہوا۔ تاریخ اسلام میں ایسی

کوئی مثال نہیں کہ ’’سرنڈر‘‘ بھی کوئی راستہ ہو، جبکہ غیرت اور ایمان بھی

اِس طرح کا راستہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتے، جبکہ جنرل نیازی کی

تاریخ کو بھی پاکستان اور عالم اسلام کے مسلمان سیاہ باب قرار دیتے ہوئے

مسترد کرچکے ہیں۔ بھارت کی سلامتی کی ضمانت مودی سرکار کے پاس نہیں

اہل مقبوضہ کشمیر کے ہاتھ میں ہے، جس طرح مشرقی وسطیٰ میں ’’امن‘‘ کی

کنجی اسرائیلی وزیراعظم نہیں ’’مسجد اقصیٰ‘‘ کے امام کے پاس ہے۔

مسئلہ کشمیر پر ہمارا کردار افسوسناک

عالمی برادری سے بار بار اپیلیں کرنا بھی داخلی و اعصابی کمزوری کی علامت

ہے۔ عالمی برادری سب جانتی ہے، ہمیں اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے، ہم دْنیا

کی بہترین فوج رکھتے اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہونے کے باوجود مقبوضہ

کشمیر سے محض کرفیو نہیں اْٹھواسکتے، کشمیری بہنوں کے سر پر دوپٹا نہیں

رکھ سکتے، کشمیری بچوں کے پیلٹ گنوں سے خون آلود چہرے صاف نہیں

کرسکتے، ہمارا یہ کردار افسوسناک اور شرمناک ہے۔

ایٹمی جنگ کا بار بار تذکرہ بزدلی

ایٹمی جنگ کے خطرے کا بار بار ذِکر کرنے اور آخر دم تک لڑنے کی بات

دہراتے رہنے سے نہ جنگ ہوگی اور نہ ہی آزادی ملے گی بلکہ وزیراعظم کے

مذکورہ الفاظ کی مسلسل تکرار اب بزدلی کے زمرے میں محسوس ہونے لگی

ہے، مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کیلئے حکومت پاکستان کو جو فوجی ردعمل

دینا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں دیا جارہا؟۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر ….. شہ رگ یا اٹوٹ انگ؟ فیصلہ کن گھڑی آگئی

مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کا اب ایک ہی حل ہے کہ غازی یا شہید۔ ہم اللہ رب

العزت سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے ’’جہاد‘‘

کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس کی آخری منزل غازی یا شہید ہو۔

ٹرمپ کا اعتراف