84

اورایجنٹ 909 نے اپنا کہا سچ کر دکھایا

Spread the love

اور 909

909 فوراً باہر کو بھاگا، اسے اپنی گاڑی کی سخت فکر تھی، ریحان اور شہزاد

بھی اس کے پیچھے پیچھے آ گئے، 909 گاڑی کے قریب کھڑا اس کا معائنہ کر

رہا تھا، دونوں بھائیوں نے 909 سے استفسار کیا کہ کیا ہوا، 909 چپ چاپ گاڑی

کے اطراف کا جائزہ لے رہا تھا،’’گاڑی سٹارٹ کروں گا تو پتہ چلے گا‘‘ 909

بولا۔

’’گاڑی سٹارٹ کیوں نہیں کرتے‘‘ ریحان نے کہا۔ ’’اسلئے کہ گاڑی سٹارٹ کرنا

خطرناک بھی ہو سکتا ہے، مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ کیا کارروائی پڑ چکی

ہے‘‘ 909 بڑبڑاتے ہوئے بولا۔ اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر کھڑے

کھڑے سیلف مارا، گاڑی سٹارٹ نہ ہوئی، 909 نے دو تین بار ایسا کیا لیکن گاڑی

کا انجن ٹس سے مس نہ ہوا، اس نے اگنیشن سے چابی باہر نکالی، دروازہ بند کیا

اور بونٹ کو کھول کر دیکھنے لگا، اچانک اس کے اندر ایک سنسنی سی دوڑ

گئی، ریحان اور شہزاد بھی اس کے پاس آ کر کھڑے ہوگئے اور حیرانگی سے

دیکھنے لگے، گاڑی کی اندرونی تمام تاریں بکھری پڑی تھیں۔ ’’گاڑی کا الارم

آن تھا اس کے باوجود اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی الارم نہیں بجا، حیرت کی بات

ہے‘‘ 909 زیر لب بڑبڑایا، اس نے بونٹ کوبند کیا اور دونوں بھائیوں کوساتھ

اندر چلنے کا کہا۔

یہ بھی پڑھیں: کالا جادو، خونخوار لومڑیاں اور909 کا چڑیل کی مدد کا فیصلہ

تینوں دوبارہ ڈرائنگ میں آ کر بیٹھ گئے، کافی دیر تینوں خاموش رہے، 909 نے

ریحان اور شہزاد سے کہا کہ یہیں لیٹے لیٹے آرام کر لو، باہر نکلنا مناسب نہیں،

میں بھی ذرا سستانے لگا ہوں، کچھ بھی سوچنا فضول ہے، آج رات تک سب کچھ

ٹھیک ہو جائیگا، ابھی اتنا کہنا ہی تھا باہر تیز ہوائوں سے درختوں کے جھومنے

کی آوازیں آنے لگیں، کمرے کی آب و ہوا بھی یکدم بدل گئی، شہزاد نے اٹھ کر

کھڑکی کا پردہ ہٹایا تو باہر تیز ہوا چل رہی تھی،’’یہ ٹھیک نہیں، اب رکاوٹیں پیدا

ہونا شروع ہو گئی ہیں‘‘ 909 نے شہزاد سے کہا۔ شہزاد واپس کرسی پر آ کر بیٹھ

گیا-

مزید پڑھیں: رجو کی الوداعی ملاقات، یہودی کی بیوی کا قتل اورشیطانی طاقتیں

909 نے اپنی کمر کھڑکی کی طرف کر لی اور سنگل صوفے سے ٹیک لگا کر

سستانے لگا، شہزاد بھی صوفے پر ڈھیر ہو گیا، ریحان کب کا سو چکا تھا اس کو

خوف سے ہی نیند آ گئی تھی، 909 اپنے دماغ میں آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے

سوچ رہا تھا وہ جانتا تھا کہ اسی دوران اسے نیند آ جائے گی اور پھر ذرا سے

لمحے کیلئے دماغ میں ایک خیال یا چلتی تصویر ابھرے گی اور وہی اس کھیل کا

انت ہو گا۔ کچھ ہی دیر میں 909 خراٹے بھر رہا تھا، پھر اچانک جیسے دھماکے

ہونے لگے، اس کے شور سے تینوں تو کیا پورا محلہ اٹھ گیا، بارش اور طوفان

کیساتھ زور شور سے اولے برسنا شروع ہو گئے تھے اور وہ کھڑکیوں کے

شیشوں پر پتھر کی طرح بج رہے تھے-

ادھر تمام گاڑیوں کے الارم بجنا شروع ہو گئے، کچھ دکانوں کے سیکیورٹی الارم

بھی بج اٹھے، وہ انتہائی خوفناک منظر تھا، ہر جانب دہشت زدہ شور کی آوازیں

تھیں، اچانک درخت کی ایک شاخ اڑتے ہوئے کمرے کی کھڑکی سے آ لگی، یوں

محسوس ہوا کہ ایسے کسی نے زوردار مکا جڑ دیا ہے، شیشہ لازمی ٹوٹ جاتا

لیکن اس کو خراش تک نہ آئی، یہ ڈبل گلیزنگ کا کمال تھا کہ اس قدر زور سے

درخت کی شاخ لگنے کے باوجود کھڑکی محفوظ رہی، البتہ شدید ژالہ باری سے

باہر کھڑی گاڑیوں کا کباڑہ ہو جانا یقینی تھا۔ طوفان ایک گھنٹہ جاری رہا۔ 909

اور شہزاد دو بارہ سو گئے۔ پھر کمرے میں دھوپ آنے کا احساس ہوا، سورج

اپنی پوری آب و تاب کیساتھ چمک رہا تھا، یہ کافی دنوں کے بعد ایک روشن

صبح تھی، 10 بج چکے تھے، کمرے میں موجود تینوں اٹھ کر بیٹھ گئے-

رات کے تمام واقعات خواب معلوم ہو رہے تھے، ریحان اور شہزاد اٹھ کرعلیحدہ

علیحدہ باتھ رومز میں گھس گئے، 909 صوفے پر ہی پڑا رہا، 45 منٹ کے بعد

ریحان کمرے میں داخل ہوا وہ تازہ دم دکھائی دے رہا تھا، ساتھ ہی شہزاد بھی آ

گیا، 909 ان کی کمرے میں آمد محسوس کر تے ہوئے اٹھ گیا اور باتھ روم میں

گھس گیا، ایک گھنٹہ بعد جب وہ باہر نکلا تو کچن کیساتھ منسلک ڈائنگ ٹیبل

ناشتے سے سجا ہوا تھا،

909 نے دونوں بھائیوں کیساتھ خاموشی سے ناشتہ کیا، یہ خاصا بھرپور ناشتہ

تھا، شہزاد بولا ’’رات کے طوفان سے ٹھیک ٹھاک نقصان ہوا ہے، ٹی وی پر

خبروں میں نقصانات کی فوٹیج دیکھ کر میں تو حیران رہ گیا ہوں کہ یہ اس قدر

خوفناک طوفان تھا‘‘ واقعی کافی نقصان ہوا ہو گا، دوپہر 2 بجے کے بلیٹن میں

پتہ چلے گا کہ کیا کچھ ہوا ہے‘‘ 909 بولا،’’بھائی اب کیا کرنا ہے‘‘ شہزاد نے

909 سے پوچھا’’کرنا کیا ہے؟ باغ کی کھدائی کرینگے، اس دوران بارش آئیگی،

بادل کالے سیاہ ہو جائیں گے، ہمیں پھر بھی اپنا کام کرنا ہو گا، یہی پلان ہے‘‘یہ

کہہ کر وہ باہر نکل گیا اور گاڑی میں سے سپلف نکال کر اسے وہیں سلگا لیا،

پھر ڈکی میں سے ضروری سامان نکال کر سب کچھ اندر لے آیا، اس نے باغ کی

بڑی کھڑکی کو کھولا، گھاس گیلی جبکہ سائیڈوں میں درخت خشک ہو چکے

تھے اورتیز ہوا میں لہلا رہے تھے-

909 نے مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر اس کی کھدائی شروع کر دی، کھودتے کھودتے

اس کو پسینہ آ گیا، ریحان نے کہا ’’باقی کی کھدائی میں کر دیتا ہوں‘‘ 909 نے

انکار کر دیا اور مسلسل کھدائی کرتا رہا۔ کوئی لگ بھر 4 فٹ گہرا کھڈا کھودنے

کے بعد ایک سیاہ رنگ کا کمبل دکھائی دینے لگا،’’پیچھے ہٹ جائو‘ دور چلے

جائو‘‘ ریحان اور شہزاد پیچھے ہٹ گئے، 909 نے اپنی کمر سے لپٹے ایک

کپڑے کو اتارا اور اسے اس کالے کمبل کے اوپر پھینک دیا، اسی دوران دو

لومڑیاں جو دن کے وقت کبھی دکھائی نہیں دیتی تھیں اچانک پچھلی باڑ سے

نمودار ہو گئیں اور غرانے لگیں، ریحان اور شہزاد نے اپنی انکھوں سے دیکھا

کہ اچانک کالے رنگ کے گہرے سیاہ بادل آسمان پر نمودار ہونا شروع ہو گئے،

موسم اچانک دھوپ سے شام میں تبدیل ہو گیا،

909 نے کپڑے پر ہاتھ رکھ کر اس کالے کمبل کو اٹھا لیا اور اسے اپنے کپڑے

کیساتھ لپیٹ دیا، اس میں ہڈیاں اور کیل تھے جو دکھائی نہیں دے رہے تھے لیکن

909 جانتا تھا اس میں کیا کچھ ہو سکتا ہے، پھر اس نے فوراً جیب میں سے ایک

چھوٹی سی بوتل نکالی، اس میں پٹرول تھا، اس سے پہلے کہ وہ پٹرول کو کپڑے

پر چھڑکتا بارش کے قطرے گرنا شروع ہو گئے، 909 زیر لب مسکرایا اور اپنا

کام جاری رکھا، اس نے پٹرول چھڑک کر کپڑے کو آ گ لگا دی، لومڑیاں بھی

بھاگ گئیں اور وہ بھی ریحان اور شہزاد کیساتھ آ کر کھڑا ہو گیا، تھوڑی دیر بعد

اس نے گاڑی میں سے نکالے گئے سامان میں سے ایک خشک اور خاص قسم

کی لکڑی نکالی اور اسے پٹرول سے تر کرکے آگ میں پھینک دیا، آگ مزید

بھڑکنا شروع ہو گئی، تیز ہوا اور موسم کے باعث بچت ہو گئی ورنہ ہمسائے فوراً

پولیس کو کال کر دیتے، بارش بھی تیز ہو گئی،

909 بھاگا اور سامنے موجود مشکوک قسم کے لکڑی کے ہٹ کو ٹھوکر ماری،

لکڑی کا دروازہ ٹوٹ کر پیچھے کو جا لگا اس نے اندر کا جائزہ لیا تو وہاں بھی

خاصی خشک لکڑی موجود تھی، اس نے دو تین موٹی لکڑیاں اٹھائیں ان پرذرا سا

پٹرول چھڑکا اور انہیں آگ پر پھینک دیا، آگ اس طرح اثر نہیں کر رہی تھی

جیسا کہ اسے ہونا چاہئے تھا، اس نے ہمت نہ ہاری اور اسے ہوا سے محفوظ

بنانے کیلئے سوچنے لگا، اس نے اندر سے پلاسٹک کا بڑا میز پکڑا اور اسے

کھول کرآگ کے اوپر رکھ دیا، اسی دوران اس نے سائیڈوں پرکرسیاں لا کر رکھ

دیں اچانک بارش تھم گئی لیکن ہوا تیز چل رہی تھی، اس کی کاریگری رنگ لائی

اور آگ تیز ہو گئی بلکہ اس نے پلاسٹک کے میز کو بھی اپنی پکڑ میں لینا شروع

کر دیا، اچانک لکڑی کے ہٹ میں کھٹ پٹ ہونا شروع ہو گئی-

کالا کمبل جل چکا تھا اس میں موجود چیزوں کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا

تھا، 909 کو ڈھیر سارے کالے پتھر اور ایک پتلا سا دکھائی دیا اس نے آگے بڑھ

کر بوتل میں موجود سارا پٹرول اس پر گرا دیا یکدم آگ اوپر کو بھڑکی اور پھر

پلاسٹک کا میز جل کر نیچے موم کی طرح گرنے لگا،15 منٹ بعد آگ بجھ گئی

سب کچھ راکھ ہو چکا تھا، میز کی سائیڈ پر کرسیاں بھی کالی سیاہ ہو چکی تھیں۔

’’کام ہو گیا‘‘ 909 مسکراتے ہوئے بولا، اس نے وہ سارا جلا ہوا پائیدان میں

اکٹھا کیا اور اسے غور سے دیکھنے لگا، کالے پتھر وں پر یہودی نے پھونک

رکھا تھا، ان پتھروں کے نیچے کچھ ہڈیاں اور بال تھے وہ ریت بن چکے تھے،

909 نے ملبے کو پلاسٹک کے تھیلے میں ڈالا اور اسے باہر گیراج میں موجود

سرکاری بن میں پھینک دیا، پھر اس نے واپس باغ میں آ کر مٹی ڈال کر گڑھے

کو برابر کیا اور ایک اگربتی جلا کر ہٹ کے اندر لگا دیا، اس عمل کے بعد وہ

شہزاد اور ریحان کیساتھ اوپر کمرے میں چلا گیا۔ تینوں نے مل کر بیڈ کو ہٹایا،

909 نے مضبوط کارپٹ کو چھرے سے کاٹا اور نیچے لکڑی کے فرش کا جائزہ

لینے لگا اسے ایک جگہ سے فرش اکھڑا ہوا معلوم ہوا اس نے فوراً اسکو چھرے

کی نوک سے اکھاڑنا شروع کر دیا تو نیچے کالے رنگ کی تھیلی برآمد ہوئی،

909 نے اسے چھرے کی نوک سے اٹھایا، باہر نکالا اور اسی حالت میں اسے

سیدھا باہر سرکاری بن کے پاس لے گیا اور ڈھکن اٹھا کر اس میں پھینک دیا، پھر

کاسٹک سوڈے کی بوتل میں سوڈا نکال کر اس کے اوپر پھیلا دیا اور پانی پھینکنا

شروع کر دیا، کالے رنگ کی تھیلی پگھلنا شروع ہو گئی، بن میں موجود کچرا

بھی گلنے لگا، شدید بدبو اٹھ رہی تھی، 909 دائیں بائیں دیکھ رہا تھا کہ کوئی

اسے دیکھ تو نہیں رہا، پھر اس نے بن کا ڈھکن بند کیا اور اندر آ کر باتھ روم میں

گھس گیا-

تھوڑی دیر بعد وہ نہا دھو کر باہر نکلا اور بولا تم لوگوں کا کام ہو گیا ہے اس

خبیث جادوگر نے اپنی بیگم کی روح کو قید کر رکھا تھا اب وہ آزاد ہو گئی ہے

اس گھر میں اب اس کا کوئی کام نہیں، یقین نہیں آتا تو خود کمرے میں جا کر

دیکھ لو، واقعی کمرے کی کھڑکی کھلی تھی اور چڑیل جا چکی تھی۔-جاری

اور 909

Agent 909 Dr,I.S introduction