92

خالصتان تحریک کے پیچھے پاکستان نہیں، برطانوی کمیشن

Spread the love

لندن(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک ) خالصتان تحریک

برطانوی کمیشن نے پاکستان کو سکھوں کی الگ ملک خالصتان کیلئے جاری

تحریک سے بری الذمہ قراردیتے ہوئے کہا ہے خالصتان تحریک کے پیچھے

پاکستان کا ہاتھ نہیں ہے۔ سکھ برادری کا خالصتان کا مطالبہ اور شدت پسندی

کیخلاف برطانوی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے خالصتان تحریک کے

پیچھے پاکستان کا ہاتھ نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق سکھ بھارتی پالیسیوں سے

خوش نہیں ہیں اوربرطانیہ میں مقیم ہندوئوں اورسکھوں کے درمیان بھی تنائو

یایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فسادات 1984، سکھوں کے قتل کے جرم میں کانگریس رہنما کو عمرقید

کمیشن کے مطابق اوورسیزسکھ کمیونٹی شناخت کے حوالے سے زیادہ متحرک

ہے۔ کمیشن کی رپورٹ میں جائزہ لیا گیا کہ بیرون ملک مقیم سکھ خالصتان کیلئے

زیادہ متحرک ہیں اور گولڈن ٹیمپل حملے کے بعد علیحدہ وطن کے مطالبے میں

اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ سکھوں کی اکثریت علیحدہ

ملک کا قیام چاہتی ہے جبکہ بھارتی حکومت اورمیڈیا کا رویہ سکھ علیحدگی

پسندی کو مزید ہوا دے رہا ہے۔

یاد رہے بھارت شروع دن سے ہی سکھ برادری کی جانب سے چلائی جانیوالی

علیحدگی کی تحریک جسے وہ خالصتان کا نام دیتے ہیں کے پیچھے پاکستان کی

معاونت کا الزام دھرتا چلا آ رہا ہے تاہم حالیہ برطانوی کمیشن کی رپورٹ سامنے

آنے پر بھارت کی جانب سے کیا جانےوالا پاکستان کےخلاف ایک اور منفی

پروپیگنڈا بے نقاب ہو کر اپنی موت آپ مر گیا ہے، کیو نکہ برطانوی کمیشن کی

رپورٹ میں یہ بھی واضح طور ہر کہا گیا ہے کہ سکھ برادری کی محرومیوں اور

ان سے روا رکھی جانےوالی ناانصافیوں کے ذمہ دار بھارت سرکار اور میڈیا ہیں

خالصتان تحریک