53

حکومت کو ہر حال میں جانا ہوگا ،ا پوزیشن

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے ایک بار پھرواضح کیا ہے

کہ حکومت کو مزید وقت نہیں دیا جائے گا، حکومت کو ہر حال میں گھر بھیجا

جائیگا ، وزیر اعظم عمران خان فوری مستعفی ہوں، فوج کی مداخلت کے بغیر نئے

الیکشن کرائے جائیں،جس طرح کشمیر کو بیچ دیا ہے اسی طرح منافع بخش اداروں

کو بیچنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے ،حکومت نے منافع بخش نیشنل بنک کو

بھی بیچنے کا فیصلہ کر لیا ہے،ہمیں خوف ہے کہ یہ حکومت پاکستان کو نہ بیچ

دے، آئین پاکستان کی تمام دفعات پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہیں، آئین احتجاج کا

حق دیتا ہے، آزادی مارچ بھی ملین مارچ کی طرح پرامن ہوگا، کسی سے تصادم

نہیں چاہتے، خیبرپختونخوا میں آرڈیننس جاری کیا گیا ہے کہ کسی کو کہیں بھی

گرفتار کیا جاسکتا ہے، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نے مارشل لا ء

لگادیا، حکومت نے سی پیک اتھارٹی کا آرڈیننس جاری کیا ہے ،حکومت پارلیمنٹ

کو مسلسل نظرانداز کرکے بیک ڈور قانون سازی کر رہی ہے ،سی پیک پارلیمانی

کمیٹی میں یہ مسودہ پیش کیا گیا تھا جسے کمیٹی نے مسترد کردیا تھا ، سی پیک کو

متنازع کرنے کی کوشش کی ہے، سی پیک اتھارٹی سے وزارتوں کے دوران رسہ

کشی شروع ہوجائے گی۔ ان خیالات کا اظہار منگل کو اپوزیشن کی رہبر کمیٹی

کے اجلاس کے بعد کنونیئر اکرم خان درانی،مسلم لیگ (ن)کے احسن اقبال ،اے این

پی کے میاں افتخار احمد اور پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر نے کیا۔قبل

ازیںاپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس کنونیئر اکرم کان درانی کی زیر صدارت

اسلام آباد میںہوا،جس میں اپوزیشن رہنما احسن اقبال، نیئر حسین بخاری، فرحت اللہ

بابر، طاہر بزنجو، میاں افتخار احمد اور اویس نورانی و دیگر نے شرکت کی۔رہبر

کمیٹی کا اجلاس تقریباً اڑھائی گھنٹے جاری رہا ۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو

کرتے ہوئے رہبر کمیٹی کیکنونیئر اکرم خان درانی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں

کی قیادت کے اے پی سی کے کافی اجلاس ہوئے، اپوزیشن جماعتوں نے حکومت

کے خلاف تحریک پر کافی مشاورت کی اور آخری سربراہی اجلاس میں حکومت

کو مزید وقت نہ دینے پر اتفاق ہوا تھا ،طے ہوا تھا کہ حکومت مزید رہی تو بہت

تباہی ہوگی،جتنی دیر یہ حکومت رہے گی اتنا معیشت کو نقصان ہوگا ، آج بھی

اجلاس میں یہی فیصلہ ہوا کہ حکومت کو گرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک

میں صنعتیں، کارخانے اور کاروبار بند ہیں، تاجر ہڑتال پر ہیں، مزدور طبقے کو

کہیں روزگار نہیں مل رہا، کے پی میں 12دن سے ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں ،خیبر

پختونخوا میں ایمرجنسی اور او پی ڈی بند ہیں، فاٹا کے 22ہزار افراد احتجاج پر

ہیں، واپڈا والے بھی نجکاری کیخلاف احتجاج کو تیار ہیں،ملک کو بھکاری اور

لوگوں کو بے روز گار کردیا ہے، پورے ملک کے کارخانے بند کردیئے گئے،

میڈیا پر قدغن ہے، اظہار رائے کی آزادی نہیںملک کا کوئی ایسا طبقہ نہیں جو

خوشحال ہوجس طرح کشمیر کو بیچ دیا ہے اسی طرح منافع بخش اداروں کو

بیچنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے ،حکومت نے منافع بخش نیشنل بنک کو بھی

بیچنے کا فیصلہ کر لیا ہے،ہمیں خوف ہے کہ یہ حکومت پاکستان کو نہ بیچ دے۔

انہوں نے کہا کہ جس انداز میں میڈیا پر پابندیاں ہیں لوگ اب بیرون ملک جا کر بتا

رہے ہیں ۔رہبر کمیٹی کے کنونیئر اکرم خان درانی نے ایک بار پھر ویراعظم سے

استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں وزیر اعظم عمران خان

فوری مستعفی ہوں، فوج کی مداخلت کے بغیر نئے طریقے سے الیکشن کرائے

جائیں،مولانا اتنے پرانے سیاستدان ہے کہ مذہبی کارڈ استعمال کرنے کی ضرورت

نہیں۔