65

مقبوضہ کشمیر ،66ویں روز بھی معمولات زندگی مفلوج

Spread the love

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 65ویں روز بھی وادی

کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں فوجی محاصرے اور مواصلاتی

ذرائع کی معطلی کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج رہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے

مطابق علاقے میں 5اگست سے تمام بازار بنداور ٹریفک معطل ہے جبکہ لوگوں کو

خوراک اور ادویات سمیت اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اگرچہ

قابض انتظامیہ نے تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر کھول دیے ہیں تاہم طلباء اور

عملہ سکولوں اور دفاتر سے غائب ہیں۔ قابض انتظامیہ دعویٰ کررہی ہے کہ دفاتر

کھلے ہیں اور طلباء کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے لیکن حقائق ان دعوئوں

کے بالکل برعکس ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے 5اگست سے

گرفتار کئے گئے تمام کشمیریوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی

ترجمان کے مطابق این سی کے صدر نے یہ بات 15رکنی پارٹی وفد سے گفتگو

کرتے ہوئے کہی جس نے ان کی نظربندی کے بعد پہلی بار اتوار کو سرینگر میں

ان سے ملاقات کی۔ حیدر آباد میں NALSARیونیورسٹی برائے قانون کے وائس

چانسلر فیضان مصطفی نے مدراس میں ایک لیکچر کے دوران کہا کہ بی جے پی

کی حکومت نے کشمیر میں دفعہ 370ختم کرکے غلطی کی ہے۔ انہوںنے اس

مسئلے پر کئی قانونی نکتے اٹھاتے ہوئے کہاکہ یہ انضمام کا مسئلہ نہیں ہے

اورعلاقے کے مسائل کو اس طرح طاقت اور پابندیوں سے حل نہیں کیا جاسکتا۔