Aazad Kashmir Rehabilitation Projetcs after 8th October 2005 Earth Quake. 54

8 اکتوبرزلزلہ، 125 ارب کا مالی نقصان، تعمیرنو کیلئے آج بھی 40 ارب درکار

Spread the love

مظفر آباد،پشاور(جے ٹی این آن لائن نیوز) زلزلہ نقصان تعمیرنو

سیکرٹری سیرا زاہد عباسی کا کہنا ہے 8 اکتوبر 2005 کو آئے زلزلے سے تباہ

حال آزاد کشمیر علاقوں میں تعمیرنو پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل

کیلئے آج بھی 40 ارب روپے درکار ہیں،5541 منصوبے مکمل ہو کرلائن

ڈیپارٹمنٹس کے سپرد ہوچکے ہیں۔ امسال مالی بحران کے باوجود 104 منصوبے

مکمل کئے گئے ہیں، اس وقت 1300 پراجیکٹس پر کام جاری ہے جبکہ مالی

مشکلات کے باعث بقیہ901 منصوبہ جات پر کام کا آغاز ہی نہیں ہوسکا، 2010ء

سے تعمیرنو پروگرام مالیاتی بحران کاشکار ہے۔ آزادکشمیر کے انفراسٹرکچر کو

125 ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ 207 ارب روپے کے منصوبہ جات مکمل

کرنے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر، خیبر پختونخوا میں آئی قیامت صغریٰ کو 14 برس مکمل

آزادکشمیر کا خطہ زیر زمین دو فالٹ لائنوں پرواقع ہے جس میں زلزلہ مزاحم

تعمیرات کرکے قیمتی جانی ومالی نقصانات کے خطرات کو کم کرنے کے اقدامات

وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گزشتہ ماہ 24 ستمبر کو میرپور آزادکشمیر میں آنیوالے

زلزلہ کے نتیجہ میں 41 قیمتی انسانی جانوں کے لقمہ اجل بننے اوراربوں روپے

مالیت کی سرکاری ونجی املاک کی تباہی نے سانحہ زلزلہ 2005ء کے غم اور

زخم تازہ کردئیے-

سیرا میر پور زلزلہ متاثرین کی بحالی و تعمیر نو
کیلئے پُر عزم

میرپور زلزلہ متاثرین کی بحالی اورتعمیر نو کیلئے سیرا کے پاس تجربہ کاراور

فعال ٹیم موجود ہے، حکومت نے مالیاتی وسائل کی فراہمی کیساتھ ذمہ داری سونپی

تو ہماری ٹیم میرپور کے زلزلہ متاثرین کی تعمیرنو کا چیلنج بھی خوش دلی کیساتھ

قبول کرنے کیلئے پُرعزم ہے،8 اکتوبر 2005ء کے زلزلہ کی وجہ سے 3 لاکھ

سے زائد مکانات، آزاد کشمیر کے نصف سے زائد رقبہ پر موجود انفراسٹرکچر

بشمول صحت، تعلیم، آب رسانی ونکاسی اورمواصلات کی تباہی ہوئی-

مزید پڑھیں: ہولناک زلزلے سے میر پور آزاد کشمیر میں تباہی

زلزلے سے 125 ارب روپے کے مالی نقصان کے بدلے میں 167 ارب روپے کے

منصوبے مکمل کیے گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر کا بیشتر حصہ بلند

و بالا پہاڑوں پرمشتمل ہے جبکہ نجی و سرکاری شعبہ میں زلزلہ 2005ء سے قبل

تعمیرات کا جو تصور تھا اُس کیلئے کوئی باقاعدہ پیشہ ور انجینئرز کی خدمات لی

جاتی تھیں نہ ہی زلزلہ مزاحم تعمیرا ت کا تصور تھا، شہری و دیہی علاقوں میں

مستریوں اورمزدورں کے ذریعے ہر کوئی اپنی سمجھ کے مطابق اپنی اپنی مرضی

کی روایتی تعمیرات کرلیتا تھا ،آر سی سی تعمیرات کا سلسلہ زلزلہ سے کچھ سال

قبل تیزی سے پھیلنا شروع ہوا تو اس وقت کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا

کہ پلر او ر بیم کے ذریعے کس طرح چھت کو زلزلہ مزاحم بنایا جاسکتا ہے اور

یہی وجہ بنی کہ جب زلزلہ آیا تو دیواریں ایک جگہ رہ گئیں اور چھتیں یکا یک

زمین بوس ہوگئیں۔

آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا میں زلزلہ
پروف تعمیرات

ریسکیو اور ریلیف کے بعد حکومت پاکستان نے بین الاقوامی برادری کے تعاون

سے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے عمل کیلئے ایرا کا ادارہ قائم کیا تو ایرا

نے آزا د کشمیر میں قائم سٹیٹ ارتھ کوئیک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن

ایجنسی اورخیبر پختوانخوا میں پیرا کے انتظامی ڈھانچہ کو بروئے کارلاتے ہوئے

تعمیر نو منصوبوں کیلئے باقاعدہ بلڈنگ کوڈز اورجدید زلزلہ مزاحم ٹیکنالوجی کے

تحت منصوبے ڈیزائن کرکے انہیں BUILD BACK BETTER کے ویژن کے

تحت تعمیر کرنا شروع کیا اور الحمد اللہ آج ڈیزائن کئے گئے 7742 منصوبوں میں

سے 5541 مکمل کرکے متعلقہ محکموں کے حوالے کردئیے گئے ہیں، تعلیم

اورصحت کے شعبوں میں جدید بین الاقوامی معیار کی سہولیات برادر اسلامی اور

دوست ممالک کے تعاون سے تعمیر کی گئی ہیں، عوام کو گھروں کی تعمیر اور

نجی املاک کیلئے ایرا اورسیرا نے زلزلہ مزاحم ڈیزائن اور تعمیرات کیلئے تربیت

بھی دی ہے-

ایرا کی ہدایات پر عمل سے
قدرتی آفات میں کم سے کم نقصان

عوام اگر قدرتی آفات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے آپکو محفوظ بنانے کیلئے ایرا

کی جانب سے دی گئی ہدایات کی روشنی میں تعمیرات کریں تو مستقبل میں خدا

نخواستہ کوئی ایسی آفت آئے تو کم از کم جانی نقصان ہو۔ آزاد جموں و کشمیر کے

زلزلہ متاثرہ ساتوں اضلاع مظفرآباد، ہٹیاں، نیلم، باغ، حویلی، پونچھ اور سدھنوتی

میں ہونیوالے 125 ارب روپے کے مالی نقصان کے بدلے میں تقریباً 210 ارب

روپے مالیتی تعمیر نو وبحالی منصوبے مکمل کرنے ہیں، جن میں سے تقریباً 167

ارب روپے کے اخراجات عمل میں آچکے ہیں۔

زلزلہ نقصان تعمیرنو، فنڈز فراہمی کا دل سوز ریکارڈ

خصوصی رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان کے فنڈز سے5333 منصوبوں کے

لیے تقریبا 52 ارب کل لاگت کا تخمینہ تھا، جس میں سے 14 ارب روپے سے زائد

اخراجات ہو چکے ہیں۔ جاریہ 1300 (مالیت 10 ارب روپے ) اوربقیہ ٹینڈرز نہ

ہونیوالے 901 (مالیت 27ارب روپے) منصوبہ جات کیلئے مزید درکار ہیں۔

2011،2010ء میں تعمیر نو منصوبوں کی تکمیل کیلئے 27 ارب روپے ایرا سے

ڈیمانڈ کی گئی، بدلے میں ساڑھے سات ارب روپے یعنی 28 فیصد فراہم کئے گئے

2011،12ء میں32.33ارب روپے کی ڈیمانڈ کے بدلے میں صرف 5.380 ارب

روپے یعنی صرف 17 فیصد دئیے گئے، اسی طرح 2012،13ء میں 16.2 ارب

روپے کے بدلے میں صرف 22 فیصد یعنی 3.564 ارب، 2013،14ء میں 14

ارب روپے کے بدلے 1.512 ارب یعنی محض 11فیصد فراہم کئے گئے، سال

2014،15 میں 10 ارب روپے کے بدلے 0.756 ارب یعنی 7 فیصد، 2015،16ء

میں چھ ارب چھیانوے کروڑ کے بدلے ایک ارب چار کروڑ اسی لاکھ ،2016،17

میں 8 ارب روپے کی ڈیمانڈ کی گئی مگر 95 کروڑ 30 لاکھ ہی دیئے گئے، سال

2017،18ء کیلئے سیرا کی ڈیمانڈ 9.16 ارب روپے تھی لیکن 1.015 ارب جبکہ

2018،19ء کیلئے ڈیمانڈ 9.5 ارب روپے کے بدلہ میں سیرا کو 1.028 ارب روپے

فراہم کئے گئے-

خصوصی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں سیرا کو تعمیرنومنصوبہ جات

کیلئے ایرا کی جانب سے ایک ارب روپے فنڈ کی فراہمی کا عندیہ ہے جس میں

تاحال 18.5 کروڑ روپے پہلی سہ ماہی قسط جاری کئے جا چکے ہیں جبکہ رواں

مالی سال میں 124 منصوبوں کی تکمیل کا ہدف رکھا گیا ہے جن میں تعلیم وصحت

کے شعبہ جات کو اولین ترجیح دی گئی ہے-

زلزلہ نقصان تعمیرنو