Earth Quake 8-10-2005 of Aazad Kashmir 54

کشمیر، خیبر پختونخوا میں آئی قیامت صغریٰ کو 14 برس مکمل، آثار آج بھی باقی

Spread the love

اسلام آباد،مظفرآباد،پشاور(جے ٹی این آن لائن رپورٹرز) کشمیر خیبرپختونخوا زلزلہ

آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں 8 اکتوبر 2005 کے قیامت خیز زلزلے کو آج

بروز منگل 14 سال مکمل ہو گئے ہیں، سانحہ کے شہدا کی برسی منائی جارہی ہیں

جبکہ قدرتی سانحات سے نمٹنے کیلیے موثر اقدامات کے عزم کا اعادہ کیا جائیگا۔

14 سال قبل 8 اکتوبر2005 کی صبح ساڑھے 8 بجے 8.1 کی شدت سے آنیوالے

شدید زلزلے سے جنت نظیر آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے علاقوں کو بڑا

نقصان پہنچا، 86 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور69 ہزار زخمی ہوگئے۔ لاکھوں

گھر، سکول، سرکاری و نجی عمارتیں، پل، سڑکیں تباہ ہوئیں جبکہ اس قیامت خیز

زلزلے کے آثار آج بھی موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خوفناک زلزلہ پورا ملک ہل گیا، آزاد کشمیر میں تباہی19 افراد جاں بحق، 300 سے زائد زخمی، جانی و مالی نقصان میں اضافے کا خدشہ

2005 کے زلزلہ میں ہم سے جدا ہونیوالوں کی یادیں آج بھی ہمارے دل میں تازہ

اور زندہ ہیں، اس قدرتی آفت کا شکار ہوکر اپنے رب سے ملنے والوں کی مغفرت

اور بلندی درجات،متاثرہ پسماندگان کی مشکلات ختم کرنے کی دعا کیساتھ امید

کرتے ہیں کہ حکومت اپنی بساط کے مطابق آئندہ کسی قدرتی آفت سے ممکنہ

نقصانات سے بچنے کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

جانی نقصان کا ازالہ ناممکن، بحالی و تعمیر نو میں بڑی
کامیابیاں حاصل کیں، صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان

President of Azad Jammu and Kashmir Sardar Masood Khan talking with media at Islamabad

8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے چودہ سال مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں صدر

آزاد کشمیر سردار مسعود نے کہا ہے چودہ سال پہلے آج کے دن مظفرآباد، باغ اور

پونچھ کے اضلاع کے علاوہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقوں میں

جو قیامت خیز زلزلہ آیا تھا اس نے ہزاروں بچوں، جوانوں، خواتین اور بزرگوں کو

آن واحد میں ہم سے چھیننے کے علاوہ سرکاری و نجی املاک کو زمین بوس کر

دیا تھا۔ جن لوگوں نے اس قدرتی آفت کی تباہ کاریوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ

شاید ہی کبھی اسے بھلا پائیں۔ زلزلہ سے ہوئے انسانی جانوں کے نقصان کی تلافی

تو ممکن نہیں لیکن زلزلے کے بعد متاثرین کی بحالی اور تباہ شدہ انفرسٹرکچر کی

تعمیر نو کے چیلنج سے حکومت نے کامیابی کیساتھ نمٹنے کی مقدور بھر کوشش

کی اور ہمیں اللہ کے فضل سے بڑی کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں۔

صدر آزاد کشمیر کا مزید کہنا تھا اگرچہ تعلیم، صحت اور مواصلات کے شعبوں

میں ابھی کئی منصوبے زیر تکمیل ہیں یا شروع نہیں کیے جا سکے لیکن الحمدوللہ

تباہ شدہ انفرسٹرکچر کا ایک بڑا حصہ مکمل طور پر پہلے سے زیادہ بہتر انداز

میں تعمیر کیا جا چکا ہے یا تکمیل کی مراحل میں ہے اور یہ بات حکومت اور آزاد

کشمیر کے شہریوں کیلئے باعث اطمینان ہے۔

مزید پڑھیں: آرمی چیف جنرل باجودہ کا آزاد کشمیر کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ، جانی نقصان کی تعداد 38 ہو گئی، انفراسٹرکچر تباہ

صدر سردار مسعود خان نے اس موقع پر عالمی برادری بالخصوص برادر اسلامی

ممالک سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات سمیت امریکہ، برطانیہ، یورپی

ممالک اور عوامی جمہوریہ چین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل کی گھڑی میں

آزاد کشمیر کے عوام کو ریلیف، ریسکیو اور بحالی کے مراحل میں دل کھول کر

مدد کی اور اس بڑے چیلنج سے کامیابی کیساتھ نمٹنے میں حکومت اور آزاد کشمیر

کے عوام کی مدد کی۔ بین الاقوامی برادری کیساتھ ساتھ ملک کے مسلح افواج نے

زلزلہ متاثرین کی جو بے مثال مدد کی وہ تاریخ کا ایک حصہ ہے اور اسے آزاد

کشمیر کے عوام کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔

صدر سردار مسعود خان کا مزید کہنا تھا 2005 کے زلزلہ اور حالیہ دنوں میں

میرپور اور ملحقہ علاقوں میں آئے زلزلے نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ آزاد کشمیر

کے کم وبیش تمام علاقے خطرات کی زد میں ہیں جس کیلئے ہمیں قلیل اور طویل

المدتی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے اور ہم یہ عزم کرتے ہیں کہ اس

ضمن میں آزاد کشمیر کی حکومت کوئی کثر اٹھا نہیں رکھے گی۔

قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کیلئے احتیاطی تدابیر کی آگاہی
اور انہیں اپنانا ناگزیر، ریاستی وزیر اطلاعات مشتاق منہاس

Information Minister Azad Jammu and Kashmir Mushtaq Minhah talking with media

ریاست آزاد کشمیر کے وزیراطلاعات مشتاق احمد منہاس نے بھی اس موقع پر

اپنے پیغام میں کہا ہے 14 برس قبل 8 اکتوبر 2005 کی صبح چند ساعتوں میں

کشمیر، خیبرپختونخوا میں ہزاروں لوگ جاں بحق اور زخمی ہوئے، لاکھوں بے

گھر ہوئے۔ اس ہولناک زلزلے میں ہوئے جانی نقصان کا ازالہ تو ممکن نہیں تاہم

قدرتی آفات سے آگاہی حاصل کرکے نقصانات کو کم از کم کیا جا سکتا ہے۔

8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے بعد دوست ممالک، پاکستانی عوام، قومی اداروں

اور دیگر عالمی برادری و تنظیموں نے بحالی و تعمیر نو کے کاموں میں حصہ لیا

اور توقعات سے بڑھ کر کام کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔ جس سے زلزلے کے بعد

اہل آزاد کشمیر کی ذہنی و فکری سطح میں مثبت تبدیلی آئی جبکہ عالمی سطح پر

بھی مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بنی، یہاں گلوبلائزیشن کا ایک نیا رخ نظر آیا۔ ایراء،

سیراء، این جی اوز اور پوری قوم کی کاوشوں سے اب آزاد کشمیر میں زندگی

متحرک نظر آرہی ہے۔

ریاست آزاد کشمیر کے وزیراطلاعات مشتاق احمد منہاس کا یہ بھی کہنا تھا گزشتہ

ماہ 24 ستمبرکو میرپور میں آئے زلزلہ نے بھی ایک بار پھر کشمیر خیبرپختونخوا

زلزلہ آٹھ اکتوبر 2005 کی یاد تازہ کر دی، ہمیں قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کیلئے

احتیاطی تدابیر کی آگاہی اور انہیں اپنانے کی اشد ضرورت ہے،تاکہ قدرتی

آفات سے ہونیوالے نقصانات کو کم از کم کیا جا سکے۔

کشمیر خیبرپختونخوا زلزلہ