Ch.Asim Tipu Advocate writer JTNOnline 78

نئی سرد جنگ، امریکہ چین مد مقابل، میدان جنوبی ایشیا، معاشی مفادات اہم ہتھیار

Spread the love

نئی سرد جنگ

سوویت یونین کے حصے بخرے ہونے کے تین دہائیاں بعد ہی نئی سرد جنگ کے

آثار پیدا ہو گئے ہیں۔ ماضی میں سرد جنگ کے بڑے کھلاڑی روس اور امریکہ

تھے مگر اب چین اور امریکہ ہیں۔ نئی سرد جنگ کے انداز اور اطوار بھی پرانی

والے ہی ہیں۔ پہلی سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جب امریکہ دنیا میں واحد سپر

پاور رہ گیا تو اس نے دنیا کا نقشہ اپنی مرضی کے مطابق بنانے کی حتیٰ المقدور

کوشش کی۔ عراق، لیبیا، شام، مصر اور سوڈان سمیت کئی مسلم ممالک کو تاراج

کیا اور ان کے حصے بکھیر دئیے، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، چین

نے اقتصاد ی ترقی ہی نہیں بلکہ دفاعی میدان میں بھی حیران کن طاقت حاصل

کرلی اور امریکہ کو ہر مقام پر چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ اب بظاہر دنیا کمیونسٹ

و سرمایہ بلاک کی بجائے چینی و امریکی بلاک میں تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے۔

پہلی سرد جنگ کا انجام تو ایک سپر پاور کے خاتمے پر منتج ہوا نئی سرد جنگ کا

انجام کیا ہوتا ہے یہ آنے والا وقت بتائے گا مگر یہ طے ہے اس نئی سرد جنگ کا

میدان بھی پھر جنوبی ایشیا ہی ہے-

یہ بھی پڑھیں: “اِس ہاتھ دے اْس ہاتھ لے” کا اصول ہی سکہ رائج الوقت

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا حالیہ اجلاس چین امریکہ تجارتی تنازع، تارکین

وطن کے یورپ اور امریکہ میں داخلے پر جھگڑے، آبنائے ہرمز میں تیل کی

سپلائی کو لاحق خطرات، ماحولیاتی تبدیلیوں پر بڑھتے دباؤ، کشمیر پر پاک بھارت

کشیدگی اور غربت کے خاتمے کے ملینیئم ڈویلپمنٹ اہداف کے پیش نظر اہم رہا۔

تجارتی تنازع کے اہم فریق چین کے صدر شی چن پنگ حسب معمول غائب رہے،

روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں زیادہ دلچسپی

کبھی نہیں رہی۔ داخلی سیاسی بحران میں گھرے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن

یاہو، کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈیو اور امریکی عتاب کے شکار وینزویلا کے

صدر نکولس مدورو نے بھی شرکت نہیں کی۔ 193 رکنی جنرل اسمبلی کے اجلاس

میں شریک امریکی صدر کے علاوہ ایرانی صدر حسن روحانی، پاکستان کے

وزیراعظم عمران خان، بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی، سعودی وزیر خارجہ

عادل الجیبر، ترک صدر رجب اردوان سمیت کئی ملکوں کے رہنماؤں پر ان کے

ملکوں کے عوام کی نظریں لگی تھیں۔ ہر کسی نے اپنے ایجنڈے کے مطابق سال

کے سب سے بڑے سفارتی ایونٹ میں خیالات کا اظہار کیا۔ کسی نے سفارتی اطوار

کے مطابق ڈھکا چھپا لب و لہجہ اپنایا تو کوئی اپنی سیاسی ضروریات کے تحت

شعلہ بیانی کرتا رہا۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں رہنماؤں کے خطابات سے ان

کے موڈ اور سفارتی ترجیحات کا کچھ اندازہ ہوا-

جنرل اسمبلی اجلاس کی سائیڈ لائن
پر عالمی منظر نامے کی تشکیل

سال کے سب سے بڑے سفارتی ایونٹ کا مرکز جنرل اسمبلی ہال ضرور تھا لیکن

مندوبین کا لاؤنج اور اقوامِ متحدہ کا بار وہ اصل مقامات تھے جہاں سفارتی

سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ مندوبین لاؤنج اور بار میں ہی پالیسیاں طے ہوتی ہیں،

سفارتی داؤ پیچ آزمائے جاتے ہیں اور مستقبل کے منصوبے تشکیل پاتے ہیں۔ سائیڈ

لائن ملاقاتوں سے متعلق اس خطے کیلئے سب سے اہم اجلاس امریکہ، جاپان،

آسٹریلیا اور بھارت کے 4 فریقی سٹریٹجک ڈائیلاگ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس

تھا۔ یہ چہار فریقی سٹریٹجک ڈائیلاگ ’’کواڈ‘ ‘کہلاتا ہے۔ کواڈ، انڈوپیسفک خطے

میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے کیلئے نئے سرے سے فعال کیا

گیا ہے۔ بھارت اس سٹرٹیجک ڈائیلاگ کو جوائنٹ سیکریٹری سطح سے وزارتی

سطح تک لانے کی مخالفت کرتا رہا ہے لیکن اس سال یہ وزارتی اجلاس ہوا،

چین سے متعلق بھارتی خارجہ پالیسی میں
بڑی تبدیلی

امریکی صدر جارج ڈبلیو بش دور میں شروع ہونیوالا یہ سٹریٹجک ڈائیلاگ پچھلے

سال نومبر میں دوبارہ زندہ کیا گیا۔ اس سے پہلے بھارت چین کی ناراضگی کے ڈر

سے اس ڈائیلاگ کو وزارتی سطح پر لانے کی مخالفت کرتا رہا لیکن اس سال

جموں و کشمیر اور لداخ معاملے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایسا رخنہ

پڑا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں ’’نئی‘‘تبدیلی آگئی۔ چہار فریقی ڈائیلاگ کے

بعد باضابطہ بیان جاری نہیں ہوا تاہم چاروں وزرائے خارجہ نے اس اجلاس کی

خبر ایک ٹویٹ کے ذریعے دی۔ آسڑیلوی وزیرخارجہ نے بھارتی اخبارات کے

رابطے پر ای میل پیغام میں کہا چاروں ملکوں نے اس اجلاس میں اپنی مشترکہ

اقدار، بحری گزرگاہوں کی سکیورٹی، انفرا سٹرکچر، خطے کو آپس میں ملانے

والے منصوبوں، اصولوں پر مبنی فریم ورک میں تعاون کے عزم کا اعادہ کیا-

چین کے’’بیلٹ اینڈ روڈ پراجیکٹ‘‘کے جواب میں امریکہ کا
’’ یورپ ایشیاء کنکٹویٹی پلان‘‘، منصوبے میں بھارت کا
مرکزی کردار ہی اس کا بڑا ہتھیار اور امریکہ کی کمزوری بن گیا

ڈائیلاگ کے رکن جاپان کے وزیراعظم نے اجلاس کے ایک دن بعد برسلز میں

یورپی کمیشن کے صدر جون کلاڈ جنکر کیساتھ ملاقات میں ایک منصوبے پر

دستخط کیے جسے ’’یورپ ایشیاء کنکٹیویٹی پلان‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس پراجیکٹ

کو یورپ اور ایشیاء کو لنک کرنے کا منصوبہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ جو چین کے

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے مقابلے میں لایا گیا ہے۔ چہار فریقی ڈائیلاگ میں انفرا

سٹرکچر اور باہمی رابطے کی جو بات کی گئی یہ اسی طرف ایک اشارہ تھا۔ یورپ

ایشیاء لنک منصوبے پر دستخط کی تقریب میں جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے اور

یورپی کمیشن کے سربراہ جون کلاڈ جنکر نے بیلٹ اینڈ روڈ اور چین کا نام لئے

بغیر اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ پاکستان میں سی پیک بھی بیلٹ اینڈ روڈ کا ہی

ایک حصہ ہے جسے چین بیلٹ اینڈ روڈ کے ایک ماڈل منصوبے کے طور پر پیش

کرتا آرہا ہے۔ جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے نے چین پر ڈھکی چھپی تنقید میں

کہا کہ خواہ ایک سڑک ہو یا ایک بندرگاہ، جب یورپی یونین اور جاپان کسی

منصوبے کی تعمیر کی ذمہ داری لیتے ہیں تو ہم انڈوپیسفک سے مغربی بلقان اور

افریقہ تک پائیدار، اصولوں پر مبنی رابطے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بحیرہ روم

سے بحر اوقیانوس تک جانیوالے سمندری راستے کھلے رہنے چاہئیں۔ یورپی

کمیشن کے سربراہ نے بھی چین پر بین السطور تنقید میں کہا یورپی یونین ’’قرض

کے پہاڑوں‘‘کے بغیر انفراسٹرکچر کی تعمیر میں مدد دے گی۔ جاپانی وزیراعظم

شنزو ایبے اور یورپی کمیشن کے سربراہ نے وہی الفاظ اور لہجہ اپنایا جو چہار

فریقی سٹریٹجک ڈائیلاگ کے بعد آسٹریلوی وزیر خارجہ کی ای میل میں اپنایا گیا

اور انفرا سٹرکچر منصوبوں پر بات کی گئی۔

جاپان چین اور امریکی وائٹ پیپرز مستقبل کی
تصویر کشی

ایک اور پیشرفت اسی دن ہوئی جب جاپان کے وزیر خارجہ نے ڈیفنس وائٹ پیپر

جاری کیا جس میں جاپان کیلئے سب سے بڑا خطرہ شمالی کوریا کے بجائے چین

کو قرار دیا گیا۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی سائیڈ لائن پر چار فریقی سٹریٹجک

ڈائیلاگ، برسلز میں یورپ ایشیاء لنک منصوبے پر دستخط، جاپان کے ڈیفنس وائٹ

پیپر کا اجراء ایک مربوط سفارتی کوشش کا نتیجہ ہے۔ یہ مربوط سفارتکاری اس

سال جولائی میں جاری ہونیوالے چین کے ڈیفنس وائٹ پیپر کا جواب بھی تھی۔ اس

سے پہلے چین نے 2015ء میں ڈیفنس وائٹ پیپر جاری کیا تھا اور امسال کا ڈیفنس

وائٹ پیپر صدر شی چن پنگ کے دور کا پہلا وائٹ پیپر ہے۔ نئے دور میں چین کا

’’قومی دفاع ‘‘کے نام سے وائٹ پیپر دہشتگردی و انتہا پسندی کیخلاف جنگ کے

بعد بدلتی ہوئی امریکی سٹریٹجک تبدیلی کے ردعمل میں جاری کیا گیا۔ امریکہ اب

دہشت گردی کیخلاف جنگ کی پالیسیوں سے نکل کر چین اور روس سے مقابلے

اور ممکنہ تصادم پر توجہ دے رہا ہے۔ چین کے ڈیفنس وائٹ پیپر میں اس بات کو

اجاگر کیا گیا کہ امریکہ اور چین ایک دوسرے کے مقابل سپر پاورز ہیں اور چین

اپنی افواج کو اس انداز سے جدید بنا رہا ہے کہ وہ ایک دن امریکہ کو چیلنج کرنے

کے قابل ہوگا۔ چین کے وائٹ پیپر میں امریکہ کی 2017ء کی قومی سلامتی کی

حکمت عملی اور 2018ء کی قومی دفاعی حکمت عملی کے نام سے جاری کیے

گئے پیپرز کا بھرپور جواب ہے۔

ان پیپرز میں امریکہ نے بھی چین کو اپنا واحد مد مقابل ملک قرار دیا تھا اور اسی

تناظر میں فوجی تیاریوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ چین کے وائٹ پیپر میں کہا گیا کہ بین

الاقوامی سٹریٹجک مسابقت عروج پر ہے، امریکہ نے اپنی نیشنل سکیورٹی اور

دفاعی حکمت عملی میں تبدیلیاں کی ہیں اور یکطرفہ پالیسیاں اپنائی ہیں، امریکہ

نے بڑے ملکوں کو ’’انگیج ‘‘کرکے ان میں مسابقت کو ہوا دی اور اپنے دفاعی

بجٹ میں اضافہ کیا ہے، امریکہ جوہری صلاحیت بڑھا رہا ہے، خلائی طاقت،

سائبر اور میزائل ڈیفنس میں سٹریٹجک صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ نیٹو نے

بھی وسطی اور مشرقی یورپ میں موجودگی میں اضافہ کیا ہے اور مسلسل فوجی

مشقوں میں مصروف ہے۔ چین کے وائٹ پیپر میں نشاندہی کی گئی کہ خطہ بڑے

ملکوں کے درمیان مسابقت کا گڑھ بن رہا ہے، امریکہ ایشیاء پیسفک میں فوجی

اتحاد مضبوط بنا رہا ہے، فوجی موجودگی اور مداخلت میں بھی اضافہ کر رہا ہے،

جنوبی کوریا میں ’’تھاڈ‘‘سسٹم کی تنصیب نے خطے میں سٹریٹجک توازن کو

متاثر کیا ہے، خطے کے ملکوں کے علاقائی سٹریٹجک مفادات کو زک پہنچی ہے۔

چین کے وائٹ پیپر میں تائیوان، تبت اور ترکستان کے علیحدگی پسندوں کو خطرہ

قرار دیتے ہوئے خطے میں زمینی تنازعات کی نشاندہی کی گئی اور امریکہ کا نام

لئے بغیر کہا گیا کہ خطے سے باہر کے ملک مسلسل چین کی نہ صرف زمینی،

فضائی اور سمندری جاسوسی کر رہے ہیں بلکہ چین کی سمندری حدود میں بھی

داخل ہوتے ہیں، چین کی فضائی حدود کے گردو نواح میں جزیروں کی فضائی

جاسوسی کرکے چین کی قومی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔

کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی پیشکش یا چھیڑ خانی؟

جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر خطے سے متعلق ہونیوالی پس پردہ سرگرمیوں

سے واضح ہوجاتا ہے کشمیر کے حوالے سے بھارت پر کوئی بڑا دباؤ کیوں نہیں

آیا۔ امریکہ سمیت تمام بڑی طاقتیں چین کیخلاف صف بندی میں مصروف ہیں اور

چین نہ صرف پاکستان کا اتحادی بلکہ تنازع کشمیر میں ایک فریق ہونے کا بھی

دعویدار ہے۔ ان حالات میں بڑی طاقتیں بھارت کو ناراض کرنے کا خطرہ مول

نہیں لیں گی۔ پاکستان کو امریکہ سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے توقعات تھیں

جو پوری نہ ہوئیں، صدر ٹرمپ نے اس بار بھی ثالثی کا ذکر چھیڑا لیکن یوں لگتا

ہے پہلی بار ثالثی کے ذکر پر بدمزہ ہونیوالے بھارت کو اب اس سے چڑ نہیں ہوئی

بلکہ یہ ثالثی شاید ہمارے لئے ایک چھیڑخانی بن گئی ہے۔ نریندر مودی کی قیادت

میں بھارت چین کو غصہ نہ دلانے، اسکا راستہ روکنے کی پالیسی میں شریک نہ

ہونے کی پالیسی کو کسی حد تک ترک کرچکا ہے۔ اس نئی صف بندی سے واضح

ہو رہا ہے کہ نئی سرد جنگ اپنے جوبن پر ہے-

چہار فریقی ڈائیلاگ کو بیجنگ کا دبنگ انتباہ

چین نے مارچ 2018ء میں چہار فریقی سٹریٹجک ڈائیلاگ کی انڈو پیسفک حکمت

عملی پر اپنی پوزیشن واضح کردی تھی۔ چین کے وزیرخارجہ وانگ ژی نے کہا

تھا ان چار ملکوں کے حکام کا کہنا ہے کہ اس چہار فریقی ڈائیلاگ کا کوئی ملک

ہدف نہیں، امید ہے جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں ان کے اقدامات بھی اس کی توثیق

کریں گے کیونکہ سرد جنگ کا دور گزر گیا، متحارب بلاک بنانے والوں کو کوئی

مارکیٹ دستیاب نہیں ہوگی۔

نئی سرد جنگ