62

بیرون ملک بھیجی گئی رقوم واپس آ سکتی ہیں یا نہی؟ چیئرمین ایف بی آرنے بتا دیا

Spread the love

کراچی (سٹاف رپورٹر)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی

نے اعتراف کیا ہے کہ بیرون ملک بھیجی گئی رقم واپس پاکستان نہیں لائی

جاسکتی۔ایک تقریب سے خطاب میں شبرزیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان سے ماضی

میں پیسہ باہر گیا، لوگوں نے بیرون ملک محفوظ ٹھکانے بنائے، گزشتہ 20 سال

میں پاکستان سے سالانہ 6 ارب ڈالر بیرون ملک گئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں

اب لوگ منی لانڈرنگ، اسمگلنگ اور حوالہ ہنڈی پر بات کر رہے ہیں لیکن ماضی

میں اس موضوع پر بات نہیں کی جاتی تھی، دنیا میں ایسے نظام بنائے گئے کہ

بیرون ملک پیسہ پارک کیا جا سکے۔چیئرمین ایف بی ا?ر نے اعتراف کیا کہ بیرون

ملک بھیجی گئی رقم واپس پاکستان نہیں لائی جاسکتی، بیرون ملک بھیجے گئے

سرمائے کو واپس پاکستان لانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی

اب بھی اپنا سرمایہ بیرون ملک بھیج رہے ہیں جس میں کرپشن کا پیسہ 15 سے

20 فیصد ہے، پاکستانی معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے کاروباری افراد کا اعتماد

بحال کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ مالدار افراد نے اپنے گھر بیرون ملک بنائے ہوئے

ہیں ، ان کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔خیال رہے کہ وزیراعظم

عمران خان منصب سنبھالنے سے قبل اور بعد میں بھی اپنی تقریروں میں کہتے

رہے ہیں کہ وہ بیرون ملک بھیجی گئی لوٹی ہوئی رقم پاکستان واپس لائیں گے۔

وزیراعظم 2008 سے 2018 تک ملک پر چڑھنے والے قرضوں کے حوالے سے

انکوائری کمیشن بھی بناچکے ہیں۔؎چیئرمین ایف بی آر نے کہا ہے کہ ٹیکس ہدف

کو حاصل کرنے کیلئے 15اکتوبر سے جارحانہ مہم چلا رہے ہیں ، تمام کمرشل

اور صنعتی صارفین کولازمی انکم ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ ہونا ہوگا۔ جمعہ کے

روز سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے اپنے بیان میں

کہا ہے کہ صنعتی اور کمرشل صارفین انکم ٹیکس کیلئے لازمی رجسٹرڈ ہوں،

جبکہ ایف بی آر صارفین کو قائل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں ، انہوں

نے کہا کہ ہدف کے حصول کیلئے 15 اکتوبر سے جارحانہ مہم چلائی جائے گی۔