76

آزادی مارچ نومبر تک موخرکرنے پر پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) میں اتفاق

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے جمعیت علمائے

اسلام (ف) کے آزادی مارچ میں شرکت پر رضامندی ظاہر کردی۔دونوں جماعتوں

یہ مارچ نومبر تک موخر کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے مسلم لیگ ن کے صدر

شہباز شریف اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات ہوئی جس میں

ملکی سیاسی صورتحال اور مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ پر تبادلہ خہال

کیا گیا۔ ملاقات میں دونوں جماعتوں کے رہنما بھی شریک تھے جن میں راجہ

ظفرالحق، رضا ربانی، احسن اقبال، فرحت اللہ بابر سمیت دیگر شامل ہیں۔ ذرائع

کے مطابق شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی ملاقات میں آل پارٹیز کانفرس بلانے

پر اتفاق کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا

فضل الرحمان کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پیپلزپارٹی اورمسلم

لیگ (ن) نے حکومت مخالف احتجاجی تحریک میں شرکت پر رضامندی ظاہر

کردی ہے تاہم مولانا فضل الرحمان کو آزادی مارچ نومبر میں کرنے کی تجویز دی

جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ

میں شریک ہوگی لیکن دھرنے میں شامل نہیں ہوگی۔میاں شہباز شریف اور بلاول

بھٹو زرداری کے درمیان ہونے والی ملاقات میں حکومت کیخلاف مشترکہ حکمت

عملی اپنانے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔۔ملاقات کے بعد میڈیا نمائندوں کو ملاقات بارے

بریفنگ دیتے ہوئے ن لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت ملک کی

سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ موجودہ حکومت کا موزانہ پچھلی حکومت

سے نہ کیا جائے۔ ان کی تبدیلی کا مطلب کابینہ کو تبدیل کرنا ہے۔ کابینہ میں تبدیلی

کرکے قربانی کے بکرے قربان کیے جا رہے ہیں۔ کابینہ میں تبدیلیوں کے بجائے

اناڑی بس ڈرائیور سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔احسن اقبال نے کہا کہ ملک کو

بند گلی سے نکالنے کے لیے آزاد اور شفاف الیکشن راستہ ہے۔ جے یو آئی (ف)

کے ساتھ مل کر حکومت کیخلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ آج (ن) لیگ کا

وفد مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقات کرے گا۔ اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے

عوام کو حکومت سے نجات دلائیں گے۔اپوزیشن کے سربراہان کا اجلاس بھی

فوری بلایا جائے گا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ پاکستان کی تقدیر اور مستقبل

سے کھیل رہے ہیں۔ عالمی سطح پر موجودہ حکومت نے پاکستان کو تنہا کر دیا

ہے۔ کسان بدحال ہے، صنعت تباہ ہو چکی اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔

حکومت کو گھر بھیجنا ملک کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔اس موقع پر میڈٰیا سے

گفتگو میں پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کو کل سے

پہلے آج گھر بھیجنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں جو بھی قدم اٹھانا ہے، اتفاق

رائے سے اٹھایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے مولانا فضل الرحمان

ہمارے ساتھ مل کر چلیں، ہماری طرف سے کوئی دراڑ نہیں ہے۔ جلسہ یا لانگ

مارچ کرنا ہے تو سب کو اعتماد میں لے کر کیا جائے، ہم سولو فلائٹ نہیں لیں گے۔

شیری رحمان نے کہا کہ پلوامہ اور بالاکوٹ ایشو پر بھی وزیراعظم نے ایوان کو

اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ وزیراعظم میں اگر جرات ہے تو امریکا کیا دے کر اور کیا

لے کر آئے؟ اس حوالے سے ایوان کو اعتماد میں لیں۔ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے

اگر ملک چلانا ہے تو پارلیمنٹ کو تالا لگا دیا جائے۔ ۔ ذرائع کے مطابق دونوں

رہنمائوں نے کہاکہ ہمیں ملکر احتجاج بھی کرنا ہے، جمہوریت کو بھی بچانا ہے۔

شہبازشریف اور بلاول بھٹو زر داری نے اتفاق کیاکہ حکومت مخالف تحریک میں

مذہبی کارڈ استعمال نہیں ہونے دیں گے۔۔ شیری رحمان نے کہاکہ شہباز شریف کے

شکر گزار ہیں کہ انہوںنے بلاول بھٹو زر داری سے ملاقات کی ۔ انہوںنے کہاکہ

ملک کی عوام مشکل امتحان سے گزر رہی ہے،ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے،

پٹرولیم کی قیمتیں کم نہیں کی گئیں۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت جہاں سے آئی

ہے وہیں جائیگی،موجودہ حکومت عوام کا مینڈیٹ اور اعتماد کھوچکی ہے،گیس

کے بل سردیوں میں سب کی کمر توڑیں گے۔