86

خورشید شا ہ کی گرفتاری کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا قومی اسمبلی میں شدید احتجاج

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے پیپلز پارٹی کے سید

خورشید شاہ کی گرفتاری کیخلاف بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کرتے

ہوئے سپیکر روسٹر م کا گھیرائو کرلیا اور خورشید شاہ کے گرفتاری پر شیم شیم

اور حکومت مخالف نعرے بازی کرتے رہے ،اپوزیشن ارکان اور ڈپٹی سپیکر کے

درمیان تو تو میں اور تلخ کلامی بھی ہوئی ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے

کہاکہ میں کسی کے دبائو میں نہیں آئونگا ، اپوزیشن اور حکومت کا کام ایک

دوسرے پر الزامات لگانا اور تنقید کر نا ہے ۔ جمعرات کو اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم

خان سوری کی زیر صدارت ہوا جس میں اپوزیشن ارکان نے خورشیدکی گرفتاری

پر بطور احتجاج بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر شریک ہوئے ۔ ۔ نکتہ اعتراض پر

نوید قمر نے کہاکہ منتخب نمائندوں کے ایوان کا نگہبان سپیکر ہوتا ہے ،اپوزیشن

کی سامنے والی بنچز سے کتنے ارکان اٹھائے گئے ۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں جو

مہنگائی اور دیگر بحران ہیں اپوزیشن کو گرفتار کرنے سے یہ مسائل حل نہیں

ہونگے۔ انہوںنے کہاکہ خورشید شاہ اور میں 31 سال سے منتخب ہوتے آئے ہیں

،سپیکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ زیر حراست ارکان کو ایوان میں لائیں ۔ انہوںنے

کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی اتنی تعداد میں ارکان گرفتار نہیں ہوئے۔

سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہاکہ خورشید شاہ اس ایوان کے سینئر

رکن قومی اسمبلی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کیا احتساب صرف سیاستدانوں کا ہی ہونا

ہے، اور کسی کی طرف دیکھا بھی نہیں جارہا ۔ انہوںنے کہاکہ سابق صدر زرداری

اور فریال تالپور کو گرفتار کیا گیا ،سابق وزیراعظم نواز شریف کو ان کی بیٹی

کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا ،دیگر ارکان اسمبلی کے ساتھ اب خورشید شاہ کو گرفتار

کرلیا گیا ،کیا صرف ایک لیٹر کی بنیاد پر معزز ممبران کو گرفتار کیا جائیگا۔ڈپٹی

سپیکر قاسم سوری نے کہاکہ تمام ممبران ہمارے لئے قابل احترام ہیں، پیپلز پارٹی

کی جانب سے راجا پرویز اشرف تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں ۔ ڈپٹی اسپیکر نے

پیپلز پارٹی کے ارکا ن کو تنبیہ کی کہ دیگر ارکان اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں،

ایوان کی کارروائی چلانے دیں۔راجا پرویز اشرف نے کہاکہ آپ کہتے ہیں سب قابل

احترام ہیں لیکن آپ اس ایوان کے کسٹوڈین آف دی ہاؤس ہیں ،آپ خورشید شاہ کے

حوالے سے الزامات کی تفصیلات منگوائیں،اگر آپ تفصیلات نہیں منگواتے تو پھر

ہم اس ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کرینگے ۔انہوںنے کہاکہ اس ایوان کو تمام

اداروں کی ماں کہا جاتا ہے مگر آج یہ سب سے کمزور تر ادارہ بن چکا ہے ،کیا

گزشتہ روز آپ کو محض کسی الزام میں گرفتار کرلیا جائیگا تو یہ درست ہوگا

،خورشید شاہ کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرکے انہیں بلایا جائے اور ان سے

الزامات بارے پوچھا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ نیب سے تفصیلات طلب کی جائیں، اگر

یہ سلسلہ جاری رہا تو ایوان خالی ہوجائے گا۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہاکہ اس کرسی پر

بیٹھ کر میں نے بھی حلف لیا ہے ،میری اس ایوان کے ساتھ وفاداری پر کسی کو

شک نہیں ہونا چاہیے۔ خواجہ آصف نے کہاکہ اس ملک میں حکمران اشرافیہ میں

واحد سیاسی برادری ہے جو ایک دوسرے سے دشمنی میں سبقت لیتی ہے ۔انہوںنے

کہاکہ دیگر اشرافیہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے، صرف سیاستدان

ہی ایک دوسرے کی دشمنی میں پیش پیش ہوتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارا فرض

ہے کہ اگر کسی ممبر اسمبلی کااستحقاق مجروح ہورہا ہے تو اسکا تحفظ یقینی

بنائیں،اس ایوان کے وقار کا تحفظ اسی میں ہے کہ خورشید شاہ سمیت سینئر ارکان

کے استحقاق کا تحفظ کیا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ خورشید شاہ وہ شخصیت ہے جس

نے اس ایوان کی عزت ا میں اضافہ کیا ہے ۔ نہوںنے کہاکہ یہ وقت موجودہ

حکمرانوں پر بھی آسکتا ہے،خدانخواستہ پی ٹی آئی پر کڑا وقت آیا تو اس وقت بھی

ہم آواز بلند کرینگے ۔