78

شرح سود 13.25فیصدبرقرار،مہنگائی میں اضافہ،حکومتی اخراجات کم ہوئے

Spread the love

اسلام آباد (اکنامک رپورٹر)سٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کیلئے مالیاتی پالیسی کا

اعلان کردیا، پالیسی ریٹ کی شرح 13.25 فیصد برقرار رکھی گئی ہے۔سٹیٹ بینک

کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مہنگائی کی شرح گیارہ سے بارہ فیصد رہے

گی، آئندہ 24 مہینوں میں اسے پانچ سے سات فیصد تک لانے کیلئے سود کی

موجودہ شرح موافق ہے، شرح نمو ساڑھے تین فیصد رہے گی، معاشی حالات

بتدریج بہتر ہوں گے جبکہ عالمی شرح سود میں کمی سے ترسیلات بڑھیں گی۔

سٹیٹ بینک کی پالیسی بورڈ کا اجلاس صبح سے جاری تھا اور تقریباً شام 6 بجے

پالیسی بیان جاری ہوا۔پالیسی فیصلے کرتے ہوئے حقیقی معیشت، بیرونی اور

مالیاتی شعبوں کو اہمیت دی گئی ہے، کمیٹی کا خیال ہے کہ معاشی سرگرمیاں

بتدریج بہتر ہوں گی، مثبت رجحان اسے فروغ دے گا۔ بیرونی شعبہ بہتری دکھا رہا

ہے، حکومت نے اپنے واجبات کم کیے ہیں اور زرمبادلہ بڑھائے ہیں۔مرکزی بینک

کی جانب سے مزید کہا گیا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام اور دیگر

ذرائع سے رقم کی آمد سے صورتحال بہتر ہوئی ہے، تیل کی سہولت بھی زرمبادلہ

بڑھنے کا سبب ہے، یکم جولائی سے ایک ارب اٹھارہ کروڑ ڈالر بڑھ چکے ہیں۔

سٹیٹ بینک کے مطابق مبادلہ مارکیٹ بھی مارکیٹ بیس سسٹم پر منتقل ہوگئی ہے،

یہ اعتماد بڑھائیں گے۔ پرائیوٹ سیکٹر نے قرض کم کیا ہے البتہ ٹیکس محصولات

پتہ دیتے ہیں کہ معاشی سست روی اندازوں سے کم ہے، اقتصادی شعبہ ملی جلی

کارکردگی کا مظاہرہ کررہا ہے۔،معاشی استحکام میں بہتری کے لیے مالیاتی

دوراندیشی اور پروگرام کے اہداف کی تکمیل لازمی ہے۔ پیر کو اسٹیک بینک آف

پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق زری پالیسی کمیٹی نے اپنے 16

ستمبر 2019ء کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور اسے

13.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ زری پالیسی کمیٹی کے

اس نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے کہ نتائج زیادہ تر توقع کے مطابق رہے ہیں اور

مالی سال 20ء کیلئے مہنگائی کی پیش گوئیوں میں 16 جولائی 2019ء کو زری

پالیسی کمیٹی کے پچھلے اجلاس سے اب تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ زری پالیسی

کمیٹی کا یہ نقطہ نظر بھی تھا کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر زری پالیسی کا

موجودہ موقف مہنگائی کو کم کرکے اگلے چوبیس ماہ کے دوران 5-7 فیصد کی

حدود کے ہدف تک لانے کیلئے مناسب تھا۔ بیان کے مطابق یہ فیصلہ کرنے میں

زری پالیسی کمیٹی نے گذشتہ زری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے اب تک کے اہم

معاشی حالات، حقیقی ، بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور اس

کے نتیجے میں پیدا ہونے والی زری کیفیات اور مہنگائی پر منظر نامے پر غور

کیا۔ بیان کے مطابق زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ گذشتہ زری پالیسی کمیٹی

اجلاس کے بعد دو کلیدی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں،اوّل، بین البینک بازارِ مبادلہ

مارکیٹ پر مبنی شرح مبادلہ کے نظام کے متعارف کرائے جانے سے قدرے بہتر

طور پر ہم آہنگ ہوا ہے۔ ابتدا میں بازار ِمبادلہ میں جو تغیر پذیری اور اس سے

منسلکہ غیریقینی کیفیت دیکھی گئی تھی وہ کم ہوگئی ہے۔ ان بہتر احساسات اور

جاری کھاتے میں مسلسل بہتری کی عکاسی کرتے ہوئے زری پالیسی کمیٹی کے

گذشتہ اجلاس کے بعد پچھلے رجحان کے برخلاف امریکی ڈالر کے مقابلے میں

روپیہ تھوڑا مضبوط ہوا ہے۔ بیرونی محاذ پر امریکی فیڈرل ریزرو نے توقع کے

مطابق اپنا پالیسی ریٹ 25 بیسس پوائنٹس کم کردیا ہے جس کے بعد دنیا بھر کے

دیگر بڑے مرکزی بینکوں نے بھی پالیسی ریٹ میں کٹوتی کی۔ اس عمل سے

ابھرتی ہوئی منڈیوں کی کرنسیوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی اور ممکنہ

طور پر رقوم کے بہاؤ میں بھی اضافہ ہوگا۔ بیان کے مطابق حالیہ معاشی سرگرمی

کے اظہاریوں سے پچھلی توقعات کے مطابق بتدریج سست رفتاری ظاہر ہوتی ہے

اور زری پالیسی کمیٹی مالی سال 20ء میں لگ بھگ 3.5 فیصد کی اوسط نمو کی

توقع کرتی رہی۔ ملکی نوعیت کی صنعتوں جیسے گاڑیوں، فولاد میں یہ سست

رفتاری زیادہ نمایاں ہے۔ اس رجحان کی عکاسی ایل ایس ایم اشاریے سے بھی

ہوتی ہے جو مالی سال 19ء میں 3.6 فیصد سکڑ گیا جو گذشتہ توقعات سے کسی

قدر زیادہ ہے۔دوسری جانب زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ ایل ایس ایم اشاریہ

بعض اہم صنعتوں جیسے بلند قدر اضافی والی ٹیکسٹائل مصنوعات میں سرگرمیوں

کا پورے طور پر احاطہ نہیں کرتا۔ برآمدی حجم میں اضافہ ہوتا رہا ہے حالانکہ

زوال پذیر بین الاقوامی اکائی نرخوں کی وجہ سے برآمدی ڈالر آمدنی کی نمو اتنی

نمایاں نہیں رہی۔ زری پالیسی کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اگست تا ستمبر 2019ء

میں کیے گئے ایس بی پی آئی بی اے صارف اور اعتماد ِکاروبار سرویز معیشت

کے منظر نامے میں تھوڑی بہتری ظاہر کرتے ہیں، زراعت اور خدمات کے

شعبوں کا منظرنامہ زری پالیسی کمیٹی کے پچھلے اجلاس کے وقت سے اب تک

زیادہ تر پہلے جیسا رہا: گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں مالی سال 20ء کے دوران

شعبہ زراعت کی نمو خاصی بہتر ہونے کی توقع ہے جبکہ خدمات میں بتدریج

اعتدال آنے کی توقع ہے۔ مختصراً زری پالیسی کمیٹی کی یہی توقع رہی کہ

کاروباری احساسات میں بہتری کے ساتھ معاشی سرگرمیاں بتدریج بڑھیں گی۔بیان

کے مطابق بیرونی حالات میں مسلسل نمایاں بہتری دکھائی دی اور مالی سال 19ء

میں جاری کھاتے کے خسارے میں لگ بھگ 32 فیصد (یا جی ڈی پی کے 1.5

فیصد)کی خاطر خواہ کمی ہوئی۔ مالی سال 20ء کے پہلے ماہ کے دوران بھی یہ

رجحان برقرار رہا۔خاص طور پر برآمدات میں 11 فیصد کے حوصلہ افزا اضافے

اور درآمدات میں 25.8فیصد کمی کی بنا پر جاری کھاتے کا خسارہ جولائی

2019ء میں گھٹ کر 579 ملین ڈالر رہ گیا جبکہ گذشتہ سال کی اسی مدت میں

2130 ملین ڈالر تھا۔ اس کے ہمراہ پروگرام سے متعلق رقوم کی وصولی اور

سعودی تیل کی سہولت کے فعال ہونے سے اسٹیٹ بینک کے زر ِمبادلہ کے ذخائر

بڑھانے میں مدد ملی جو 6 ستمبر 2019ء کو 8.46 ارب ڈالر تھے۔ یہ آخر جون

2019ء کی سطح سے لگ بھگ 1.18 ارب ڈالر کا اضافہ ہے۔