109

ابو شادی پر کتنا خرچ آ تا ہے ….. انڈے اور ڈنڈے میں فرق ؟

Spread the love

لطیفے ہی لطیفے —– ہنسنا منع ہے —– انڈے ڈنڈے میں فرق

٭ ایک بچے نے اپنے باپ سے پوچھا ابو شادی پر کتنا خرچ آ تا ہے؟
باپ نے جواب دیا معلوم نہیں بیٹا میں تو ابھی تک ادائیگی کر رہا ہوں۔

٭ بھکاری -۔.۔- اللہ کے نام پر ایک روپیہ دے دو۔
آدمی ۔۔- شرم نہیں آتی روڈ پر کھڑے ہوکر مانگ رہے ہو۔
بھکاری ۔۔- اوئے پھر تیرے ایک روپے کیلئے آفس کھولوں کیا؟

٭ بیرا ادھر آؤ، گاہک چلایا۔
بیرا سہما سا گاہک کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔
دیکھو! چائے کے پیالے میں مکھی پڑی ہوئی ہے۔
بیرے نے انگلی سے مکھی پیالے سے نکالی اور بہت ہی غور سے اس کا جائزہ لینے لگا پھر بڑی سنجیدگی سے اس نے جواباً عرض کیا ”حضور یہ ہمارے ہوٹل کی نہیں ہے۔ ”

٭ پہلا: تو کیا تمہارا مطلب ہے کہ میں مرنے کے بعد پھر دنیا میں گدھے کے روپ میں آؤں گا؟
دوسرا: نہیں کوئی شخص دو مرتبہ ایک ہی روپ میں نہیں آسکتا۔

٭ ایک بچی نے پہلی بار ٹیلی فون پر اپنے باپ کی آواز سنی تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
ماں : کیا ہوا بیٹی ؟
بچی: امی اب ہم ابو کو اس تنگ سوراخ سے کیسے نکالیں گے؟

٭ ماسٹر صاحب نے بچوں سے کہا: ”کل سستی پر مضمون لکھ کر لانا۔ ”
دوسرے دن انہوں نے بچوں کی کاپیاں دیکھیں ایک بچے نے اپنی کاپی کا آدھا صفحہ سادہ چھوڑ کر لکھا ہوا تھا :”اس سے زیادہ سستی بھلا کیا ہو گی ”

٭ استاد شاگرد سے: بتاوقرض حسنہ کسے کہتے ہیں؟
شاگرد: جناب! قرض دینے والاجب رقم واپس مانگے اورمقروض اس پرہنس دے تواسے قرض ہنسنا کہتے ہیں۔

٭ ایک شخص سڑک پر جارہا تھا اور ساتھ ساتھ گنڈیری بھی چوس رہا تھا۔
دوسرا شخص اس کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا اور چوسی ہوئی گنڈیریاں جوکہ پہلا شخص پھینک رہا تھا وہ اٹھا کر دوبارہ چوستا۔ اتنے میں پہلے شخص نے اسے دیکھا اور کہا۔ ارے کتنے کنجوس ہو، شرم نہیں آتی۔ پھینکی ہوئی گنڈیریاں چوس رہے ہو۔
دوسرا شخص۔ شرم تو تجھے آنی چاہیے۔ ایک قطرہ بھی رس نہیں چھوڑتے۔

٭ لطیف: آج کل میں جو بھی خواب دیکھتا ہوں بالکل صحیح نکل آتا ہے۔
قمر: وہ کیسے؟
لطیف: کل میں کلاس میں سوگیا۔ خواب میں دیکھا کہ ماسٹر صاحب مجھے پیٹ رہے تھے۔ آنکھ کھلی تو واقعی ماسٹر صاحب مجھے پیٹ رہے تھے۔

٭ ایک لڑکا کمرہ امتحان میں بیٹھا بار بار پلٹ کر دیکھ رہا تھا۔ ممتحن نے دیکھ لیا
ممتحن : تم بار بار پلٹ کر کیا دیکھتے ہو؟
لڑکا: جناب! ” سوال کے پرچے میں لکھا ہے پلٹ کر دیکھو میں اس ہدایت پر عمل کر رہا ہوں

٭ ایک فوجی افسر نے اپنے ماتحتوں کی دعوت کی اور حوش ہوکر کہنے لگا،
جوانو آج کھانے پر اس طرح ٹوٹ پڑو جس طرح دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہو
ایک سکھ جوان جلدی جلدی کھانا اپنی جیبوں میں ٹھونسنے لگا-
افسر نے دیکھا اور غصے سے پوچھا؛ اوئے یہ کیا کر رہے ہو؟
جوان بولا؛ جناب جتنے مارنے تھے مار ڈالے باقی قیدی بنا رہا ہوں-

٭ امی : ” وہ جو ہمارے ہمسائے تھے ناں، وہ پتلے سے دھان پان سے، وہ ٹنکی میں گر گئے۔”
گڈو : ” وہ کیسے؟”
امی : ” وہ کسی نے پنکھے کا رْخ ان کی طرف کر دیا تھا۔”

٭ استاد، شاگرد سے: کوئی سے پانچ پھلوں کے نام بتاؤ۔
شاگرد: تین مالٹے دو سیب۔

٭ ایک آدمی کے گھر کی گھنٹی خراب تھی۔ وہ ایک الیکٹریشن کے پاس گیا اور کہا کہ میرے گھر کی گھنٹی خراب ہے۔ دوسرے دن پھر گیا اور الیکٹریشن سے پوچھا کہ میں نے کل تم کو کہا تھا کہ میرے گھر کی گھنٹی خراب ہے اور تم آئے کیوں نہیں۔ الیکٹریشن نے جواب دیا کہ میں تمہارے گھر کی گھنٹی بجاتا رہا کوئی باہر ہی نہیں آیا۔

٭ ایک آدمی دفتر سے گھر آیا تو چیخنے لگا
بیگم جلدی سے کھانا لاؤ۔ میرے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں
بیگم بھاگی بھاگی گئیں اور دودھ کا گلاس لاکر شوہر کو دیا
شوہر نے غصّے سے کہا
میں نے تم سے کہا کہ بھوک سے میرے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں اور تم کھانا دینے کہ بجائے مجھے دودھ دے رہی ہو ؟
بیگم بولیں۔،، آپکے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں نا،،
اس لئے میں نے دودھ میں چوہے مارنے والی دوا ڈال دی ہے
یہ دودھ پی لیں، سارے چوہے مر جائیں گے

٭ استاد،شاگرد سے : انڈے اور ڈنڈے میں فرق بتاؤ؟
شاگرد سر کوئی فرق نہیں
استاد حیران ہو کر! وہ کیسے؟
شاگرد: سر وہ اس طرح کے دونوں ہی جسم کوگرم کرتے ھیں انڈا پیٹ کے اندر جا کر جسم کو گرم کرتا ہے اور ڈنڈا جسم کو باہر سے گرم کرتا ہے

٭ سردار کا بیٹا سردار سے : پاپا 5+5 کتنے ہوتے ہیں
سردار : الو دا پٹھا
نالائق، بغیرت تینوں کجھ نئیں آندا
جا اندروں کیلکولیٹر لے کے آ

٭ دو دوست آپس میں باتیں کر رہے تھے. ایک کہہ رہا تھا. یارمیری بیوی اتنی موٹی ہے کہ ایک دفعہ وہ وزن معلوم کرنیوالی مشین پر چڑھی تو مشین میں سے ایک کاغذ نکلا جس پر تحریر تھا. برائے مہربانی ایک آدمی اس پر سے اتر جائے.
دوسرا بولا یار یہ بھی کوئی بات ہے. میری بیوی تو اتنی موٹی ہے کہ ایک مرتبہ میں اس کے کپڑے دھوبی کے ہاں لے گیا تو دھوبی نے کہا یہاں پر کپڑے دھلتے ہیں شامیانے نہیں.

٭ ایک بچہ روتا ہوا ماں کے پاس آیا، ماں نے رونے کی وجہ پوچھی تو بولا
“ابا جان دیوار میں کیل گاڑ رہے تھے تو ان کے ہاتھ پر ہتوڑی لگ گئی”
ماں بولی: بیٹا بہادر بچے ذرا ذرا سی بات پر روتے نھیں، تمھیں تو ہنسنا چاھیے تھا”
بچے نے کہا: “امی ہنسا ہی تو تھا”

٭ شوہر: ملنگ بابا میں اپنی بیوی سے بہت تنگ ہوں کوئی حل بتاو
ملنگ: کوئی حل ہوتا تو میں کیوں ملنگ ہوتا

٭ شوہر نے بیوی سے لڑائی کے بعد بازار سے زہر خریدا اور بیوی کے سامنے کھا لیا کچھ دیر گذرنے کی بعد وہ مرا نہیں
بیوی سر پیٹ کر بولی: سو مرتبہ سمجھایا ہے اچھی چیزیں خریدا کرو تم مرے بھی نہیں اور پیسے بھی رائیگاں گئے؟

انڈے ڈنڈے میں فرق