51

پشاور میٹرو منصوبے کی لاگت میں 22 ارب روپے کا اضافہ ہو گیا

Spread the love

پشاور(سٹاف رپورٹر)پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی(پی ڈی اے)نے کہا ہے کہ پشاور بس

ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی)کی لاگت 71ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ایڈیشل چیف

سیکریٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش کی زیر صدارت 21اگست کو پیشرفت کے حوالے

سے منعقدہ جائزہ اجلاس میں بی آر ٹی کی لاگت میں اضافہ اور پی سی ون پر نظر

ثانی کا معاملہ زیر بحث آیا تھا۔اجلاس کے حوالے سے موصول دستاویزات کے

مطابق پی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر محمد عذیر نے شرکا کو آگاہ کیا تھا

کہ بی آر ٹی کی لاگت میں 3 ارب کا اضافہ ہوگیا ہے اور پی سی ون پر نظر ثانی

ناگزیر ہوگئی ہے۔ایڈیشل سیکریٹری (اے سی ایس)نے لاگت میں اضافے پر تشویش

کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی سمیت

منظوری کے تمام فورمز میں یہ واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ پی سی ون کا جائزہ

نہیں لیا جائے گا اور منصوبے کی تکمیل کے لیے وقت میں مزید توسیع بھی نہیں

دی جائے گی۔پی ڈی اے کے عہدیداروں کا اس بات پر زور تھا کہ منصوبے کی

لاگت میں اضافہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی نتیجہ ہے اور کوئی اضافی رقم

کی ضرورت نہیں ہوگی۔اے سی ایس نے اجلاس کے شرکا کواس معاملے

پرفیصلے کے لیے مضبوط شواہد کے ساتھ علیحدہ سے ایک پریزنٹیشن دینے کی

ہدایت کی تھی۔خیال رہے کہ اگر پی سی ون پر نظرثانی کی جاتی ہے تو دوسری

مرتبہ ایسا ہوگا جب گزشتہ برس کے اوائل میں منصوبے کی لاگت ناقص ڈیزائن

کے باعث 68 ارب روپے تک پہنچ گئی تھی جبکہ بنیادی لاگت 49 ارب روپے

تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس کی کارروائی کے مطابق پی ڈی اے کے

سربراہ نے کہا کہ منصوبے کے ٹھیکیدار نے معاہدے کی تمام شقوں پر عمل نہیں

کیا تھا اس لئے اتھارٹی نے انہیں معاہدے کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کردیا

تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹھیکیدار پر ایل ڈی ایس کے تحت کام کے مختلف سیکشنز

مکمل کرنے پر منصوبے کی لاگت کا کم ازکم 5 فیصد اور نقصانات پر معاہدے

کی لاگت پر اعشاریہ 55 فیصد جرمانہ اور معاہدے کی منسوخی بھی زیرغور ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے نمائندے کا کہنا تھا کہ جزوی یا عبوری نقصانات کی ذمہ

داری ٹھیکیدار پر عائد کی جاسکتی ہے اور یہ فیصلہ پی ڈی اے کا ہوگا۔پی ڈی اے

کے سربراہ کا کہنا تھا کہ معاہدے میں ایسی کوئی شق نہیں ہے جسکے تحت

اتھارٹی منصوبے کے کنسلٹنٹ پر جرمانہ عائد کرسکے۔پی ڈی اے کے ترجمان کا

کہنا تھا کہ منصوبے کی فنڈنگ ڈالر میں ہوتی ہے اور اتھارٹی نے اضافی لاگت کا

تخمینہ لگایا ہے لیکن روپے کی قدر میں کمی ممکنہ طور پر اس کا احاطہ کرے

گی۔ترجمان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے نئے قرضے کی ضرورت نہیں ہوگی

اور خیبر پختونخوا حکومت کو بھی اضافی مالی خرچہ برداشت نہیں کرنا پڑے گا۔