32

کسی بھی جارحیت کا پوری قوت سے جواب دینے کیلئے تیارہیں ،عمران خان

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم بحیثیت قوم دشمن

کی کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں ، میں دنیا کو خبردار کرتا

ہوں کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن ہم سلامتی کو لاحق خطرات سے غافل نہیں

رہ سکتے، ہمیں اپنے دلوں کو شہدا کی قربانیوں سے سرشار کرنا چاہئے ،بھارتی

حکومت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہی ہے اور کشمیریوں کے

حقِ خودارادیت کو دبانے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے، عالمی برادری

مقبوضہ کشمیر میں ظلم بند کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے ، کوئی شک نہیں

کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس کی حیثیت میں کوئی بھی تبدیلی پاکستان

کی سالمیت کیلئے براہِ راست چیلنج ہے ، پاکستانی حکومت اور عوام اقوام متحدہ

کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھیں

گے اور کشمیری بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔یوم دفاع کے حوالے سے

اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا پوری قوت سے

جواب دینے کے لئے تیار ہے اورعالمی برادری جنگ کے تباہ کن اثرات کی ذمہ

دار ہوگی۔اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ 1965 کی جنگ میں پاک فوج نے

ثابت کیا کہ عددی برتری کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور آج ہمیں پھر6 ستمبر جیسی

صورت حال کا سامنا ہے کیونکہ ہمارا دشمن لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں

کر رہا ہے۔مجھے اپنی مسلح افواج کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد ہے اور مسلح

افواج دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں

اور ہماری افواج نے حال ہی میں اعلی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت دیا ہے۔عمران

خان نے کہا کہ ہم اپنے شہدا اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ہمیں

اپنے دلوں کو شہدا کی قربانیوں سے سرشار کرنا چاہئے۔بھارتی حکومت مقبوضہ

کشمیر میں ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہی ہے اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت

کو دبانے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر

میں ظلم بند کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کوئی شک

نہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس کی حیثیت میں کوئی بھی تبدیلی

پاکستان کی سالمیت کے لئے براہِ راست چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی

حکومت اور عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خود

ارادیت کی حمایت جاری رکھیں گے اور کشمیری بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں

چھوڑیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ میں عالمی برادری کی توجہ قتلِ عام کی ہندوستانی

ڈاکٹرائن اور غیر محفوظ ایٹمی ہتھیاروں کی طرف بھی دلانا چاہتا ہوں۔ایٹمی

ہتھیاروں کا ایک نسل پرست حکومت کے قابو میں آنا لمحہ فکریہ ہے اور یہ

معاملہ جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے۔