49

ٹی وی اور فلم کے لیجنڈ اداکار عابد علی انتقال کر گئے

Spread the love

لاہور(فلم رپورٹر)فلم، ٹی وی ، ریڈیو اورتھیٹر کے نامور اداکار عابد علی 67برس

کی عمر میں انتقال کرگئے، وہ کراچی کے مقامی ہسپتال میں گزشتہ چند روز سے

زیرعلاج اور جگر کے کینسر میں مبتلا تھے۔ 29مارچ 1952ء کوکوئٹہ میں پیدا

ہونے والے عابد علی نے کیرئیرکا آغا ز ریڈیوپاکستان سے کیا، اس کے بعد

1973ء میں ڈرامہ سیریل ’’جھوک سیال‘‘ کے ذریعے ٹی وی پرایکٹنگ کی

شروعات کی۔ عابد علی نے اپنے کیرئیرکے دوران ان گنت یادگارکردارنبھائے

لیکن ڈرامہ سیریل وارث میں دلاور خان کا کردار ان کی پہچان بنا۔ ان کے مقبول

ڈراموں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں سمندر، آن، پیاس، دوریاں، دشت،

مورت، بنٹی آئی لویو، رخصتی،خان صاحب، دیاردل، کچھ نہ کہو، ناگن، پنجرا،

جلتے گلاب، دلدل، آنگن، دل نادان، گستاخ عشق، دل آراء￿ ، دل کیا کرے نمایاں

ہیں۔ آجکل بھی ان کے دو ڈرامے میرا رب وارث اوررمز عشق آن ائیر ہیں۔ عابد

علی نے ٹی وی کے ساتھ ساتھ بے شمار فلموں میں بھی اداکاری کے جوہردکھائے،

جن میں خاک اورخون، گمنام، آواز، روٹی، نگینہ، انسانیت کے دشمن، کالے چور،

وطن کے رکھوالے، کوبرا، فتح، شیر پنجاب دا، جنگل کا قانون، موسی خا ن اورہیر

مان جا شامل ہیں۔ عیدالاضحیٰ پرریلیز ہونے والی ہیرمان جا کے ذریعے ان کی

پندرہ سال بعد سلورسکرین پرواپسی ہوئی تھی۔ عابد علی نے اپنے فنی سفرکے

دوران تھیٹر پر بھی کام کیا اوران کی حقیقت سے قریب تراداکاری نے ڈرامہ

شائقین کو بے حد متاثر کیا۔ عابد علی نے بطورڈائریکٹراورپروڈیوسر 1993ء میں

مقبول ڈرامہ دشت بھی بنایا جسے پاکستان کی پہلی پرائیویٹ پروڈکشن بھی کہا جاتا

ہے۔ اسی سال انہوں نے دوسرا آسمان کے نام سے ڈرامہ ڈائریکٹ کیا جوبیرون

ملک شوٹ ہونے والا پہلا پاکستانی ڈرامہ تھا۔ ان کی فنی صلاحیتوں کے اعتراف

میں 1985ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن

کارکردگی سے نوازا گیا تھا۔ انہوں نے دوشادیاں کیں، پہلی شادی اداکارہ وگلوکارہ

حمیراعلی سے کی،جن سے ان کی تین بیٹیاں ایمان علی، راحمہ علی اورمریم ہیں

جبکہ دوسری شادی کراچی سے تعلق رکھنے والی اداکارہ رابعہ نورین سے کی۔

ان کی د و بیٹیاں ایمان اورراحمہ شوبز سے وابستہ ہیں۔ عابد علی کے انتقال پر

قوی خان، عرفان کھوسٹ، فردوس جمال، انور مقصود، سمیت دیگر فنکاروں

،ہدایتکاروں اور پروڈیوسرز نے انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے۔آج پرائیویٹ

پروڈکشنز کے نام پرجوکام ہورہا ہے، اس کے بانی بھی عابد علی ہی تھے۔