57

کوئٹہ میں 2بم دھماکے، چھیپا کا اہلکار شہید، 2ایس ایچ اوز،2صحافیوں سمیت 18زخمی

Spread the love

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ

میں یکے بعد دیگرے ہونیوالے دو بم دھماکوں میں ایک شخص جاں بحق اور چھ

پولیس اہلکاروں سمیت 18افراد زخمی ہوگئے ، تفصیلات کے مطابق جمعرات کی

شام کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پرواقع خیزئی چوک کے قریب ایک نجی

ٹرانسپورٹ کمپنی کے دفتر میں اس وقت دھماکہ جب وہاں سے مسافر اپنی منزل

مقصود کی جانب روانہ ہونیوا لے تھے۔دھماکے کے فورا بعد پولیس اور سکیورٹی

فورسز نے جائے وقوعہ گھیرے میں لیا تو فوراََ بعد دوسرا زور دار دھماکہ

ہوگیاجس کے نتیجہ میں 6پولیس اہلکاروں سمیت مزید 10افراد زخمی ہوگئے جن

میں سے 7کو سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا۔ہسپتال ذرائع کی جانب

سے بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے جن میں نجی ٹی وی کا

رپورٹر ابراراورکیمرا مین رحمت علی بھی شامل ہیں ،پولیس کے مطابق ریموٹ

کنٹرول ڈیوائس کا پہلا دھماکا خزائی چوک کے علاقے میں ٹرانسپورٹ کمپنی کے

دفتر میں ہوا،دھماکے کے بعد جیسے ہی پولیس، ریسکیو اہلکار اور میڈیا کے

نمائندے پہنچے تو موٹر سائیکل میں نصب ریموٹ کنٹرول کا دوسرا دھماکہ بھی ہو

گیا،بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شہوانی نے کہا یکے بعد دیگرے دو

دھماکوں کے نتیجہ میں ایک ریسکیو اہلکار جاں بحق اور 18افراد زخمی

ہوئے،جن میں 2ایس ایچ اوزسمیت 6پولیس اہلکار بھی شامل ہیں ، بم دھماکوں کے

بعد سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل

سٹاف کو طلب کر لیا گیا ۔زخمی ایس ایچ اوز میں ایئرپورٹ ایریا میں متعین نیاز

احمداور ایس ایچ او خروٹ آباد نورحسن شامل ہیں جبکہ دھماکہ میں چھیپا کے

اہلکار محمد نعیم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے ، واقعہ کے بعد شہر

میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے

کوئٹہ بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا ملک دشمن عناصر امن و

امان کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانا

چاہتے ہیں۔ واقعہ میں فلاحی ادارے کی ایمبولینس کے اہلکار کی جان کے ضیاع

پر دکھ پہنچا ہے۔ زخمیوں کی بہترین نگہداشت کے احکامات جاری کر دیئے ہیں ۔

وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے بھی واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے

رپورٹ طلب کرلی ہے۔

واضح رہے یہ کوئٹہ میں چھ ہفتے کے دوران پانچواں دھماکہ ہے۔16 اگست کو

کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک کی مسجد میں نماز جمعہ کے بعد زوردار

دھماکے کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوگئے تھے۔6 اگست کو

مصروف میزان چوک کی جوتوں کی مارکیٹ میں دھماکے سے ایک شخص جاں

بحق 13 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کا تعلق ہزارہ برادری سے تھا۔قبل

ازیں 30 جولائی کو سٹی تھانے کے قریب دھماکے میں 5 افراد جاں بحق اور 30

زخمی ہوئے تھے۔حملے کی ذمہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے

قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔23 جولائی کو کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس

میں دھماکے سے 4 افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہوئے۔