73

کالا جادو، خونخوار لومڑیاں اور909 کا چڑیل کی مدد کرنےکا فیصلہ

Spread the love

909

ریحان اور اس کا بھائی شہزاد بری طرح ڈر گئے تھے،ایک لمحے کیلئے909 کو

بھی دھچکا لگا تھا،اس نے فوراً آگے بڑھ کر کمرے کی کھڑکی کھول دی، انتہائی

تیز ہوا کا جھونکا اندر داخل ہوا اور ساتھ ہی کھڑکی کا پٹ دھماکے کیساتھ واپس

اپنی جگہ پر آلگا، ایسے اس کو کسی نے باہرسے اندر کو دھکیلا ہو، 909 فوراً

پیچھے ہٹ گیا، کیا یہ ہوا کا پریشر تھاِ؟ ریحان کی ڈری ہوئی آواز سنائی دی، اگلے

ہی لمحے کھڑکی کا پٹ پھر باہر کی جانب زور دار دھماکے سے کھلا، کمرے میں

پھرتیزہوا کا جھونکا داخل ہوا تو لومڑیوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں آنے لگیں

ریحان کا بھائی شہزاد 909 سے بولا بھائی جان کھڑکی بند کردیں اور نیچے چلتے

ہیں، مجھے شدید خوف محسوس ہو رہا ہے، 909 بولا اس میں ڈرنے کی کوئی بات

نہیں تم دونوں نشے میں ہو اسلئے گھبرا گئے ہو ایسا کچھ نہیں، یہ کہہ کر وہ پھر

کھڑکی جانب بڑھا اور اس کے بپھرے ہوئے پٹ پر ہاتھ رکھ کر نیچے باغ میں

جھنانکنا شروع کر دیا، باغ میں گھپ اندھیرا تھا، کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا

جبکہ ہوا کم از کم 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی، درختوں کی

سائیں سائیں عجب سماں پیش کر رہی تھیں، ہر جانب ہو کا عالم تھا۔

909 نے ریحان سے پوچھا کہ باہر پارکنگ میں تو تم لوگوں نے کیمرہ لگا رکھا

ہے، باغ میں سیکیورٹی کیلئے کوئی کیمرہ نہیں؟ ریحان کی بجائے شہزاد بولا کہ

باغ کے دورازے کے اوپر سینسر لائٹ آن ہے، برطانیہ میں سینسر لائٹ کا ان

دنوں کافی رجحان چل رہا تھا، جیسے ہی کسی شے کا سایہ اس لائٹ کی رینج میں

آتا وہ خودبخود جل پڑتی تھی، 909 نے شہزاد سے پوچھا کہ سینسر لائٹ کی رینج

کتنے فٹ رکھی ہے تو اس نے بتایا اسے 6 فٹ پرایڈجسٹ کیا گیا تھا، یعنی باغ کا

دروازہ جو کہ کچن سے ملحقہ تھا جیسے ہی کوئی اس کے قریب بڑھے گا 6 فٹ

فاصلے پر لائٹ آن ہو جائے گئی، ہوا مسلسل خوفناک طریقے سے کمرے میں

داخل ہو رہی تھی، 909 نے کھڑکی کے پٹ پر مضبوطی سے ہاتھ جمایا ہوا تھا،

یہ بھی پڑھیں: رجو کی الوداعی ملاقات، یہودی کی بیوی کا قتل اورشیطانی طاقتیں

اس نے قریب پڑا سرہانہ دوسرے ہاتھ سے اٹھایا اور نیچے پھینک دیا، کھڑکی کے

عین نیچے کچن کا باغ کی جانب کھلنے والا دروازہ تھا اس کے اوپر سنسر لائٹ

نصب تھی، جیسے ہی سرہانہ سنسر لائٹ کے پاس سے گزرتا نیچے گرا جھماکے

سے روشنی پیدا ہو گئی، دکھائی دینے والا منظر انتہائی خوفناک اور دل ہلا دینے

والا تھا، 909 کے منہ سے بے اختیار نکلا ’’اوہ مائی گاڈ، ادھر آئو یہ دیکھو کیا

ہو رہا ہے‘‘ دونوں بھائی آگے بڑھے اور باغ میں نظر دوڑائی تو شہزاد کے منہ

سے بے اختیار نکلا اور میرے خدایا، یہ کیا ہو رہا ہے؟ باغ میں دو لومڑیوں نے

ایک جگہ زمین کو کھود رکھا تھا اور اس میں پڑے ایک مردار کو نوچ نوچ کر

کھا رہیں تھیں، گھاس پر مردار کی باقیات بکھری پڑی تھیں، ایک سر دکھائی دے

رہا تھا جس کا بھیجا کھایا جا چکا تھا اور دور سے معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ یہ

کسی جانور کا ہے یا پھر انسان کا۔

ریحان کو اچانک چکر آیا اور وہ قریب بیڈ پر ہی گر گیا، شہزاد اس کی طرف

متوجہ ہوا، اسی دوران 120 سیکنڈ گزر چکے تھے اور یکدم باغ کی لائٹ آف

ہوگئی، لائٹ کی ٹائمنگ ہی 120 سیکنڈ تھی، لومڑیوں نے اوپر کھڑکی کی جانب

دیکھا توان کی سرخ خونخوار آنکھیں جیسے 909 کا تعاقب کر رہی تھیں، 909

نے فوراً کھڑکی بند کر دی اور اسکو لاک کر دیا، اسکا سارا سرور ہرن ہو چکا

تھا، وہ بھی فوراً ریحان کی جانب متوجہ ہوا، شہزاد بولا فوراً 999 پر کال کرکے

ایمبولینس بلانی چاہئے، 909 نے اسے کہا کیوں کسی نئی مصیبت میں پڑنا چاہتے

ہو، یہ ہلکی پھلکی حرکت کر رہا ہے اس کو کچھ نہیں ہوا بس چکر آیا اور گر گیا،

بے ہوش نہیں ہوا اس کو نیچے لے جاتے ہیں، پھر ریحان کو اٹھا کر کندھوں کے

سہارے ساتھ والے بیڈ روم میں لیجایا گیا، یہ شہزاد کا کمرہ تھا اور اس میں منی

فریج بھی موجود تھا، شہزاد کا کمرہ واقعی دیکھنے کے قابل تھا، اس نے دیواروں

پرنیم برہنہ ماڈلز کے پورٹریٹ، دلکش ڈیکوریشن پیس ٹیبل پر سجا رکھے تھے،

شہزاد نے فوراً فریج کھول کر سافٹ ڈرنک نکالی اور ریحان کو کہا کہ تھوڑا پانی

پی لے،اس نے نیم بے ہوشی کی حالت میں منہ کھولا، جیسے ہی تلخ پانی اسکے

اندرگیا اس نے ایک جھرجھری سی لی اور آنکھیں کھول دیں، وہ انتہائی حیرانی

کیساتھ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا، پھر اٹھ کر بیٹھ گیا اور بولا کل صبح ہونے سے

پہلے یہ گھر چھوڑنا ہو گا، بس یہ میرا فیصلہ ہے، 909 نے ماحول کو خوشگوار

بنانے کیلئے اس کا تمسخر اڑانا شروع کر دیا کہ بس ڈر گئے، اپنے ہی گھر میں

ڈر گئے، یار تم تو بالکل بچہ بن گئے ہو، اٹھو ہوش کرو، باغ میں لومڑیاں اپنا

شکار کر رہی تھیں اور کچھ بھی نہیں، تیز ہوا تو ہر روز چلتی ہے، اس میں ڈرنے

والی کیا بات ہے؟ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور شہزاد سے ہم کلام ہوا ’’بھائی ساتھ والے

دروازے کو لاک کر دو، فوراً اسے لاک کر دو‘‘ شہزاد بھی شاید موقع کی مناسبت

سے خوفزدہ تھا، 909 سے بولا بھائی جان آپ بھی میرے ساتھ چلیں، یہ کہہ کر

اس نے اپنی ٹیبل کے دراز سے چابیوں کا گچھا نکالا اور دونوں کمرے سے باہر

نکلے اور ساتھ والے کمرے کے دروازے کے قریب پہنچے تو وہ بند تھا، حالانکہ

ریحان کو جس وقت اس کمرے سے سہارا دے کر باہر لایا گیا تھا اس وقت کمرے

کا دروازہ کھلا تھا، اسے کس نے بند کیا یہ بھی ایک معمہ تھا، شہزاد اور909

دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے-

909 نے شہزاد سے کہا کہ ٹھہرو پیچھے ہٹو، یہ کہہ کر اس نے زور سے دورازہ

کھولا، اندر کوئی نہیں تھا، کھڑکی بھی بند تھی، 909 نے لائٹ آف کی، دروازہ بند

کیا اور شہزاد سے کہا اسے لاک کر دو، شہزاد نے فوراً کمرہ لاک کر دیا، پھر

دونوں ساتھ والے کمرے میں آ گئے، شہزاد نے اندر داخل ہوتے ہی ریحان کو بتایا

کہ کمرے کا دروازہ خود بخود بند ہو گیا تھا، بہرحال اسے لاک کر دیا گیا ہے،

مزید پڑھیں: رائی گیٹ ایونیو، سکنک اورمائیکل کی گرل فرینڈ شیلے

909 نے دونوں سے کہا ہوش کرو اور گھبرانے کی بجائے نیچے آ جائو، کوئی

بھی جذباتی فیصلہ تم دونوں کیلئے نقصان دہ ہو گا کیونکہ معاہدے کے مطابق تم

اتنی آسانی سے گھر کو نہیں چھوڑ سکتے اس صورت میں بینک اچھی خاصی رقم

کاٹ لے گا اور پھر اتنی جلدی سے کوئی دوسرا گھر بھی ملنے والا نہیں، اس

کیلئے بھی دو تین ماہ لگ جائیں گے۔شہزاد نے 909 کی باتوں کی تصدیق کی اور

کہا کہ اگر گھر میں کوئی جنات وغیرہ کا سایہ بھی ہے تو اس نے آج تک ہمیں

کوئی نقصان نہیں پہنچایا پھر ڈرنے کی ضرورت بھی نہیں، بھائی جان اب ہمارے

ساتھ اسی گھر میں رہنے کیلئے تیار ہیں، ایسا کچھ ہوا ہی نہیں کہ ڈرا جائے، بس

دروازہ خودبخود بند یا پھر کھل جاتا ہے، یہ ہمارا وہم بھی ہو سکتا ہے، باغ میں

لومڑیوں کا شکار ایک عام بات ہے اس میں ڈرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے،

ریحان اپنے بھائی کی تقریر پر خاموش رہا اور پھر تینوں کمرے سے باہر نکل کر

نیچے ڈرائنگ روم میں آ کر بیٹھ گئے۔

شہزاد نے فوراً تین گلاسوں میں بوتل کا نیم سیاہ پانی ڈالا اور وہ سب پینے لگے،

ریحان نے ایک گھونٹ لیا اور بولا کیا تم جانتے ہو میں نے باغ میں کیا دیکھا؟ سب

اس کی شکل دیکھنے لگے، وہ بولا کہ اس نے باغ میں لومڑیوں کے پیچھے کباڑ

والی ہٹ کے پاس ایک عورت کا وجود دیکھا اس کے کالے سیاہ بال اس کے آدھے

منہ پر تھے بس وہ ایک لمحے کیلئے مجھے دکھائی دی، میں نے غور سے دوبارہ

اسے دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ مجھے دکھائی نہیں دی اور اسی دوران

مجھے چکر آ گیا اور میں بیڈ پر گر گیا، اس نے قسم کھا کر یقین دلوانے کی

کوشش کی کہ وہ سچ کہہ رہا تھا، 909 اسکی بات پر متوجہ ہوا، وہ جانتا تھا کہ

ریحان سچ کہہ رہا تھا، اسے تجسس پیدا ہوا، اس نے فوراً شہزاد سے کہا کہ باغ

کی لائٹس آن کرو جا کر دیکھتے ہیں کہ اصل ماجرا کیا ہے، ریحان اور شہزاد کی

تو اچانک سیٹی گم ہو گئی وہ بولے بھائی جان ابھی رہنے دیں بہت اندھیرا ہے،

رات کے اڑھائی بج رہے ہیں، ہوا کا طوفان ہے اور آپ باغ کی سیر کو جا رہے

ہیں، 909 ہنس پڑا تو وہ دونوں بھی مسکرا دئے، 909 نے کہا اسے انہی موقعوں

کی تلاش رہتی ہے، ایسے موقعے پھر نہیں آتے بڑا کچھ مل جاتا ہے لیکن تم

دونوں نہیں سمجھو گئے، یہ کہہ کر اس نے اپنا موبائل فون نکالا، اس کی ٹارچ آن

کی، پھر اس نے جیب سے بنا بنایا سپلف نکالا اس کو سلگایا اور دو تین لمبے کش

کھینچے یوں ایسے اس کے جسم میں کوئی نئی توانائی اتر گئی ہو، وہ فوراً باہر کی

جانب نکل گیا اور کچن کے پاس آ گیا، شیشے کا چوڑا، مضبوط دروازہ بند تھا،

باہر باغ میں گھپ اندھیرا تھا، اسی دوران دونوں بھائی بھی اس کے پیچھے آ گئے،

شہزاد نے گیزر کے پاس ایک بٹن کو دبایا تو باغ کی لائٹ آن ہو گئی، لومڑیاں جا

چکی تھیں اور وہاں کسی بھی جانور کی رتی برابر باقیات دکھائی نہیں دے رہی

تھیں، 909 نے شیشے کا دروازہ کھولا تو تیز ہوا کا جھونکا اندر داخل ہوا، 909

نے باغ میں قدم رکھا اور سگریٹ کا کش کھینچا تو اس کی چنگاڑیاں اڑتی ہوئیں

دور دور جا گریں، وہ باغ کے درمیان میں واقع کھودی گئی جگہ پر جا پہنچا اور

اس جگہ کا معائنہ کرنے لگا، اس نے جھک کر دیکھا تو اسے ایک ہڈی دکھائی

دی، اس نے اسے ہاتھ نہ لگایا، وہ جانتا تھا ایسے موقعوں پر کسی بھی شے کو ہاتھ

نہیں لگایا جاتا ورنہ سارا عمل خراب ہو جاتا ہے، پھر اس نے باغ کے آخر پر کباڑ

کے ہٹ کو غور سے دیکھا، کچھ دکھائی نہ دینے پر اس نے واپس جانے کا سوچا

لیکن وہ جانتا تھا کوئی انجانی غیر مرئی شے اسے دیکھ رہی ہے اور وہ کہاں سے

دیکھ رہی ہے یہ بھی وہ جانتا تھا، اسلئے اس نے فوری ایکشن کا فیصلہ کرتے

ہوئے اچانک تیزی سے پیچھے کو سر گھمایا اور اوپر کمرے کی کھڑکی کی جانب

دیکھا، اسے یوں محسوس ہوا کہ جیسے کوئی شے بڑی پھرتی سے پیچھے کو ہٹ

گئی تھی، وہ کوئی سایہ تھا، 909 نے اسے ٹریس کر لیا تھا، یہ وہی عورت تھی

جس کا قتل ہوا تھا، ضرور اس باغ کی مٹی تلے کچھ دبا ہے تبھی وہ اس گھر میں

موجود ہے اور اس شے کو نکالنا چاہتی ہے جس کیلئے وہ لومڑیوں کا سہارا لیتی

ہے لیکن وہ سب ایک سراب بن جاتا ہے اور اصل شے نیچے ہی دبی رہتی ہے، یہ

سب کالے علم کے ایک پاٹ کا حصہ تھا جسے909 خوب جانتا تھا، گیم کھیلنے کا

مزہ آئیگا، وہ زیر لب بولا اور پھر واپس کچن میں آ گیا، اس نے شیشے کا دروازہ

بند کرکے اسے خود ہی لاک کر دیا، ریحان اور شہزاد خاموش کھڑے تھے، اس

نے ریحان سے کہا دیکھو بھائی گھر میں کوئی آسیب وسیب نہیں، تم لوگوں کا وہم

ہے، اگر کچھ ہوتا تو مجھے فوراً معلوم ہو جاتا، آئو اندر چلیں صبح کی روشنی

میں باغ کی صفائی کرینگے۔ یہ کہہ کر تینوں ڈرائنگ روم میں جا کر بیٹھ گئے،

البتہ ریحان ڈرا ہوا تھا اسنے کہا بھائی جان ایسا ممکن نہیں گھر میں آسیب تو ہے،

میں کوئی بچہ نہیں ہوں، میں نے خود کباڑ ہٹ کے قریب ایک عورت کو کھلے

بالوں کیساتھ دیکھا ہے، میں اب اس گھر میں بالکل نہیں رہ سکتا اور اکیلا تو کسی

صورت میں نہیں رہ سکتا۔ 909 نے اسے مشورہ دیا کہ بہتر یہی ہے تم دو ہفتوں

کی چھٹی لے کر والدین سے مل آئو، واپسی پر تم لوگوں کو یہ گھر خالی کرنا پڑے

گا کیونکہ اس گھر میں کوئی عورت نہیں بلکہ ایک چڑیل رہتی ہے-

یہ چڑیل بے ضرر ہے اور تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتی، اسے بھی مدد

کی ضرورت ہے اور میں کل ہی یہ کام کرنے جا رہا ہوں، اگر تم بھائیوں میں

حوصلہ ہے تو میرے ساتھ تماشا دیکھ لینا ورنہ دور رہنا، اگر وہ چلی گئی تو پھر

اس گھر کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں، البتہ مجھے ابھی جانا ہو گا، یہ سن کر تو

دونوں بھائیوں کی بولتی بند ہو گئی، ریحان نے خدا کے واسطے ڈالنا شروع کر

دئے کہ بھائی جان آپ نہیں جا سکتے، رک جائیں ورنہ ہم بھی آپ کیساتھ جائیں

گے، 909 نے کہا کہ مجھے دال میں کچھ کالا نظر آ رہا ہے لگتا ہے کہ کسی نے

میری گاڑی کیساتھ گڑ بڑ کی ہے آئو باہر چلو دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ جاری ۔۔۔۔۔۔

Agent 909 Dr,I.S introduction