201

سلام یاحسین علیہ السلام ، لبیک یاحسین علیہ السلام

Spread the love

(جرنل ٹیلی نیٹ ورک آن لائن خصوصی رپورٹ) امام حسین علیہ السلام

اسلامی جمہوریہ پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں ماہ محرم الحرام کا چاند

نظر آگیا اور نواسہ رسول اللہ حضرت امام حسین علیہ السلام سمیت تمام شہدائے

کربلا کی عزاداری کے سلسلے کا بھی باضابطہ آغاز ہوگیا ہے۔

آج اسلامی کیلنڈر کے سال 1441ھ کا آغاز ہے، محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا

مہینہ ہے اس کا شمار ان چار مقدس اور محترم مہینوں میں ہوتا ہے جن کا ذکر

تعلیمات اسلامی میں عزت و عظمت والے مہینوں کی حیثیت سے ہوا ہے۔ محرم

الحرام ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں، صبرو برداشت، استقامت و ہمت، حق گوئی

اور اعلیٰ انسانی اقدار کی بقاء کیلئے ہر طاغوتی قوت کے سامنے ڈٹ جانے کا

ابدی پیغام دیتا ہے۔ اس کیساتھ واقعہ ہجرت نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع

پر انصار و مہاجرین کی باہمی اخوت و محبت، اتحاد و یگانگت کے جذبات کے

فروغ کی یاد بھی دلاتا ہے جو مثالی فلاحی معاشرے کی بنیاد ثابت ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: لیلۃ القدر—– دلیل امامت و ولایت

61ھ کو تاریخ عالم اور اسلام میں اسی ماہ ایک ایسا معرکہ بھی ہوا جس نے رہتی

دنیا تک حق اور باطل میں فرق کو نہ صرف ہمیشہ ہمیشہ کیلئے واضح کر دیا بلکہ

اہل حق کیلئے ایک راہ بھی متعین کر دی- اس معرکہ کو واقعہ کربلا کے نام سے

جانا جاتا ہے اور ہر ہجری سال کے پہلے عشرے میں اس کی یاد صرف اہل اسلام

ہی نہیں دیگر مذاہب کے پیروکار بھی مناتے ہیں-

نواسہ رسولؐ حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت اسلام اور انسانیت کی بقا

کیلئے تھی، آپؑ کی جدوجہد دین محمدی کو یزیدی فکر اور فرسودہ نظام سیاست

سے محفوظ رکھنے کیلئے تھی۔ حضرت امام حسینؑ کی جدوجہد دین اسلام کیلئے،

انسانی اقدار اورعوامی حقوق کے تحفظ کیلئے تھی، نواسہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ

وآلہ وسلم کی جدوجہد بلاتفریق مذہب و مسلک پوری انسانیت کیلئے تھی۔

یزید بن معاویہ ملعون نے اقتدار پر قبضہ مستحکم کرنے کیلئے اہل بیت اطہار پر

ظلم کے پہاڑ توڑے اور تاریخ انسانی کا بدترین گناہ اور جرم کیا، حضرت امام

حسین علیہ السلام حق تھے اور یہ حق قیامت تک کیلئے باوقار اور سربلند رہیگا،

امام حسین علیہ السلام نے ظالم یزیدی نظام کو چیلنج کیا اور یزید کے باطل اقتدار

اور فسق و فجور پر مبنی نظام حکومت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا اور

تاریخ عالم کی بے مثال قربانی دے کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے حق اور باطل، سچ اور

جھوٹ کے درمیان لکیر کھینچ دی۔ بلاشبہ حق کے راستے میں سختیاں بھی آتی ہیں

اور ان سختیوں کو خندہ پیشانی کیساتھ برداشت کرنا حسینیت ہے، جب تک حسینی

فکر ہمارے ایمان کا نیوکلیس رہے گی کوئی امیر معاویہ کا بیٹا یزید اپنے ظالم

اقتدار کو زیادہ دیر تک مسلط نہیں رکھ سکے گا۔

مزید پڑھیں: من کنت مولا ہ فہذا علی مولا ہ جسکا میں مولا، اسکا علی مولا

اہل بیت اطہار علیہ السلام کی عزت و تکریم کی اہمیت اور فضیلت اس حدیث

مبارکہ سے واضح ہوتی ہے جس میں آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیر

المومنین حضرت علی ابن ابیطالب، حضرت فاطمۃ زہرا، حضرت امام حسن اور

حضرت امام حسین علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا جو تمہارا دوست وہ

میرا دوست، جو تمہارا دشمن وہ میرا اور اللہ کا دشمن، تم جس سے لڑو گے میں

بھی اس کیساتھ حالت جنگ میں ہوں اور جس سے تم صلح کروگے اس سے میری

بھی صلح ہے- اسی طرح ایک اور موقع پر سرکار دو عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

نے فرمایا “ترجمہ :—– حسین مجھ سے ہے اور میں حسین علیہ السلام سے ہوں

محرم الحرام ہمیں سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی

شہادتوں یاد منانے کیساتھ ساتھ ان کے مشن اور جدوجہد کی طرف بھی متوجہ کرتا

ہے، ظلم کے سامنے ڈٹ جانا اور ظالم و جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہنا

درس کربلا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملکی مسائل کے حل کیلئے سیاست علوی کا مطالعہ ضروری

بلاشبہ 61ھ کے بعد متعدد پہلوؤں کا حامل اسلامی سال کے پہلے مہینے محرم

الحرام کا پہلا عشرہ ذبح عظیم اور سانحہ انسانیت کیلئے ایک عظیم سرمایہ ہے،

کیونکہ یہ سرمایہ فرزند رسول خدا حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے

اصحاب باوفا اور اطفال حسینی کی بے مثال شہادتوں کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔

واقعۂ کربلا کسی فرد یا گروہ کے ذاتی یا حتیٰ کہ قومی مفادات کیلئے بھی وقوع

پذیر نہیں ہوا، بلکہ یہ واقعہ اور امام حسین علیہ السلام اور ان کے دلیر ساتھیوں

کی شہادت ایک مکتب ہے جس میں انسانیت کیلئے توحید، امامت، امربالمعروف

اور نہی عن المنکر، حقیقت طلبی، ظلم کیخلاف جنگ، انسانی کرامت و عزت اور

اس جیسے دیگر دروس اور اہداف ہیں جنہیں حاصل کرنا چاہئے، اگر یہ انسان ساز

مکتب، نسل در نسل انسانوں میں منتقل ہوتا رہے، تو پوری انسانیت کو اس سے

فائدہ پہنچے گا۔

حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے تمام مسلمانوں کو یہ درس

دیا کہ سچ کے علم کو بلند رکھنا، آزمائش کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو، ظلم اور

جھوٹ کیخلاف مزاحمت کرنا۔ اس ضمن میں اگر محرم الحرام کو تلوار پر خون،

باطل پر حق کی فتح کا مہینہ کہا جائے تو کسی طور بے جا نہ ہوگا، کیونکہ یہ

ایثار، تحمل اور صبر کا مہینہ ہے، اس ماہ مقدس میں امن و امان برقرار رکھنے

کیلئے سب کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا، علمائے کرام اور ذاکرین حضرات

مجالس میں اتحاد بین المسلمین کو فروغ دے کر دشمنان اسلام و وطن کو شکست

دیں۔ آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ اتفاق، رواداری، برداشت و مذہبی ہم آہنگی کی

انفرادی و اجتماعی سطح پربے انتہا ضرورت ہے۔ ان اعلیٰ اخلاقی قدروں پر عمل

کرنے کے بعد ہی ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا جو ہر اعتبار سے اسلام کا

مطلوب ومقصد ہے۔

ان ایام عزا ماہ محرم الحرام کی مناسبت سے جرنل ٹیلی نیٹ ورک آن لائن اپنے

تمام سامعین، ناظرین، عزاداروں اور کرم فرماؤں کی خدمت میں تعزیت و تسلیت

پیش کرتا ہے۔ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اللہ سبحان تعالیٰ سے دعا ہے وطن عزیز

کو دن دگنی اور رات چگنی ترقی سے ہمکنار فرمائے اور بحثیت قوم ہمیں ماہ

محرم الحرام کی اہمیت کو اسکی روح کے مطابق سمجھنے اور اس پر عمل پیرا

ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ کیونکہ ہے کوئی میری مدد و نصرت کرنیوالا کی

یوم عاشور لگائی گئی مولا امام حسین علیہ السلام کی صدا آج بھی اس طرح پوری

کائنات میں گونج رہی ہے اور جو اس پر لبیک کہتا جائےگا وہ حسینی لشکر کا

حصہ بنتا جائیگا، یہ بھی دعا ہے رب ذوالجلال ہمیں اس جہاں میں اور اس جہاں

میں لشکر امام حسین علیہ السلام میں شمار فرمائے- ( الہٰی آمین یا رب العالمین )