225

“اِس ہاتھ دے اْس ہاتھ لے” کا اصول ہی سکہ رائج الوقت

Spread the love

سفارت کاری ایک سفاک شعبہ ہے، جو دراصل دوسرے کی کمزوریاں اپنے حق

میں استعمال کرنے کا نام ہے۔ روٹھنے منانے کا فن خاندانی رشتوں ناتوں میں تو

کام آجاتا ہے مگر سفارت کاری میں ’’اِس ہاتھ دے اْس ہاتھ لے‘‘ کا اصول ہی سکہ

رائج الوقت ہے۔ سفارت کاری میں ناراضگی بھی اداکاری اور دوستی بھی اداکاری

ہے۔ جس ملک نے اس پیشے کو دل پر لے لیا اور روٹھا ہوا محبوب بن گیا وہ

سراسر خسارے میں رہا۔ خارجہ پالیسی میں جذباتیت کے مظاہرے سے ایک

تاریخی سبق ہم پہلے بھی سیکھ چکے ہیں، سقوط مشرقی پاکستان سے چند دن

پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پولینڈ

کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی قرار داد کو مسترد کرتے ہوئے نوٹس

پھاڑا اور باہر نکل آئے۔ اس وقت واہ !واہ! تو بہت ہوئی مگر کیا اس کرتب سے ہم

مشرقی پاکستان بچا سکے؟ نہیں! اور جب بنگلہ دیش بن گیا تو جس جس ملک نے

بھی بنگلہ دیش کو تسلیم کیا صدر ذوالفقار علی بھٹو نے ان تمام ممالک سے سفارتی

تعلقات معطل کر دئیے۔ حتیٰ کہ دولت مشترکہ سے بھی ’’علیحدگی‘‘ اختیار کرلی

لیکن جب چند ماہ بعد غلطی کا احساس ہوا تو خاموشی سے تمام ممالک سے نہ

صرف سفارتی تعلقات پھر سے جوڑ لئے بلکہ دنیا نے یہ منظر بھی اپنی آنکھوں

سے دیکھا کہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے لاہور میں منعقدہ اجلاس کے موقع پر

بنگلہ دیش کو تسلیم کر کے ذوالفقار علی بھٹو نے شیخ مجیب الرحمن کا ’’میرا

بھائی‘ ‘‘کہہ کر استقبال کیا۔

سعودی عرب کیساتھ بھارت کے تعلقات کا آغاز سعود الفیصل کے دور سے ہوا

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے پاکستانی خارجہ پالیسی سے اختلافات

کھل کر سامنے آگئے

بین الاقوامی سیاست ’’پریگمیٹزم ‘‘(یعنی عملی معاملات کی خاطر تعلق) کے دور

میں داخل ہو چکی ہے۔ سفارت کاری میں اصول پسندی اور اخلاقیات کا دور اب جا

چکا ہے۔ امریکہ ہو یا یورپ ہر جگہ علاقائی سیاست و عملی معاملات کا دور نظر

آرہا ہے۔ بھارت کیساتھ مشرق وسطی کا رویہ گزشتہ آٹھ دس برس میں پوری طرح

سے بدل چکا ہے۔ بھارت اور عرب دنیا کے تعلقات میں بڑی تبدیلی 2001ء میں

بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ کے دور میں آئی۔ سعود بن فیصل بن العزیز

السعود(سعود الفیصل) کیساتھ جسونت سنگھ کی ملاقات کے موقع پر سعود الفیصل

نے کشمیر پر اپنے موقف کے متعلق ایک صفحہ پڑھ کے سنایا جس پر جسونت

سنگھ نے کہا تھا ’’ہم آپکے ایک بھی جملے یا فقرے سے اختلاف نہیں رکھتے‘‘،

جس کو بعد میں کشمیر پر سعودی عرب کا ’’خطِ فیصل ‘‘کہا گیا۔ اس رشتے کی

گرمی 2006 ء میں مزید دیکھی گئی جب سلطان عبداللہ بن عبدالعزیز بھارت کے

یوم جمہوریہ کے موقع پر مہمان خصوصی بنائے گئے اور مزید برآں رواں سال

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھارت کا دورہ بھی کیا۔ شروع میں دونوں

ممالک کے درمیان توانائی اور معاشی تعاون پر زور تھا لیکن 2010 ء کے بعد

سے دہلی اور ریاض سٹرٹیجک شراکت دار بن چکے ہیں، سعودی آئل کمپنی

آرامکو بھارت کی تیل کمپنی میں 75 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

اپریل 2016 میں سعودی عرب نے مودی کو اعلی ترین سول ایوارڈ ’’آرڈر آف

کنگ عبدالعزیز‘‘ سے بھی نوازا ۔

پوری دنیا میں دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ پر حاوی ہوتا ہے، پاکستان کو

بھی دینے والے ہاتھ کی پوزیشن میں آنا ہوگا

اصل صورتحال یہ ہے پچھلے 72 سال سے پاکستان عالم اسلام کی یک طرفہ

محبت میں گرفتار ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ یہ بات کب سمجھ میں آئے گی

کہ یہ ’’عالم مفادات‘‘ ہے، جسے نظریاتی، تہذیبی، تاریخی و جغرافیائی رشتوں

کے ریشم میں کسی بھی وقت لپیٹ دیا جاتا ہے۔ پاکستان نے اسلام پرستی سے کہیں

زیادہ عربوں سے دوستی کی قیمت چکائی ہے۔ پاکستان سینہ تانے اسرائیل کیخلاف

کھڑا تھااور آج بھی کھڑاہے مگر عرب ممالک کی اکثریت اسی اسرائیل کی بانہوں

میں باہیں ڈالے رقص کرتی نظر آرہی ہے۔ پاکستان تو عربوں کی معمولی آواز پر

لائو لشکر لے کر پہنچ جاتا تھا خواہ وہ عرب اسرائیل جنگ ہو،اردن میں نسل کشی

ہو یا خانہ کعبہ کی حفاظت یا نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد کی قیادت، کہاں کہاں

پاکستان نے محبت نچھاورنہیں کی بلکہ دوسرے الفاظ میں اگر یہ کہا جائے ’’ہم

نے وہ قرض بھی چکائے جو واجب بھی نہ تھے‘‘۔ پاکستان نے شاید پہلی بار

1990ء میں کویت پر عراقی قبضہ چھڑوانے کی اتحادی مہم میں سعودی خواہش

کے برعکس مؤثر فوجی ساتھ دینے سے معذرت کی تھی۔ پھر اپریل 2015ء میں

یمن کی لڑائی میں خلیجی اتحاد میں شمولیت سے انکار کیا اور اب ایران کیخلاف

خلیج میں جو نئی صف بندی ہو رہی ہے اس میں بھی پاکستان اسلامی ممالک کے

کاغذی فوجی اتحاد میں علامتی شمولیت، بلاواسطہ دباؤ اور براہِ راست ترغیبات

کے باوجود جس حد تک غیر جانبداری نبھا سکتا ہے نبھا رہا ہے۔ اس تناظر میں

اگر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات یا دیگر خلیجی ممالک بھارت کیساتھ

اقتصادی و سٹرٹیجک پارٹنر شپ بڑھا رہے ہیں اور مسئلہ کشمیر کو پاکستان کی

عینک سے نہیں دیکھ پا رہے تو اس پر جذباتی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ خارجہ پالیسی

کو کسی ایک پلڑے میں نہ رکھنے کی قیمت ہے اور تیزی سے بدلتے علاقائی

اتحادی نقشے کے اعتبار سے یہ پالیسی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کا نام

نہاد عالم اسلام سے جذباتی رشتہ اسلئے بھی دوسرے مسلمان بالخصوص خلیجی

ممالک کی سمجھ میں نہیں آتا کہ پاکستان سے انہیں ایسا کیا مل سکتا ہے جس کی

مجبوری میں وہ پاکستان کے خارجہ و داخلہ جذبات کا خیال رکھتے ہوئے اپنی انڈیا

پالیسی بنائیں۔ پاکستان سے خلیجی ممالک نے عسکری و غیر عسکری شعبوں میں

جو کچھ بھی لیا وہ قیمتاً لیا۔ اس میں جذباتی رشتہ کہاں سے آ گیا بلکہ پاکستان کا

اقتصادی گراف اتنا گرگیا ہے کہ اب عرب ممالک خاص کر سعودی عرب اور

متحدہ عرب امارات کو پاکستان ایک بوجھ لگنے لگا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی

کیساتھ ان کے اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ عالمی سطح پر جو نئی

سیاست تشکیل پا رہی اس میں دہشت گردی کیخلاف محاذ میں امریکہ کیساتھ انڈیا،

اسرائیل اور یورپی ممالک شامل ہیں جو کہیں نہ کہیں پاکستان کو جانے انجانے

میں تنہا کرتے جارہے ہیں۔

انتشار کے شکار اسلامی ممالک کا دنیا میں اب کوئی یونائیٹڈ اسلامک بلاک

نہیں رہا، ہمیں پاکستان کی فکر کرنی چاہیے

ہمیں بحیثیت قوم خود کو دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے، آنکھوں میں آنسو

بھرنے کی بجائے کچھ ایسا کیا جائے کہ پاکستان بہت کچھ بیچنے اور خریدنے کے

قابل ہو اور لینے والا ہاتھ دینے والے ہاتھ میں بدلتا چلا جائے۔ جس طرح ایک

کنبے میں ’’کماؤ پتر‘‘ کی سب عزت کرتے ہیں اسی طرح عالمی کنبے میں بھی

عزت کا یہی ایک معیار ہے۔ اگر مذہبی و ثقافتی رشتے میں اتنی جان ہوتی کہ وہ

مادی مفادات پر غالب آ سکتا تو پھر تو کسی مسلمان کو کسی مسلمان سے لڑنا ہی

نہیں چاہیے۔ جو فارمولا ہم اپنے خاندان اور پڑوس پر لاگو نہ کر پائے وہ فارمولا

عالمی تعلقات پر کیسے لاگو کر سکتے ہیں؟۔ یہ اچھی بات ہے کہ ہم عربوں کو

تلور کے شکار کی سہولت دیتے ہیں۔ جب کبھی وہ تشریف لاتے ہیں تو انکی گاڑی

بھی خود چلاتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہماری اس مہمان نوازی کے

بدلے وہ بھارت سے 100 ارب ڈالر کی تجارت کو اہمیت نہ دیں۔ ہمیں بھی اب جان

لینا چاہئے کہ انتشار کے شکار اسلامی ممالک کا دنیا میں اب کوئی متحدہ اسلامی

بلاک نہیں رہا، ہمیں اب بڑے ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ وقت اب آن پہنچا

ہے۔ بلکہ اگر یوں کہیں اب امت کی بات چھوڑ کر ہمیں اپنے ملک کی فکر کرنی

چاہیے تو یہ غلط نہ ہوگا۔

سفارت کاری