264

گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا، عظیم شاعر احمد فراز کی آج 11ویں برسی

Spread the love

لاہور(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) احمد فراز

اردو ادب کے عظیم شاعر احمد فراز کو اپنے مداحوں سے بچھڑے گیارہ برس بیت

گئے آج بروز اتوار 25 اگست 2019 کو ان کی گیارہویں برسی انتہائی عقیدت سے

منائی جارہی ہے، احمد فراز گردوں کی بیماری میں مبتلا تھے اور وہ 25 اگست

2008ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی برسی کے سلسلے میں ملک بھر

کے ادبی حلقوں میں تعزیتی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں احمد فراز کی

ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ احمد فراز 14 جنوری 1931 کو

صوبہ خیبر پختونخوا اسوقت کے (شمالی مغربی سرحدی صوبہ) کے شہر کوہاٹ

میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام سید احمد شاہ تھا۔ اردو اور فارسی میں ایم اے کیا۔

ایڈورڈ کالج پشاور میں تعلیم کے دوران ریڈیو پاکستان کیلئے فیچر لکھنے شروع

کیے۔ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ ” تنہا تنہا ” شائع ہوا تو وہ بی اے میں زیر

تعلیم تھے۔ تکمیل تعلیم کے بعد ریڈیو سے علیحدہ ہو گئے اور یونیورسٹی میں

لیکچر شپ اختیار کر لی، یونیورسٹی کی ملازمت کے بعد پاکستان نیشنل سینٹر

پشاور کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ انہیں 1976ء میں اکادمی ادبیات پاکستان کا پہلا

سربراہ بھی بنایا گیا۔ 1989 سے 1990 چیرمین اکادمی پاکستان، 1991 تا 1993

تک لوک ورثہ اور 1993 تا 2006ء تک ” نیشنل بک فاؤنڈیشن ” کے سربراہ

رہے۔ تاہم ٹی وی انٹرویو کی پاداش میں انہیں ” نیشنل بک فاؤنڈیش ” کی ملازمت

سے فارغ کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نامور پشتو شاعر امیر حمزہ خان شنواری کی بابا 25 ویں برسی

احمد فراز جنہوں نے ایک زمانے میں فوج میں ملازمت کی کوشش کی تھی، اپنی

شاعری کے زمانۂ عروج میں فوج میں آمرانہ روش اور اسکے سیاسی کردار کے

خلاف شعر کہنے کے سبب کافی شہرت پائی۔ انہوں نے جنرل ضیا کے مارشل لا

کے دور کیخلاف نظمیں لکھیں جنہیں بہت شہرت ملی۔ مشاعروں میں کلام پڑھنے

پر انہیں ملٹری حکومت نے حراست میں لے لیا بعدازاں رہائی ملنے پر احمد فراز

کو مجبوراََ خود ساختہ جلاوطنی بھی برداشت کرنا پڑی۔

انہوں نے متعدد ممالک کے دورے کیے۔ ان کا کلام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور

پشاور یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے۔ جامعہ ملیہ بھارت میں ان پر ” احمد

فراز کی غزل ” اور بہاولپور میں ” احمد فراز، فن اور شخصیت ” کے عنوانات

سے پی ایچ ڈی کے مقالے تحریر کیے گئے-

مجموعہ کلام

احمد فراز کے مجموعہ کلام میں تنہا تنہا، دردِ آشوب، شب خون، نایافت، میرے

خواب ریزہ ریزہ، بے آواز گلی کوچوں میں، نابینا شہر میں آئینہ، پسِ اندازِ موسم،

سب آوازیں میری ہیں، خوابِ گُل پریشاں ہے، بودلک، غزل بہانہ کروں، جاناں

جاناں، اے عشق جنوں پیشہ اور دیگر قابل ذکر ہیں۔ احمد فراز کی شاعری کے

انگریزی، فرانسیسی، پنجابی، جرمن، ہندی، روسی اور یوگو سلاوی سمیت زبانوں

میں بھی تراجم شائع ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: معروف شاعر و نغمہ نگار مسرور انور کی 23 ویں برسی

احمد فراز کو آدم جی ایوارڈ، ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز، اباسین ایوارڈ، نقش ادب

ایوارڈ سمیت لاتعداد ملکی و غیرملکی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے، احمد فراز

نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بعض پالیسیوں کی

مخالفت پر احتجاجاً ہلال امتیاز واپس کر دیا تھا۔ آپ گردوں کے عارضے کا

شکار تھے وہ علاج کیلئے امریکہ بھی گئے تھے جہاں سے وہ صحتیاب ہو کر

آئے مگر 25 اگست 2008ء کو اچانک ایک مرتبہ پھر گردوں ہی کی بیماری کی

وجہ سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ حق

مغفرت کرے، الہٰی آمین