72

امریکی قانون سازوں نے بھارت سے کشمیر پر قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا

Spread the love

واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی قانون سازوں نے بھارت

سے کشمیر پر قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا،اہم اراکین کانگریس نے نئی دہلی

پر زور دیا ہے مقبوضہ علاقے سے قبضہ ختم کر کے کشمیریوں کو بولنے کی

اجازت دی جائے۔امریکی کانگریس کی ہائوس کمیٹی برائے آرمڈ سروسز کے

چیئرمین ایڈم اسمٹھ نے امریکہ میں بھارتی سفیر سے ملاقات کی اور انہیں بتایا وہ

کشمیر کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے

ہیں۔ واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے بھارتی سفیر

کو بتایا ان کے کچھ ساتھی مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے

5اگست کے بعد علاقے کا دورہ بھی کیا،ان کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر میں

مواصلاتی روابط منقطع ہونے، فوجی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ اور کرفیو کے

نفاذ پر جائز تحفظات ہیں، ان کے ساتھیوں نے دیکھا مقبوضہ کشمیر کے رہائشی

تنہا ہیں جبکہ پورے علاقے کا محاصرہ جاری ہے جہاں سے باہر رابطہ کرنا

تقریبا ناممکن ہے۔ایڈم اسمتھ نے بھارت کو یہ بھی یاد دہانی کروائی کہ اس فیصلے

کے ممکنہ نتائج خطے کی مسلم آبادی اور دیگر اقلیتوں پر حال کیساتھ ساتھ مستقبل

میں بھی اثر انداز ہوں گے۔دوسری جانب کانگریس کی کمیٹی برائے امور خارجہ

کے سربراہ ایلیٹ اینگل اور سینیٹر باب مینیڈیز نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے

ہوئے کہا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی حیثیت بھارت کے پاس موقع ہے وہ

اپنے تمام شہریوں کیلئے تحفظ اور یکساں حقوق کا مظاہرہ کرے جس میں اسمبلی

کی اجازت ، معلومات تک رسائی اور قانون کے تحت یکساں حفاظت شامل ہے۔

امریکی قانون سازوں نے بھارتی حکومت کو یاد دہانی کروائی کہ شفافیت و سیاسی

شمولیت، جمہوری نمائندوں کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے ،امید ہے بھارتی

حکومت جموں و کشمیر میں ان اصولوں پر عملدرآمد کرے گی۔دوسری جانب

کانگریس رکن ییٹی کلارک کا کہنا تھا انہیں کشمیر کی صورتحال پر سخت تشویش

ہوئی اور وہاں جو کچھ ہورہا ہے ،انہوں نے اس کیلئے آواز بھی بلند کی،

وزیراعظم نریندر مودی کو یہ سب کرنے کا کوئی حق نہیں جو وہ کشمیر کے عوام

کیساتھ کررہے ہیںاور اب یہ ہم پر منحصر ہے ہم اپنی آوازیں انصاف، خودمختار

حکومت اور مذہب کی بنیاد پر غیر امتیازی سلوک کیلئے بلند کریں، وزیراعظم

نریندر مودی کو معلوم ہونا چاہیے ہم لازمی طور پر اپنی آواز بلند کریں گے۔

دوسری جانب ایڈم اسمتھ نے یہ بھی بتایا ان کے جن ساتھیوں نے 5اگست کے بعد

کشمیر کا دورہ کیا، وہ خود اپنی زندگی کے حوالے سے خوفزدہ تھے اور کشمیر

میں مقیم اپنے اہلخانہ کیلئے سخت پریشان تھے۔ بھارتی حکومت کو اس خوف کو

ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہیے اور دنیا کو شفاف طریقے سے دکھانا

چاہیے یہاں کیا ہورہا ہے۔ادھر ایران کی پارلیمنٹ میں کشمیریوں کے حق میں

ایک قرار داد پیش کر دی گئی ۔ ایرانی ممبر پارلیمنٹ علی متھاری نے قرار داد

پیش کی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ

ایران سمیت دنیا بھر کے تمام مسلمان ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ مظلوم

کشمیریوں کے حق میں آواز اْٹھائی جائے۔قرار داد میں مزید کہا گیا ہے کہ مسلم امہ

سمیت تہران کشمیر کے معاملے پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ بھارت کی طرف سے

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا ایک اہم ڈویلپمنٹ ہے۔قرار داد میں

مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسلم امہ آگے آئے اور مشکل میں گھرے کشمیریوں کیلئے

اپنا کردار ادا کرے۔ بھارت مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہا

ہے۔