137

رجو کی الوداعی ملاقات، یہودی کی بیوی کا قتل اورشیطانی طاقتیں

Spread the love

رجو کی الوداعی ملاقات

909 نے رات 9 بجے کے قریب ـ ’’رجو‘‘ کو فون کیا تواس نے پہلی بیل پر ہی

اٹھا لیا، 909 نے اسے اپنے پرانے نمبر سے ہی ڈائل کیا تھا، رجو نے بتایا کہ وہ

روڈ پر ہے اوراگلے5 منٹ میں pub پہنچ جائیگی، 909 نے اسے بتایا کہ وہ اسکا

pub کے باہر انتظار کر رہا ہے، تھوڑی ہی دیر میں رجو وہاں پہنچ گئی، اس نے

خالصتاً مغربی لباس زیب تن کر رکھا تھا، چھوٹی بہن فائزہ عرف فزی اور ایک

سہیلی بھی اس کے ہمراہ تھے، رجو نے اپنی ناف پرپیئرسنگ کرائی تھی، سونے

کا باریک چھلا دکھائی دے رہا تھا، وہ خود بھی بڑی سمارٹ دکھائی دے رہی تھی،

اس کی چھوٹی بہن بھی دو برس میں جوان ہو چکی تھی، رجو نے آگے بڑھ کر

909 سے hug کیا اور اس کی بہن اور سہیلی نے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا،

چاروں pub میں داخل ہو گئے اور ایک بڑے بنچ پر بیٹھ گئے-

رجو کی الوداعی ملاقات

چند لمحوں میں سب بیئر پینے میں مصروف تھے، اسی دوران 909 نے سگریٹ

کیس نکالا اور رجو کے سامنے رکھ دیا، اس نے کیس کھولا تو اس میں ڈیڑھ

درجن بنے بنائے سگریٹ دیکھ کر اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا، اس

کیلئے یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بہت بڑی بڑی تھیں، وہ 909 کی حد درجہ ممنون

دکھائی دے رہی تھی، اس نے تمام سپلفس اپنے بیگ میں ڈال لئے اور خالی کیس

909 کو واپس لوٹا دیا- 909 نے رجو سے پیئرسنگ کے بارے پوچھا تو اس نے

پنجابی میں بتایا صرف ماں اس کے بارے میں جانتی تھی، باپ اور بھائی دونوں

لاعلم تھے، اس نے ہنستے ہوئے بڑے فخر سے بتایا، 909 نے اس کے شوہر کے

بارے پوچھا تو رجو نے کہا کہ وہ اس قابل نہیں کہ اسے یہاں لایا جاتا، اس نے

مظفرآباد میں ہی دوسری شادی کر لی تھی اور ان دنوں وہ سپین میں مقیم تھا، اس

کو بیرون ملک جانے کا شوق تھا اور مجھ سے شادی کی وجہ بھی شاید یہی تھی،

میں نے اسے فون پر کہا کہ ایس ایم ایس کے ذریعے طلاق بھیج دو ثبوت کے طور

پر، اس نے ایسا ہی کیا تھا، اس کے گھر والے بھی اس کیخلاف تھے اور میری

فیور میں تھے۔ یہ سب میری ماں کی وجہ سے تھا، اس نے سسرال میں اپنی بہت

عزت بنا رکھی ہے اور میری بھی-

رجو کی الوداعی ملاقات

باتوں باتوں میں رجو نے کہا کہ کے ایف سی چلتے ہیں 909 نے حامی بھر لی اور

یوں بل ادا کرنے کے بعد وہ چاروں کار میں بیٹھ گئیں، رجو نے فوراً سگریٹ لگا

لیا تو 909 نے گاڑی مین شاہراہ پر مخالف سمت میں بھگانا شروع کر دی، اس نے

رجو سے کہا کہ آجکل حالات کچھ ٹھیک نہیں پھر رجو نے 909، اپنی بہن اور

سہیلی کو بھی ایک ایک سپلف پکڑا دیا، سب مل کر سگریٹ پینے لگے بیئر کے

بعد سپلف واقعی بہت مزہ دے رہا تھا، لڑکیاں واقعی ٹن ہو گئی تھیں، رجو نے ایک

اور سپلف سلگا لیا تو 909 نے گاڑی قر یب واقع شاپنگ سنٹر کی پارکنگ کی

جانب موڑ دی، وہاں پولیس پٹرولنگ کا خدشہ بالکل نہ تھا، 909 بولا اب کھل کر

پیو میرے پاس اور بھی ہیں، یہ کہہ کر اس نے جیب میں سے سکنک کی اچھی

خاصی مقدار نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دی، رجو کی بہن اور اس کی سہیلی نے

غور سے آگے بڑھ کر دیکھا اور مال کی تعریف کی، رجو کی خوشی کا کوئی

ٹھکانہ نہ تھا، اس کو 15 روز کا راشن مل گیا تھا اسے اور کیا چاہئے تھا،

رجو کی الوداعی ملاقات

909 نے فزی کو انگریزی میں کہا کہ وہ سٹور میں جا کر ڈرنکس اٹھالائے اس

نے 20 پائونڈ اس کے ہاتھ میں دئے جو اس نے فوراً پکڑ لئے، 909 نے اسے کہا

کہ وہ جو چاہے اپنے لئے خرید لے اور اپنی سہیلی کیلئے بھی، چینج واپس لانے

کی ضرورت نہیں، وہ دونوں چلی گئیں تو رجو چھلانگ لگا کر909 کی گود میں

آ کر بیٹھ گئی اور اس کو چومنا شروع کر دیا، رجو تو بہت کچھ چاہتی تھی لیکن

909 ایسا کچھ نہیں چاہتا تھا،اسے ٹریننگ ہی ایسی تھی کہ ذرا بھی بے زاری کا

اظہار نہ کرے اسلئے اس نے بھی گرمجوشی دکھائی، فزی اوراسکی سہیلی گاڑی

کے پاس پہنچ گئیں لیکن دونوں کو مصروف دیکھ کر آوازہ کسا، انہوں نے رجو

سے ایک ایک سپلف مانگا جو اس نے اپنے پرس سے نکال کران کے حوالے کر

دیا،اس دوران ان کا منہ مخالف سمت میں تھا، رجو نے جب اپنی مرضی کر ڈالی

تو ٹھنڈی ہو کر سائیڈ والی سیٹ پر بیٹھ گئی، اس نے فزی کو بلایا اور گاڑی میں

بیٹھنے کا کہا اس نے فزی سے ڈرنک مانگی تو اس شرارتی لڑکی نے اسے بیئر

کی بوتل پکڑا دی، 909 نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ یہ کیا تھا جواب میں وہ ہنسی

اور پھر 909 کو سافٹ ڈرنک کا کین دیتے ہوئے بولی’’ یو۔۔۔ پُسی گائے‘‘ یعنی تم

تو بالکل پھکڑ ہو، کچھ دیر سب انجوائے کرتے رہے، دونوں لڑکیاں باہر کھڑی

پارکنگ میں سگریٹ پیتی رہیں اب سب کو واقعی بھوک لگ رہی تھی، رجو نے

دوبارہ لڑکیوں کو گاڑی میں بیٹھنے کا کہا، اگلے چند لمحوں میں وہ قریبی

ریستوران کے ایف سی پہنچ گئے، تینوں لڑکیاں بہت بھوکی تھیں، فیملی آرڈر کیا

اور پھر کچھ دیر میں سب چٹ پٹ ہو گیا، رات کے 12 بج چکے تھے، اب چاروں

باہر نکلے اور پھر دھواں پارٹی شروع ہو گئی، ایک بجے کے قریب 909 نے

لڑکیوں کو ان کے گھر کے سے ذرا دور ڈراپ کیا اور وہاں سے کھسک گیا۔

رجو کی الوداعی ملاقات

یہودی کی بیوی کا قتل اورشیطانی طاقتیں

اس روز 909 واقعی تھک چکا تھا، اسے قریب مچم روڈ پر اپنے دوست ریحان

کے گھر جانا تھا، ریحان جوا کی ایک کمپنی ولیم ہل میں ملازم تھا اور اس نے

بینک سے موگیج پر ایک گھر خریدا تھا، اس نے909 سے درخواست کی تھی کہ

اس کیساتھ اس گھر میں رہے تاکہ 1200 پائونڈ قسط دینے میں اسے آسانی رہے،

909 بھی وہاں شفٹ ہونا چاہتا تھا اس کا اگلا ٹاسک بھی اسی علاقے سے متعلق تھا

اس حوالے سے اسے بریفنگ بھی دی جا چکی تھی کچھ معلومات اکٹھی کرنا

تھیں، وہ رات ڈیڑھ بجے کے قریب اپنے دوست ریحان کے نئے گھر کے سامنے آ

کر رکا اورا سے فون ملایا، گھر کی لائٹس روشن تھیں، ویسے بھی ویک اینڈ تھا

اور ریحان کواگلے روز چھٹئی تھی اس نے فوں اٹھانے کی بجائے گھر کا دورازہ

کھولا اورباہر نکل آیا، 909 نے غور سے دیکھا تو گھر کے مرکزی دروازے کے

اوپر خفیہ کیمرہ اسے دکھائی دیا، وہ سمجھ گیا کہ ریحان کو اس کی آمد کا پتہ چل

گیا تھا، وہ گاڑی سے باہر نکلا اور ریحان سے گرمجوشی سے ملا، ریحان بھائی

بھی ’’ٹن‘‘ تھے ان کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی، ریحان نے اسے اندر

آنے کا کہا، دونوں اندر چلے گئے، گھر خاصا خوبصورت تھا، نئے قالین بچھائے

گئے تھے، اچانک 909 کو ایک ناگوار سی بو کا احساس ہوا، یہ بو اکثر اس کو

محسوس ہوتی تھی لیکن اس جگہ پر جہاں واقعی شیطان کا سایہ موجود ہوتا تھا،

یہ بھی پڑھیں: برٹش بورن ’’رجو‘‘ کی کہانی 909 کی زبانی

909 نے فوراً ریحان کو بتایا کہ یہ گھر اس کے کیلئے مفید ثابت نہیں ہو گا،یہاں

حالات ٹھیک دکھائی نہیں دیتے، تو ریحان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، ایک تو وہ

شراب کے نشے میں ٹن تھا، دوسرا سچائی جان کر اسے شدید دھچکا لگا تھا، اس

نے کہا کہ بھائی جان آپ کو اسی مقصد کیلئے ہی بلا رہا تھا، میرے ساتھ دھوکہ

ہوا ہے، یہ گھر کچھ ٹھیک نہیں لگتا، اس کا بالائی کمرہ جس کے بارے میں سٹیٹ

ایجنسی نے بتایا تھا کہ یہاں قتل واقع ہو چکا ہے، اس لئے اس گھر میں کوئی بھی

رہنے کیلئے تیار نہیں تھا، 1400 پائونڈ والا گھر 900 پائونڈ میں ماہانہ مورگیج پر

ملا تھا، 909 نے اس سے کہا کہ تم نے تو مجھے 1200 پائونڈ کرایہ بتایا تھا،

ریحان بولا اس وقت سامنے کوئی اور بھی موجود تھا اسلئے جھوٹ بولنا پڑا لیکن

اب میں آپ کو حقیقت بتانے جا رہا ہوں، آپ بیٹھ جائیں، تفصیل سے بات کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: افغان جنگ، رائل آرمی اور “جو” کی ڈیٹ پر آمادگی

909 اس کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا اس دوران اس کا بڑا بھائی شہزاد بھی آ گیا وہ

صاحب بھی مست تھے، دونوں بھائی ویک اینڈ پر خوب پیتے تھے لیکن مجال تھی

کہ اس سے ہٹ کر عام دنوں میں شراب کو منہ بھی لگائیں، دونوں بھائی کافی

محنتی تھے اور کراچی کی ایک بڑی کمپنی کے مالک کے بگڑے بیٹے تھے، انکا

والد خراب حالات اور بھتے سے تنگ آ کر لاہور شفٹ ہو چکا تھا، ریحان اور

شہزاد دنوں بھائیوں کو “یو کے” میں رہتے پانچ سال بیت چکے تھے، برطانیہ

انہیں راس آ چکا تھا، اس دوران دونوں نے اپنی تعلیم بھی مکمل کر لی تھی اس کی

بنیاد پر انہیں ورک پرمٹ مل چکا تھا، انہیں پیچھے والد کی جانب سے دولت کی

کوئی کمی نہ تھی اس کے باوجود ریحان بڑے لیول کا چور بن چکا تھا اور اپنی ہی

برانچ ولیم ہل میں چھت کے راستے چوری کروا چکا تھا، کالوں نے اسکی نشاندہی

پر لکڑی کی بنی چھت کو پھاڑا اور رقم چرائی تھی،

یہ واقعات لندن میں اکثر واقع ہوتے تھے، چھت پھاڑ کر چوری کرنا کالوں کیلئے

ذرا بھی مشکل نہ تھا، تفتیش کرنیوالوں نے ریحان کو بھی مسلسل واچ کیا تھا، اس

کی فون کالز کا ڈیٹا بھی طلب کیا گیا تھا لیکن وہ پروفیشنل کالوں کے ہاتھوں ٹرینڈ

ہو چکا تھا، فون کی بجائے پبلک بوتھ پر بات چیت ہوتی تھی اور ایسے علاقوں

میں میٹنگ ہوتی تھی جہاں دور دراز بھی کیمرے نہیں لگے تھے، یہی وجہ تھی

ریحان کو تفتیش کرنیوالوں کی جانب سے کلیئر کر دیا گیا تھا لیکن وہ ابھی بھی

واچنگ لسٹ میں تھا، کمپنی شک کی بنا پر اسے نکال نہیں سکتی تھی البتہ اس کا

تبادلہ ہو گیا تھا جسکی اسے کوئی فکر نہ تھی، 909 کو ان سب باتوں کا اپنے طور

پر علم ہوا تھا ریحان نے یہ سب باتیں 909 سے شیئر نہیں کی تھیں وہ انتہائی

سمارٹ لڑکا تھا، البتہ غلط راستے پر چل نکلا تھا، ولیم ہل کمپنی جو کہ اربوں

پائونڈز کی مالک تھی اسے اس معمولی چوری سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا اسے

انشورنس مل جانی تھی اور بس۔

کمرے میں تینوں بیٹھے تھے، ریحان بلیک لیبل کا شیدائی تھا، اس نے تین پیگ

بنائے، سب نے چیئرس کیساتھ جام نوش کیا، 909 نے ایک سپ پر ہی گلاس رکھ

دیا، اس نے گھر کے حوالے سے دریافت کیا تو ریحان نے بتایا کہ دونوں بھائی

خوفزدہ ہیں بھی اور نہیں بھی، ریحان نے گھر کی ہسٹری کے بارے میں بتانے

سے پہلے ڈیلی ٹیلی گراف اخبار سامنے رکھ دیا، اس میں ایک جوان لڑکی کے قتل

کی خبر نمایاں طور پر شائع ہوئی تھی، پتہ بھی اسی گھر کا تھا جو انہوں نے

مورگیج پر حاصل کیا تھا، خبر کے مطابق برطانوی شہری کی بیوی کو نامعلوم

افراد نے کمرے میں قتل کر دیا تھا، اسے ہتھکڑیاں لگا کر قتل کیا گیا تھا، قتل کے

موقع پر مقتولہ کا شوہر موقع پر موجود نہ تھا، کوئی ثبوت نہیں ملے کہ قتل کس

نے کیا اور اسکی کیا وجوہات تھیں-

ہمسائیوں سے تفتیش کے مطابق مقتولہ کا شوہر ایک یہودی تھا اور پیشے کے

حوالے سے کباڑیہ تھا، وہ لوہا خریدتا تھا اور اسے بیچتا تھا، گھر کے مالک کو

موم بتیوں سے خاصی رغبت تھی اور اکثر ان کے گھر سے جوان لڑکی کے

چیخنے کی آوازیں آتی تھیں، دونوں میاں بیوی میں جھگڑے کے باعث ایسا ہوتا تھا

لیکن بیوی نے اس حوالے سے پولیس کو کبھی شکایت نہیں کی تھی، شوہر کے

مطابق لڑکی پُرتشدد سیکس کی قائل تھی اور اس کا تقاضا کرتی تھی، خبر میں اس

کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔ قتل کے بعد گھر 6 ماہ تک سیل رہا، پولیس وقتاً فوقتاً

آتی اور تفتیش کر کے چلی جاتی تھی۔ 909 نے اخبار پڑھ کر سامنے میز پر رکھ

دیا، اسے پھر وہی ناگوار بو پھر محسوس ہوئی،

اس نے پوچھا کہ اوپر والے کمرے میں جہاں قتل ہوا تھا کیا خالی ہے تو ریحان نے

بتایا جی ہاں وہ خالی ہے اور آپ وہاں شفٹ ہو جائیں، ساتھ والے کمرے میں شہزاد

بھائی رہتے ہیں، شہزاد دنیا سے بیزار دکھائی دیتا تھا اور برٹش انڈر گرائونڈ کا

ملازم تھا، اس نے بیزاری سے کہا کہ یہ سب ریحان کا وہم ہے اگر کچھ عجیب سا

ہے بھی تو اسے کوئی پرواہ نہیں، ٹھک ٹھک کی آوازیں تو آتی ہیں لیکن کچھ اس

طرح ہے کہ یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، ریحان نے بتایا کہ کمرے کا بیڈ

بھی وہی ہے جس پر قتل ہوا تھا، الماری میں ہتھکڑیاں بھی موجود ہیں جس پر سے

پولیس نے فنگر پرنٹس حاصل کئے تھے، لیکن انہیں اپنی تحویل میں نہیں لیا تھا،

909 فوراً وہاں سے اٹھا اور اوپر کمرے میں چلا گیا، اس نے ریحان کو اپنے

پیچھے آنے کا کہا، کمرے کا دروازہ پہلے سے ہی کھلا تھا، جس پر ریحان چونک

گیا اور بولا کہ یہ دیکھیں دروازہ بند تھا لیکن اب کھلا ہے، اس نے شہزاد کو آواز

دیکر پوچھا کیا اس نے دروازہ کھولا تھا، شہزاد بھی لڑکھراتا اوپر آ گیا اور بولا

کہ نہیں یہ تو اس نے خود بند کیا تھا اور کوئی بھی اس کمرے میں داخل نہیں ہوا،

909 کمرے میں گھس گیا اور لائٹ آن کی، اس نے سانس لے کر کچھ محسوس

کرنے کی کوشش کی، پھر اس کی نظر الماری پر پڑی، اس نے الماری کھولی تو

اس میں 3 عدد مختلف ہتھکڑیاں موجود تھیں، شہزاد بولا کہ یہودی خبیث ہتھکڑیاں

لگا کر اپنی بیوی کو جنسی تشدد کا نشانہ بناتا تھا، ہمیں یہ ہتھکڑیاں پھینک دینی

چاہئیں لیکن ریحان نہیں مانتا، 909 نے بیڈ کا غور سے معائنہ کیا تو اسے پھر کچھ

عجیب سا احساس ہوا۔ اسی گھر کے پیچھے واقع باغ میں کچھ کھٹ پھٹ ہوئی، یہ

فوکس تھیں، پھر اچانک فوکس نے چلانا شروع کر دیا اور پھر رونا شروع کر دیا،

اچانک ردعمل نے ماحول کو دہشت ناک بنا دیا

۔۔۔۔ جاری ۔۔۔۔۔

Agent 909 Dr,I.S introduction

رجو کی الوداعی ملاقات