57

ایف اے ٹی ایف،پاکستان کی انسداد منی لانڈرنگ سے متعلق تیسری جائزہ رپورٹ منظور

Spread the love

اسلام آباد ، سڈنی (سٹاف رپورٹر )وزارت خزانہ نے کہا ہے فنانشل ایکشن ٹاسک

فورس (ایف اے ٹی ایف) سے علاقائی طور پر منسلک ایشیا پیسیفک گروپ (اے

پی جی) برائے منی لانڈرنگ نے پاکستان کی جانب سے انسداد منی لانڈرنگ اور

ٹیرر فنانسنگ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر پیش کردہ تیسری باہمی جائزہ رپورٹ

(ایم ای آر) منظور کرلی ۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے علاقائی طور پر منسلک اے پی

جی گروپ کا 22 واں سالانہ اجلاس آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں 18 اگست

سے جاری ہے اور یہ 23 اگست کو اختتام پذیر ہوگا،اس اجلاس میں پاکستانی وفد

کی قیادت گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کر رہے ہیں ، جہاں فروری 2018 سے

اکتوبر 2018 کے دوران حکومت کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی

مالی معاونت کیخلاف اٹھائے اقدامات کی تیسری تفصیلی باہمی جائزہ رپورٹ پیش

کی گئی جسے ایشیا پیسیفک گروپ نے منظور کرلیا۔خیال رہے پاکستان، فنانشل

ایکشن ٹاسک فورس کی اس ‘گرے لسٹ’ سے نکلنے کیلئے یہ اقدامات اٹھا رہا ہے،

جس میں اسے اگست 2018 میں ڈالا گیا تھا اور یہ اکتوبر کے وسط تک اسی لسٹ

میں رہے گا۔اگرچہ یہ اجلاس دہشت گردی کیلئے مالی معاونت اور منی لانڈرنگ

پر ایف اے ٹی ایف کی اعلیٰ سطح کی شرائط پر پاکستان کی کارکردگی سے براہ

راست تعلق نہیں رکھتا لیکن اس کی جائزہ رپورٹ گرے لسٹ سے پاکستان کے

نکلنے کی پوزیشن پر اثر ڈال سکتی ہے۔اس حوالے سے وزارت خزانہ کے جاری

بیان کے مطابق ایم ای آر ‘بہت سی ان نکات کی نشاندہی کرتی ہے جہاں اے ایم

ایل،سی ایف ٹی فریم ورک کو مضبوط بنانے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

بیان میں اس بات پر زو ر دیا گیا کہ رپورٹ ان نکات پر محیط نہیں ، جس پر

اکتوبر 2018 سے حکومت پاکستان نے کافی پیش رفت کی ہے۔پاکستانی وفد نے

اے پی جی کو اپنے اے ایم ایک،سی ایف ٹی فریم ورک کی بہتری کیلئے حالیہ

وقتوں میں کیے گئے اقدامات اور ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر کامیابی سے

عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر بریف کیا۔اس موقع پر اجلاس

میں منعقدہ مباحثوں کے دوران انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی کوششوں

میں بین الاقوامی برادری کیساتھ تعلقات کا خیرمقدم بھی کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق

دوران اجلاس پاکستان نے دوطرفہ ملاقات میں دیگر رکن ممالک کو علیحدہ سے

بریف کیا، علاوہ ازیں فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے فنانشل انٹیلی جنس کے تبادلہ

خیال کیلئے چین کے اینٹی منی لانڈرنگ مانیٹرینگ اور انالیسز سینٹر(سی اے ایم

ایل ایم اے سی) کیساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے ۔قبل ازیں ایک سینئر

حکومتی عہدیدار نے اجلاس سے قبل ڈان کو بتایا تھا ایشیا پیسیفک گروپ مالیاتی

اور انشورنس کے تمام شعبوں میں نظام کی بہتری پر پاکستان کی ترقی کا 5 سالہ

باہمی جائزہ لے رہی ہے۔اس سے قبل پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 27 نکات

پر مشتمل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے تعمیلی رپورٹ اے پی جی میں

جمع کروائی تھی جو مالیاتی اور انشورنس سروسز سے متعلق 7 شعبہ جات کا

جائزہ لے رہا ہے جو اس کے 5 سالہ نظر ثانی کے طریقہ کار کا حصہ ہے۔ان

شعبہ جات میں کالعدم تنظیموں اور غیر سرکاری اداروں کے ذریعے بینک اور نان

بینکنگ دائرہ کار، کیپٹل مارکیٹس، کارپوریٹس اور نان کارپوریٹ سیکٹر مثلاً

چارٹرڈ اکاؤنٹیسیم فنانشل ایڈوائزری سروسز، کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹینسی فرم،

جیولرز اور اسی طرح کے دیگر ذرائع کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی

مالی معاونت کیخلاف تحفظ شامل ہیں ۔ عہد یدار نے وضاحت کی تھی کہ اے پی

جی کی جانب سے تقریباً 2 سال پر محیط 5 سالہ جائزے کا یہ عمل 23 اگست کو

مکمل ہوجائیگا اور اس سلسلے میں حکومتوں کو ٹیکنالوجیز، رائج طریقہ کار اور

جدید ترین تکینیک میں تبدیلیوں کے پیشِ نظر مستقبل کے اہداف دیے جاتے ہیں۔

علاوہ ازیں اے پی جی کی جانب سے باہمی جائزے کا اگلا دور تھائی لینڈ کے

دارالحکومت بینکاک میں 5 ستمبر کو ہوگا، جو ایف اے ٹی ایف کے منصوبوں اور

ورکنگ گروپ کے 13 سے 18 اکتوبر کو پیرس میں طے شدہ اجلاس میں پاکستان

کیلئے کیے جانیوالے حتمی جائزے کی اہم بنیاد ہوگا۔