113

سپریم کورٹ کا جج ارشد ملک کو واپس لاہور ہائیکورٹ بھیجنے کا حکم

Spread the love

اسلام آباد( جے ٹی این آن لائن سٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ حکم

سپریم کورٹ آف پاکستان نے احتساب جج ارشد ملک کو واپس لاہور ہائی کورٹ

بھیجنے کا حکم دیدیا، چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید احمد کھوسہ نے

ریمارکس دیئے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو حکومتی تحفظ دیا جارہا

ہے، جج ارشد ملک کی وجہ سے محنتی اور ایماندار ججوں کے سر شرم سے

جھک گئے، کیا جج ایسا ہوتا ہے کہ سزا دینے کے بعد مجرم کے گھر جائے؟ جو

ایک بار ہوا وہ دوبارہ بھی بلیک میل ہو سکتا ہے، عدلیہ کی سطح پر ہم ان حالات

کا جائزہ لیں گے، لاہور ہائی کورٹ ارشد ملک کیخلاف کارروائی کرسکتی ہے-

چیف جسٹس پاکستان کا ریمارکس میں مزید کہنا تھا ویڈیو جب تک ہائیکورٹ میں

پیش نہیں ہوگی اس کا کوئی فائدہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ویڈیو سکینڈل، احتساب جج ارشد ملک عہدے سے فارغ

احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے ویڈیو سکینڈل سے متعلق کیس کی

سماعت گزشتہ روز سپریم کورٹ میں ہوئی، سماعت کے دوران چیف جسٹس

پاکستان نے ریمارکس دیے کہ نوازشریف کی رہائی اور سزا کے خاتمے کے لیے

ویڈیو فائدہ مند تب ہوگی جب کوئی درخواست دائر کی جائے گی۔ سپریم کورٹ میں

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید احمد کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی

خصوصی بینچ نے ویڈیو سکینڈل کیس کی سماعت کی، اس سلسلے میں اٹارنی

جنرل انور منصور خان اور ڈی جی ایف آئی اے عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت

کے آغاز پر چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ تحقیقات مکمل کرنے کیلئے

3 ہفتے کا وقت دیا گیا تھا، اس رپورٹ میں 2 ویڈیوز کا معاملہ تھا، ایک ویڈیو وہ

تھی جس کے ذریعے جج کو بلیک میل کیا گیا اور دوسری ویڈیو وہ تھی جو پریس

کانفرنس میں دکھائی گئی۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے ناصرجنجوعہ

نے دعویٰ کیا کہ ارشد ملک کو انہوں نے تعینات کرایا، کیا وہ مبینہ شخص سامنے

آیا جس نے ارشد ملک کو تعینات کرایا تھا؟ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا ارشد

ملک کی تعیناتی والا مبینہ شخص سامنے نہیں آیا، اس پر جسٹس آصف سعید احمد

کھوسہ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے اس وقت کی حکومت نے پاناما فیصلے کے بعد

ارشد ملک کی تعیناتی کی، رپورٹ کے مطابق ناصرجنجوعہ دعویٰ کررہا ہے کہ

ارشد ملک کو اس نے تعینات کرایا۔ جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا

پریس کانفرنس میں دکھائی گئی ارشد ملک کی ویڈیو کا فرانزک تجزیہ کیا گیا؟

مزید پڑھیں: ویڈیو سکینڈل، جج صاحب محض پریس ریلیز ناکافی

اس پر ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا ویڈیو ہمارے پاس نہیں۔ اس پر جسٹس عظمت

سعید نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ویڈیو سوائے ایف آئی اے کے

پورے پاکستان کے پاس ہے، سارا پاکستان اور عدالت ایک ہی سوال پوچھ رہی

ہے، کیا وہ ویڈیو صحیح ہے؟ ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ اس ویڈیو

کا فارنزک نہیں ہوا، جس پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا، اٹارنی جنرل نے

عدالت کو ویڈیو کے فارنزک کی بھی یقین دہانی کرائی۔ جس پر عدالت نے کیس کی

سماعت ملتوی کردی-

سپریم کورٹ حکم