105

بھارتی ریاستی دہشتگردی، کپتان سمیت مقبوضہ کشمیرکی آدھی کرکٹ ٹیم لاپتہ

Spread the love

سرینگر(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاستی دہشتگردی

مقبوضہ جموں و کشمیر کی بھارتی آئیں میں خصوصی حیثیت کے حامل آرٹیکل

370 اور شق 35 اے کے خاتمے کے بعد صورتحال کھیلوں پر بھی اثرانداز ہونے

لگی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مودی حکومت کی جانب سے

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد مقبوضہ وادی کی ٹیم

میں کھیلنے والے نصف کرکٹرز لاپتہ ہیں ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو پارہا ہے۔

اس بنا پر جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن نے آندھرا پردیش کرکٹ کے زیر

اہتمام وشاکھا پٹنم میں شیڈول وجے ٹرافی میں ٹیم نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں جوالا مکھی پھٹنے کو تیار، ارون دھتی رائے

مقبوضہ وادی کی صورتحال کے پیش نظر گورنرستیہ پال ملک سے کھلاڑیوں کی

سیکیورٹی یقینی بنانے کی درخواست پر بھی کوئی جواب نہیں ملا۔ مقبوضہ کشمیر

کی کرکٹ ٹیم کے جو کھلاڑی لاپتہ ہیں اور جن سے رابطہ نہیں ہوپا رہا ان میں

کپتان پرویزرسول بھی شامل ہیں، دوسری طرف مقبوضہ وادی بھارت کی مودی

سرکار نے مسلسل 20 روز سے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بند کر رکھی ہیں۔

جبکہ وادی بھر میں سخت ترین پابندیوں اور کرفیو کی وجہ سے شہری گھروں

میں محصور ہیں، خوراک اور ادویات ہی نہیں پانی کی بھی شدید قلت ہے جس کی

وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے، وادی میں 9 لاکھ سے زائد بھارتی

فوجی اور آر ایس ایس کے غنڈے جگہ جگہ تعینات ہیں، عالمی برادری اور انسانی

حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے مقبوضہ وادی کی صورتحال پر

تشویش اور بھارت سے وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے کے

مطالبوں کے باوجود بھارت ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور انسانی المیے کا خطرہ ہے-

بھارتی ریاستی دہشتگردی