151

من کنت مولا ہ فہذا علی مولا ہ جس جس کا میں مولا ، اس اس کا علی مولا

Spread the love

( تحریر:– بابر بن کربلائی ) من کنت مولا ہ فہذا علی مولا ہ

10ھ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا۔ تاریخ

نویسوں کے مطابق 26 ذیقعدہ مطابق 22 فروری 633ء محمد صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم مدینہ سے چلے۔ اس مقدس سفر میں جو لوگ آپ کیساتھ روانہ ہوئے ان کی

تعداد 90 ہزار سے کم نہ تھی اسی طرح دیگرعلاقوں سے جو لوگ مکہ پہنچے

تھے وہ بھی ہزاروں میں تھے۔ حضرت علی علیہ السلام بھی یمن سے حاجیوں کا

ایک بہت بڑا قافلہ لے کر مکہ آئے، سرکار دو عالم کی اقتدا میں مناسک حج بجا

لائے، حج بیت اللہ کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خانہ خدا کو

الوداع کہا اور ارض حرم سے رخصت ہو گئے۔

غدیر خم

جمعرات 18 ذی الحجہ مطابق 21 مارچ 633ء نوروز کے دن یہ قافلہ جحفہ پہنچا۔

جو مکہ سے 13 میل کے فاصلے پر ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شام کے راستے سے

حج کیلئے مکہ آنے والے لوگ احرام باندھتے ہیں اس کو میقات اہل شام (سوریہ)

بھی کہتے ہیں اور مکہ سے واپسی پر مدینہ منورہ، مصر، شام اور عراق والوں

کے راستے الگ ہو جاتے ہیں۔ اس کے قریب کوئی ڈیڑھ دو میل کی مسافت پر ایک

تالاب ہے۔ عربی میں تالاب کو غدیر کہتے ہیں۔

ساحل غدیر پر قافلے کو رکنا پڑا کیونکہ جبریل امین وحی لے کر آئے تھے اور

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نوائے سروش پر ہمہ تن گوش تھے۔

وحی الہی

بسم الله الرحمن الرحیم

ترجمہ ” اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچا دیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے

نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور

خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا

ہے-” ( سورۃ المائدہ آیت 67 )

نزول پیغام الہٰی کے بعد آپ سرکار دو عالم نے سب حاجیوں کو جمع ہونے اور

پالان شتر( اونٹوں ) سے ایک منبر تیار کرنے کا حکم دیا، تمام حجاج کرام کے

جمع ہو جانے اور اونٹوں کے پلانوں سے منبر تیار ہونے کے بعد پیغمبر خدا

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اپنی حیات مبارکہ

کا طویل ترین خطبہ ارشاد فرمایا۔ جسے خطبہ غدیر کے نام سے جانا جاتا ہے اور

اس کا ذکر مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کی مستند کتب احادیث مبارکہ اور تفاسیر

قرآن میں تواتر سے موجود ہے،

حمد و ثنا رب تعالیٰ کے بعد آپ نے ایک لاکھ بیس ہزار حجاج کرام کے مجمع کو

مخاطب کرکے فرمایا —

“کیا تمہیں میرا اپنے پروردگار کی جانب سے رسول ہونے اور جو کچھ میں نے

دعوی کیا اس کے بارے میں شک ہے۔”

سب لوگوں نے مل کر جواب دیا اے اللہ کے رسول ہم گواہی دیتے ہیں کہ محمد

صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امانت ادا فرمائی۔

پھر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ میں 20 اہم نکات پر اس قدر

تفصیل سے تبلیغ کی اور آخر میں فرمایا-

من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ

ترجمہ :… جس جس کا میں مولا تھا اس اس کے علی مولا ہیں

یعنی :– امیر المومنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔

سرکار دو عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ غدیر

من کنت مولا

فہذا علی مولا








من کنت مولا

فہذا علی مولا