94

آئیں یوم سیاہ منائیں، قوم بن کر کشمیربنے گا پاکستان سچ کر دکھائیں

Spread the love

تحریر:….ابو رجا حیدر ——- آئیں یوم سیاہ منائیں

آج پاکستان سمیت مقبوضہ اور آزاد کشمیر میں بھارتی یوم آزادی 15 اگست 2019

کو بطور یوم سیاہ منایا جا رہا ہے کیونکہ بھارت میں براجماں حکمران جہاں جنگی

جنون میں مبتلا ہیں وہیں انہیں انسانیت کا پاس ہے نہ ہی مذہب و تمدن کا جس کا

زندہ ثبوت مقبوضہ کشمیر کی انتہائی سنگین صورتحال ہے- ایسے میں اگر بھارتی

حکمران جماعت بی جے پی اور اس کی اتحادی انتہا پسند ہندو جماعتوں کی

بربریت اور انسانیت سوز کارستانیوں کےخلاف آواز بلند نہ کی جائے تو یہ بھی

ظلم کے مترادف ہے، مقبوضہ وادی میں لاکھوں نہتے کشمیری مسلمان گزشتہ 11

روز سے گھروں میں قید ہیں کیونکہ بھارت کی مودی سرکار نے وہاں مکمل

کرفیو لگا رکھا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات

کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے وادی جموں و کشمیر ایک جیل کا بنی ہوئی ہے،

ان کشمیریوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ ستر سال سے عالمی برادری کی

قراردادوں پر بھارت کو عملدرآمد کا مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں جن میں ان سے

وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے اور

انہیں کس طرح زندگی بسر کرنی ہے کسے وہ اپنا دوست سمجھتے ہیں اور کسے

دشمن کسی اور کو اپنی مرضی مسلط کرنے کی ہرگز اجازت نہیں لیکن بھارت تب

سے آج تا دم تحریر عالمی برادری کی ان قراردادوں کو پامال کرتا چلا آ رہا ہے،

عالمی برادری نے بھی بھارت کیساتھ وابستہ معاشی و اقتصادی مفادات کی وجہ

اپنے ضمیر کو خواب آور گولیاں کھلا کر سلا رکھا ہے یا سرے سے ہی بے ضمیر

ہو چکی ہے ورنہ اب تک کشمیریوں کو انکا حق استصواب رائے بھارت سے

چھین کر بھی دلایا جا چکا ہوتا،چونکہ عالمی برادری کو اپنے معاشی و اقتصادی

مفادات عزیز ہیں اس لئے وہ اپنا وعدہ ایفا کرنے کو تیار ہی نہیں اور لیت و لعل

سے کام لیتی چلی آ رہی ہے- ورنہ کسی قوم کو حق استصواب رائے دلانے کی

مثال ہمارے سامنے مشرقی تیمور کی موجود ہے جہاں عالمی طاقتوں نے مداخلت

کر کے انہیں آزادی دلائی اور آج وہ اپنے آئین و منشور اور مذہب و تمدن کے تحت

زندگی بسر کر رہے ہیں-

یہ بھی پڑھیں: خؤاب غفلت کا وقت گیا

دوستو! بات ہو رہی تھی یوم سیاہ کی تو آئیں آج بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ

کے طور پہ مناتے ہیں،لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ یوم سیاہ کیسے منایا جائے،

اسکا پرچم سرنگوں کرکے، لیکن اسکا پرچم تو ہر پاکستانی کے پاس نہیں،پھر ایسا

کرنے سے اسکو کیا فرق پڑے گا، حکومت کی سطح پر کوئی بیان جاری ہوجائیگا

تو اس بھارت کو کیا فرق پڑے گا، لیکن یہ بات یاد رکھیں قوموں کو قوم بننے

کیلئے قوم بننا پڑتا ہے اور یہ اتنا آسان نہیں، ہمیں بھارتی عوام سے نفرت نہیں

کیونکہ وہ بھی ہماری طرح بے بس ہیں ان پر بھی جنونیوں کا قبضہ ہے لیکن یہ

بھی حقیقت ہے بھارت میں مسلمانوں کی باقاعدہ نسل کشی کی جارہی ہے، وہاں پر

مذہب تبدیلی تحریک کے نام پر مسلمانوں اور عیسائیوں کو انکا مذہب چھوڑنے پر

مجبور کیا جارہا ہے، ہمارے کھلاڑیوں اور فنکاروں کیساتھ جیسا سلوک کیا گیا دنیا

گواہ ہے، کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کو باہر کرنے کیلئے بھارتی ٹیم نے جس

بے شرمی کا مظاہرہ کیا وہ بھی ڈھکا چھپا نہیں، ہم نفرت کرنا نہیں چاہتے لیکن

محبت کی کوئی ایک رمق بھی نظر نہیں آتی۔ دوسری جانب، کشمیر میں جو آج

ہورہا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں طاقتور محکوموں کیساتھ ایسا ہی کرتے ہیں، لیکن

کشمیر محکوم ہیں رہیں گے نہیں، آج پوری دنیا کی نظریں کشمیر پر ہیں، بھارت

پاکستان کیساتھ یقینا ایک بڑی لڑائی چھیڑنا چاہے گا تاکہ دنیا کی توجہ ہٹ سکے

میرا مذہب جیسا یقین ہے ہماری افواج ذہنی اور جسمانی طور پر اس کیلئے تیار

ہیں، ہمیں اگر مرنا آتا ہے تو مارنا بھی آتا ہے، ہندو کیلئے جو موت ہے مسلمان

کیلئے شہادت ہے، یہ فرق ہے میدان جنگ کا-

مزید پڑھیں: اہل ارض پاک کے نام پیغام یوم آزادی

اب آئیں ہم یوم سیاہ کیسے منائیں کیا ہم آج بھارتی گانے بھارتی ڈراموں کی قربانی

دے سکتے ہیں، ضروردیں، یہی طریقہ ہے اپنی اولاد کو اپنی نسل کو ایک نظریے

کا احساس دلانے کا، ہم انہیں نفرت نہیں اپنے نظرئیے پر پہرہ دینا سکھارہے ہیں،

کیا آج پورا پاکستان سیاہ پٹیاں نہیں باندھ سکتا، کیا ہم آج اپنے گھروں میں چھوٹے

چھوٹے سہی سیاہ پرچم تو لہرا سکتے ہیں، وٹس ایپ اور دوسرے سوشل میڈیا پر

ایک پیغام پاکستان کے نام، ایک پیغام اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے نام، ایک پیغام

بھارتی ہٹلر کے نام تو دے سکتے ہیں، کیونکہ مودی جدید دور کا ہٹلر ہے آج سے

ہم اسے ہٹلر جونیئر کے نام سے پکاریں گے۔ آپ آج سوشل میڈیا پر ہٹلر اور مودی

کی مشترکہ تصویر ضرورشیئر کریں۔ اچھا موقع ہے قوم کیلئے متحد ہو کر ایک

پیغام بھارتی جنونیوں کیساتھ ساتھ پوری دنیا کو دینے کا، اور ہاں وطن عزیز کی

جشن آزادی کی رات اور دن کو نیچے گرنے والے پرچمو ں (کاغذ کی پرچیوں)

کو ضرور اٹھا لیجئے گا کہ یہ ہماری عظمت کی نشانی ہے۔ اسی لیے ہی تو تحریر

کے آغاز میں کہہ دیا تھا یاد رکھیں قوموں کو قوم بننے کیلئے قوم بننا پڑتا ہے اور

یہ اتنا آسان نہیں،تاہم اب چونکہ بات مکمل ہو چکی ہے تو یہ بھی یاد رکھیں قوم بننا

ناممکن بھی نہیں، چین، شمالی کوریا ہمارے سامنے زندہ مثالیں ہیں، آج دنیا ان کی

محتاج ہے وہ نہیں، مگر افسوس ہماری سمت درست نہیں رہی ورنہ جنتی قربانیاں

وطن عزیز اور اس کے باسیوں جن میں راقم السطور بھی شامل ہے نے دی ہیں

اتنی کسی اور قوم نے نہیں دیں لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم وقتی طور پر تو قوم

بن جاتے ہیں کُل وقتی بننے کیلئے آج تک تیار نہیں ورنہ ہماری معاشی و اقتصادی

حالت ایسی نہ ہوتی- آئیں بھارت کے یوم آزادی کو ایسا یوم سیاہ بنادیں کہ دنیا از

خود ہمارے ساتھ بھارت کی جنونی حکومت کیخلاف شانے سے شانہ ملا کر کھڑا

ہونے کو اپنے لئے فخر اور اعزاز سمجھے- آئیں یوم سیاہ منائیں قوم بن کر کشمیر

بنے گا پاکستان سچ کر دکھائیں-

آئیں یوم سیاہ منائیں