54

بھارت کا یکطرفہ اقدام مسترد ،چین کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پردوبارہ اظہارتشویش

Spread the love

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک،اے این این)چین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے

یکطرفہ اقدام کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ

صورتحال اور پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتے تنازع پر ایک بار پھر سخت

تشویش کا اظہار کیا ہے۔چین خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق بھارتی وزیر

برائے خارجہ امور سبرامنیم جے شنکر نے بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ

ای سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران چینی وزیر خارجہ نے مقبوضہ کمشیر میں

بھارت کے یکطرفہ اقدام کے حوالے سے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے چین کا

مؤقف اصولی ہے، امید ہے بھارت خطے کے امن و استحکام کے لیے تعمیری

کردار ادا کرے گا۔ملاقات کے دوران چینی وزیر خارجہ نے مقبوضہ کمشیر میں

بھارت کے یکطرفہ اقدام کے حوالے سے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے چین کا

موقف اصولی ہے، امید ہے بھارت خطے کے امن و استحکام کے لیے تعمیری

کردار ادا کرے گا۔ وانگ ژی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور

پاک-بھارت تنازع کو قریب سے دیکھ رہے ہیں، چین صورتحال کو پیچیدہ کرنے

والے کسی بھی یکطرفہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے۔چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ

نئی دہلی کے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام سے متنازع

علاقے کی حیثیت بدل جائے گی اور اس کے نتیجے میں خطے میں صورتحال

کشیدہ ہوگی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت تنازعات کو پرامن

طریقے سے حل کریں گے اور علاقائی امن اور استحکام کی مجموعی صورتحال

کی مشترکہ طور پر حفاظت کریں گے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے چینی وزیر

خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے چین کے سرحدی علاقوں کو اپنی حدود

میں شامل کرنے کے اقدام نے چینی خودمختاری اور مفادات کو چیلنج کیا، یہ عمل

دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں کا تحفظ، امن و سلامتی پر دو طرفہ معاہدوں

کے برعکس ہے اور اس پر شدید تحفظات ہیں۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت

کے اقدامات چین کی طرف کوئی اثرنہیں ڈالیں گے نہ ہی اس حقیقت کو تبدیل کریں

گے کہ چین کی متعلقہ علاقے پر خود مختاری اور موثردائرہ کار کی حیثیت ہے۔

چینی وزیرخارجہ نے امیدظاہر کی کہ بھارتی فریق ایسی باتیں کریں گے جو

دونوں کے باہمی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے بہتر ہیں، ساتھ ہی ایسے اقدام

کریں گے جو سرحدی علاقوں، امن اور سکون کو برقرار رکھنے کے لیے موزوں

ہوں جبکہ چین-بھارت تعلقات کی مجموعی صورتحال میں بے جا مداخلت سے

گریز کریں گے۔اس موقع پر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے وضاحت کی کہ

بھارت تحمل کا مظاہرہ کرنے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کا

خواہاں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سرحد پر امن برقرار رکھنے کے حوالے

سے چین کے ساتھ ہونے والی مفاہمت پر کاربند رہے گا اور تمام سرحدی تنازعات

کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کیلئے چین کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے

گا۔ بھارت کے وزیرخارجہ جے شنکر نے اپنے ملک کی پوزیشن واضح کرتے

ہوئے کہا کہ بھارت کی آئینی ترمیم میں کوئی نئی خود مختاری، پاک بھارت جنگ

بندی معاملے میں کوئی تبدیلی سمیت بھارت چین سرحد کی اصل کنٹرول لائن میں

کوئی تبدیلی نہیں لائی۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سرحد پر امن برقرار رکھنے

کے حوالے سے چین کے ساتھ ہونے والی مفاہمت پر کاربند رہے گا اور تمام

سرحدی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کیلئے چین کے ساتھ مل کر

کام جاری رکھے گا۔بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک رواں برس چینی

صدر اور نریندر مودی کے درمیان غیر رسمی ملاقات کا خواہاں ہے اور اس

ملاقات کو کامیاب بنانا چاہتا ہے۔