55

مسئلہ کشمیر پر امریکی ثالثی قطعاً قبول نہیں، بھارت کا دوٹوک جواب

Spread the love

واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارت جواب

بھارت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر امریکی صدر ڈونلڈ

ٹرمپ کی ثالثی کبھی قبول نہیں کرے گا۔ امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے

امریکہ میں متعین بھارتی سفیر شرنگالا سے خانہ جنگی کے خاتمے کیلئے اقدامات

کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ

بھارت مقبوضہ وادی میں انتخابات کرانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس کے

بعد خطے کو براہ راست مالی تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم آہستہ

آہستہ صورتحال بہتر کریں گے، کسی مقام پر انتخابات بھی کرائیں گے، ان کا اپنا

وزیراعلیٰ ہوگا اور ہم بڑے پیمانے پر ترقیاتی معاونت کی یقین دہانی کرینگے۔

پڑھیں: بھارتی دہشتگردی سے مقبوضہ کشمیر قبرستان بن چکا،مشعال ملک

بھارتی سفیر شرنگالا کا یہ بھی کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر

نجی سرمایہ کاری وہاں پہنچے گی، ہم یہاں عوام کی خدمت کی بات کر رہے ہیں

بالخصوص نواجوان جو اپنی صلاحیت کو مزید بہتر بناسکتے ہیں۔ امریکی صدر

ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ ثالثی کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب

میں ان کا کہنا تھا یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔

یاد رہے گزشتہ ماہ جولائی کے آخری عشرہ کے اوائل میں وزیراعظم پاکستان

عمران خان صدر دونلڈ ترمپ کی دعوت پر امریکہ کے تین روزہ دورے پر گئے

جہاں دونوں رہنمائوں کے مابین ون آن ون ملاقات میں میزبان امریکی صدر ڈونلڈ

ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو بتایا بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی مسئلہ

کشمیر پر میری ثالثی کے خواہاں ہیں پاکستان بھی چاہئے تو وہ کردار ادا کرنے

کیلئے تیار ہیں، صدر ٹرمپ کی اس پیشکش کا پاکستان نے خیر مقدم کیا تاہم بھارت

پھر اپنے ہی کہے سے مکر گیا

بھارت جواب