80

کشمیری نمازعید وقربانی سے محروم، آرمی چیف کا واضح موقف، شاہ محمود کا سچ

Spread the love

سرینگر،ایل او سی،مظفرآباد (جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) کشمیری

مقبوضہ کشمیر میں عید الضحیٰ کے دن بھی کرفیو نافذ برقرار رہا اور کشمیری

مسلمان سنت ابراھیمی ہی نہیں نماز عیدالضحیٰ کی ادائیگی سے بھی محروم رہے۔

پاکستان کی طرح مقبوضہ وادی میں بھی گزشتہ روزعید الاضحیٰ منائی گئی، لیکن

قابض بھارتی فورسز نے پوری وادی کو جیل میں تبدیل کئے رکھا گزشتہ ایک

ہفتے سے زائد عرصہ سے جاری کرفیو عیدالضحیٰ کے عظیم دن بھی نہ اٹھایا گیا

جس کے نتیجے میں کشمیری مسلم مذہبی فرائض کی ادائیگی میں طرح طرح کی

دشواریوں سے دوچاررہے کیونکہ بھارت کی جانب سے وادی میں عید اجتماعات

پر پابندی لگا دی تھی اور مزید فوجیوں کو تعینات کردیا گیا۔ تاہم بھارتی جبر کے

باوجود ہزاروں کشمیری احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلے، جنہوں نے بھارت

مخالف اور پاکستان کے حق میں نعرے لگا یے اور قابض فورسز کے سامنے ڈٹ

گئے، مقبوضہ وادی ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی کئی روز سے معطل ہیں

جبکہ مکمل لاک ڈاون کی صورتحال ہے جس کی وجہ سے کاروبار حیات مفلوض

ہو کر رہ گیا ہے یہ سنگین صورتحال گزشتہ ہفتے بھارتی وزیر اعظم مودی کی

حکومت کی جانب سے کشمیر کو بھارتی آئین میں حاصل خصوصی حیثیت ختم

کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے بنا دی

گئی ہے اور عالمی برادری سوائے زبانی جمع خرچ کے کوئی ٹھوس اقدامات

اٹھاتی نظر ہی نہیں آرہی جس سے وادی میں انسانی المیہ جنم لینے کا خطرہ روز

بروز بڑھتا جا رہاہے-

بھارت کو مقبوضہ وادی میں ڈھائے مظالم چھپانے نہیں دینگے،جنرل باجوہ

LOC, Army Chief General Qamer Javed Bajwa Address to Army men.

افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے عید الاضحیٰ لائن آف کنٹرول

پر پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کیساتھ منائی، پاک فوج کے شعبہ تعلقات

عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر

جاوید باجوہ نے ایل او سی کا دورہ کیا اور باغ سیکٹر میں فوجی افسروں اور

جوانوں کیساتھ نماز عید ادا کی، اس موقع پر سپہ سالار افواج پاک کا کہنا تھا امن

کی خواہش کیساتھ پاکستان تنازع کشمیر کے حل کیلئے نہ صرف پرعزم بلکہ

حکومت نے مسئلہ کے حل کیلئے کثیر الجہتی کوششوں کا آغاز بھی کردیا ہے،

اس ضمن میں جتنی کاوشیں درکار ہونگی کرینگے اوررب تعالیٰ کی مدد و نصرت

سے ہر چیلنج پر پورا اتریں گے، بھارت مسئلہ کشمیر سے عالمی برادری کی توجہ

ہٹانے اور اسے گمراہ کرنے کیلئے کچھ بھی کر سکتا ہے مگر ہم اسے مقبوضہ

وادی میں ڈھائے جانیوالے غیر انسانی مظالم، عالمی قوانین کی قبیح خلاف ورزیوں

پر پردہ پوشی نہیں کرنے دینگے۔ ہمارا مذہب ہمیں امن کا درس دیتا ہے تاہم سچ

کیلئے استقامت اور قربانی بھی سکھاتا ہے، ہم اپنے کشمیری بہن، بھائیوں کیساتھ

تھے، ہیں اور رہیں گے، پاک فوج عیدِ قرباں جموں و کشمیر کے باسیوں کیساتھ

اظہار یکجہتی کے طور پر منا رہی ہے۔

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی، مظفر آباد میں حکومت، اپوزیشن ایک

Muzfar Abad , FM Shah Mehmood Qurashi,Chairman Peoples Party,PM AKJ Raja Farouqe Haider Praying Nimaz e Eid ul Azha in 12th August 2019,

پاکستان کی عسکری قیادت کی طرح سیاسی قیادت نے بھی اپنے کشمیری بہن

بھائیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے آزاد کشمیر میں عید الضحیٰ منائی، اس ضمن

میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین

بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ن کے رہنما اقبال ظفر جھگڑا آزاد وادی کے

دارالحکومت مظفرآباد پہنچنے جہاں انہوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق

حیدر کیساتھ نماز عید الضحیٰ ادا کی اوربعدازان مقبوضہ وادی کے کشمیریوں سے

یکجہتی کے اظہار کیلئے نکالی گئی ریلی میں بھی شرکت کی۔

پاکستانی احمقوں کی جنت میں نہ رہیں، امہ امہ کی رٹ لگانے والے محافظین

امہ کے مفادات بھارت سے وابستہ ہیں، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

Muzfar Abad , FM Shah-Mehmood-Qureshi-address to Press Conference with President of AJK Masood-Khan-in 12th august 2019.

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بعدازاں صدر آزاد کشمیر مسعود خان

کیساتھ مظفر آباد میں پریس کانفرنس بھی کی، جس سے خطاب اور صحافیوں کے

سوالات کے جواب دیتے ہوئے انکا کہنا تھا پاکستانی قوم احمقوں کی جنت میں نہ

رہے کیونکہ اقوام متحدہ میں کوئی بھی وطن عزیز کیلئے پھولوں کے ہار لئے نہیں

کھڑا، تنازع کشمیر پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کوئی بھی مستقل ممبر

پاکستان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ انکا کہنا تھا امہ امہ کی بات تو بہت کی

جاتی ہے مگر محافظین امہ کے مفادات ہندوستان کیساتھ وابستہ ہیں، انہوں نے وہاں

خطیرسرمایہ لگا رکھا ہے، تنازع کشمیر پر سلامتی کونسل جانا ہمارا اہم فیصلہ

ہےاور برادار ملک چین نے بھی مظلوم کشمیریوں کا کیس وہاں پیش کرنے میں

مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ حریت رہنما یاسین ملک کی قید میں تشویشناک حالت

پربھارت کی شدید مذمت کرتے ہوئے انکا کہنا تھا نئی دہلی سرکار را کے جاسوس

کلبھوشن یادیو کو ان کے خاندان ملاقات کرانے کا تو مطالبہ کرتی ہے مگر خود

حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کو ویزا جاری نہیں کرتی،اس سے

بڑا دوغلا پن اور منافقت اور کیا ہو گی، انکا یہ بھی کہنا تھا ہم کشمیریوں کے شانہ

بشانہ کھڑے تھے، ہیں اور رہیں گے، انہیں تنہا چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

اور ہم جو پیغام باہردینا چاہتے تھے وہ بھیجنے میں کامیاب رہے۔

یہ پڑھیں: پاکستان ہر سطح پر کشمیریوں کا کیس لڑیگا، عمران خان

وزیراعظم عمران خان سلامتی کونسل میں کشمیر کے معاملے پر حمایت کے

حصول کیلئے دنیا بھر کی قیادت سے بات کر رہے ہیں، مگرکشمیریوں کا متحرک

ہونا،دنیا کو متفقہ اورمشترکہ پیغام جانا ضروری ہے۔ انہوں نے ملکی سیاسی

جماعتوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کے سیاسی ایجنڈے کو کشمیر کے

ایجنڈے میں ضم نہ کریں تنازع کشمیر پر سیاست نہ انکے فائدے میں ہے نہ ہی

پاکستان کے۔ ہمارے یہاں آنے کا مقصد کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار تھا تاکہ

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار مقبوضہ وادی میں بسنے والے اپنے مظلوم

کشمیری بہن بھائیوں کو باور کراسکیں کہ تمام پاکستانی تنازع کشمیر پر ایک ہیں،

مسئلہ کشمیر کوئی آج کا نہیں 70 سال سے چلا آ رہا تنازع ہے لیکن اس کے حل

کیلئے آج تک امہ کے محافظوں نے اقدامات اٹھائے،

سلامتی کونسل میں عشروں سے مدفن مقدمہ کشمیر میں جان ڈالنے کیلئے

کشمیریوں کا متحد ،ایک موقف اور دنیا بھر میں مظاہرے کرنا ضروری

پاکستان ساتھ تھا، ہے اور رہیگا، تنہا چھوڑنے کا تصور تک ناممکن

وزیرخارجہ نے دوران گفتگو ایک مرتبہ پھر زور دے کر کہا آزاد اور مقبوضہ

کشمیر دونوں میں ہی کشمیریوں کا متحد ہونا بہت ضروری ہے، اگر دنیا کشمیریوں

کو بھارتی اقدام پر احتجاج کرتا نہیں دیکھے گی تو سلامتی کونسل میں دہائیوں سے

پڑا یہ مقدمہ وہیں دفن رہے گا، کیونکہ اس مقدمہ میں ازسرنو جان کشمیریوں کی

آواز اور پاکستان کی مکمل مدد سے ڈالی جا سکتی ہے، مودی سرکار کے اقدام

سے کشمیریوں کی جدوجہد ایسے وقت میں داخل ہوگئی ہے جو کافی اہم ہے، لہٰذا

لوگوں کو اپنا وقت توجہ دینا ہوگی، مظلوم کی پکار اللہ سنتا بھی ہے اور کامیابی

سے بھی ضرور ہمکنار کراتا ہے صبر، تحمل اور بردباری شرط ہیں،

وزیر اعظم عمران خان 14 اگست مظفر آباد میں منائیں گے، شاہ محمود کا اعلان

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا 14 اگست کو وزیراعظم عمران خان

بھی مظفرآباد آرہے ہیں، جہاں وہ قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرنے کےساتھ

ساتھ مفصل بیان دیں گے اور اسی روز اسلام آباد میں ایک ریلی کا انعقاد بھی کیا

جائے گا، 1972 میں ہونیوالے شملہ معاہدے میں دو طرفہ تعلقات پر زور دیا گیا

تھا لیکن معاہدے پر بھارت نے حملہ کیا اسی لئے ہم نے بھی تمام دوطرفہ معاہدوں

پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے اورایک کمیٹی جس میں ملک کے تمام اداروں کے

نمائندوں سمیت سول و عسکری قیادت کی نمائندگی تشکیل دیدی ہے جو جلد ہی

آئندہ کی حکمت عملی کیلئے اپنی سفارشات حکومت کو دے گی جسے پارلیمنٹ

سے منظور کراکے لاگو کر دیا جائےگا۔

کشمیری