Federal Cabinet Pakistan Meeting at Prime Minister House Islamabad 117

وفاقی کابینہ، بھارت سے تجارت، ریل رابطے ختم، کشمیر سے متعلق حکمت عملی تیار

Spread the love

اسلام آباد( جے ٹی این آن لائن سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)

وفاقی کابینہ نے بھارت کیساتھ دو طرفہ تجارت ختم ، مسئلہ کشمیر کو عالمی

سطح پر اجاگر کرنے کی حکمت عملی تیار، فوری عملدرآمد کرنے، نیشنل

فرٹیلائزر کے سی ای او کو عہدے سے ہٹانے، پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین

کی منظوری دیدی جبکہ امپورٹ، ایکسپورٹ آرڈر میں ترمیم کا ایس آر او جاری

کرنے کا اختیار ایف بی آر کو دیدیا۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان

کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا

گیا-

سی ای او این ایف سی ہٹانے، چیئرمین و ڈپٹی ایرا کی تقرریوں کی منظوری

وفاقی کابینہ نے مسئلہ کشمیر پر چیئرمین کشمیر کمیٹی فخر امام کی سربراہی میں

ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے سمیت بھارت کیساتھ دو طرفہ تجارت معطل

کرنے کی منظوری دی، فیڈرل انسٹیٹیوٹ آف حیدرآباد کیلئے قانون سازی، نیشنل

فرٹیلائزر کے سی ای او کو عہدے سے ہٹانے، سربراہ ایرا اور ڈپٹی چیئرمین کی

تقرری، قومی پیداوار آرگنائزیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سمری کی بھی

منظوری دیدی۔ کابینہ کو بتایا گیا پاکستان اور بھارت کی سالانہ دو طرفہ تجارت کا

حجم 2 ارب 12 کروڑ 40لاکھ ڈالر ہے، پاکستان کی درآمدات کا حجم 1 ارب 80

کروڑ ڈالر ہے، پاکستان کی بھارت کیلئے برآمدات کا حجم 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر

ہے، وفاقی کابینہ کواحساس پروگرام سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ وفاقی کابینہ

نے اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا اور ای سی سی کے فیصلوں کی توثیق

کی۔ کابینہ کے ایجنڈا میں مفاد عامہ کیلئے مختلف پروگرامز شروع کرنے کے

حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔ وفاقی کابینہ کو کراچی، لاہور، ملتان اور

پشاور میں بڑی عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے شہری ہوا بازی نے بریفنگ

دی۔ کابینہ نے امپورٹ، ایکسپورٹ آرڈر میں ترمیم کا ایس آر او جاری کرنے کا

اختیار ایف بی آر کو دیدیا۔ وفاقی کابینہ نے ای ڈی پولی کلینک شاہد حنیف سے

چارج واپس لیکر انکی جگہ ڈاکٹر شعیب کو بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر چارج سونپا۔

پاکستان کشمیر معاملے پر ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گا، وفاقی کابینہ

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے وزراء کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی

ظلم وستم کو عالمی سطح ہر اجاگر کرنے کی ہدایت کی جبکہ کابینہ نے اس ضمن

میں حکمت عملی تیار اور اس پر فوری عملدرآمد کرنے کی منظوری دی۔ وفاقی

کابینہ نے وزارت ریلوے کی سمجھوتہ ایکسپریس اور بھارت کو ریل سروس بند

کرنے کے فیصلے کی توثیق کی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد کابینہ کے

فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان

نے کہا پا کستان کشمیر کے معاملے پر ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گا، وزیراعظم

نے کراچی کے نالوں کی صفائی کرنیوالے شہریوں کیلئے سپیشل ایوارڈ دینے کا

فیصلہ کیا ہے۔ تمام مسائل کی جڑ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے، نوجوانوں

اور مزدوروں کو خصوصی مراعات دی جائینگی، غریبوں اور مسکینوں کیلئے

لنگر خانے کھولے جائیں گے۔

پڑھیں: پاکستان کے بھارت کیخلاف 5 بڑے فیصلے

وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر پر خطے کی صورتحال سے بھی کابینہ

کو آگا ہ کیا، پارلیمنٹ کی قرارداد کی روشنی میں مختلف فوکل گروپ بنا دیئے

گئے ہیں۔ بھارت نہتے کشمیریوں پر ظلم کررہا ہے اور پاکستان کسی بھی صورت

مسئلہ کشمیر پر لچک نہیں دکھائے گا، وزیر اعظم کے احساس پروگرام کے تحت

وزیراعظم نے کابینہ کو باور کرایا اس ملک میں اللہ تعالیٰ نے بڑی پوٹینشل دی

ہے، اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ دنیا نے وزیراعظم عمران خان کے بیانیہ سے

اتفاق کیا ہے، دنیا میں وزیراعظم کے بیانیے کوسراہا گیا ہے، تنازعہ کشمیر پر

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے انکا کہنا تھا

بیان اقوام متحدہ اور عالمی دنیا کا عمران خان کے اصولی موقف پر اظہاراعتماد،

پاکستان کی سفارتی فتح ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا موقف ہے وہ کشمیریوں کی

امنگوں کے مطابق حق خودارادیت کے حصول کیلئے کسی بھی حد تک جائینگے۔

مریم نواز انٹرویوز میں کچھ عدالتوں کچھ اور کہنے والی فنکارہ، فردوس عاشق

قبل ازیں اپنے ٹویٹ میں فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا بیگم صفدر اعوان کا

قصور یہ ہے انہوں نے عدالت میں ثبوتوں کے بجائے قطری چھتری پیش کی۔

خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا خواجہ صاحب! بیگم صفدر

اعوان کا قصور یہ ہے انہوں نے مائیکروسوفٹ کا کیلبری فونٹ مارکیٹ میں آنے

سے پہلے ہی لانچ کر دیا، بیگم صفدر اعوان کلیبری فونٹ کی جعلساز اور بے

نامی دار ہیں، ٹی ٹیز میں آل شریف کی شراکت دار اور انٹرویوز میں کچھ اور

عدالتوں میں کچھ اور کہنے والی فنکارہ ہیں، ان کا قصور یہ ہے غیر ملکیوں نے

ملین ڈالرز ان کے اکائونٹ میں بھیجے لیکن ان کو خبر نہ ہوئی۔