62

پاکستان کا مقبوضہ کشمیر معاملہ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل لے جانے کا اعلان

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی

سکیورٹی کونسل میں لے جانے کا اعلان کردیا۔اسلام آباد میں پریس کانفر نس

کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا مقبوضہ کشمیر کے معاملے

پر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں دوبارہ جانے کا فیصلہ کیا ہے، بھارت کی

طرف سے مقبوضہ کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دینا غلط ہے، ہم نے 28 ممالک

کو قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں اور اپنی تشویش سے آگاہ کردیا ہے۔ مقبوضہ

کشمیر میں 9 لاکھ فوج تعینات ہے، ہر گھر کے باہر سپاہی موجود ہے، مقبوضہ

کشمیر کو بھارت نے جیل بنادیا کیا یہ فلاح و بہبود ہے، کیا 70 برس پہلے

کشمیریوں کیلئے فلاح و بہبود پر کوئی قدغن تھی؟۔بھارت کب تک 1کروڑ 40 لاکھ

کشمیریوں کو قید میں رکھے گا، کشمیر بین الاقوامی متنازع مسئلہ ہے، نہرو نے

14 بار وعدے کیے کہ کشمیر کا فیصلہ اس کے عوام کی خواہش کے مطابق ہوگا۔

بھارت نے صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش مسترد کردی ہے، پاکستان کے

فیصلے سے افغانستان کی تجارت متاثر نہیں ہوگی، انڈراسٹینڈنگ برقرار رہے گی،

پاکستان کی جانب سے فضائی حدود محدود کرنے کی خبر غلط ہے، پاکستا ن نے

فضائی حدود محدود نہیں کی۔ یورپی یونین کشمیر پر ڈائیلاگ میں کردار ادا

کرسکتی ہے تو پاکستان تیار ہے، اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر کشمیر سے متعلق

کئی قرار دادیں موجود ہیں، بھار تی یکطرفہ اقدام کے خطے پر منفی اثرات ہوں

گے۔وزیر خارجہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت کی طرف سے پلوامہ ٹو جیسا

ڈرامہ رچا سکتا ہے اور کوئی نیا آپریشن کیا جاسکتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں

جاری جبر اور تشدد سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے بھارت نیا ناٹک رچا سکتا ہے،

ہم کسی بھی جارحیت کیخلاف اپنا تحفظ کریں گے اور محتاط رہیں گے۔ شاہ محمود

قریشی نے پاکستا ن اور بھارت کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین

بند کیے جانے کی تصدیق کی اورکہا ہم چوکس ہیں لیکن ملٹری آپشن زیر غور

نہیں، پاکستان نے سفر کا آغاز کردیا ہے اور مشترکا قراداد اس کی شروعات ہے ،

قومی سلامتی کمیٹی کی قائم کمیٹی میں تمام اداروں کی نمائندگی ہے، چین سے

واپسی کے بعد اس کمیٹی کا اجلاس ہوگا، بھارت ہمیں نظر ثانی کرنے کو کہہ

رہاہے،تو دو طرفہ نظر ثانی کیوں نہیں۔ بھارت کیساتھ سفارتی عملے کی تعداد میں

بھی کمی کیساتھ ساتھ سفارتکاروں کی نقل و حمل بھی محدود کی جائے گی۔بعدازاں

چیئرمین یورپی یونین برائے خارجہ امور فیڈریکا موروگینی کے درمیا ن ٹیلفیو نک

رابطہ ہو ا جس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا مقبوضہ کشمیر میں

بھارت کے غیرقانونی اقدام سے خطے کو خطرات لاحق ہیں، یو رپی یو نین سمیت

عالمی برادری اس گھمبیر صورتحال کا نو ٹس لے ۔اس موقع پر دونوں رہنمائوں

میں مقبوضہ کشمیرکی تشویشناک صورتحال پرتبادلہ خیال بھی کیاگیا۔وزیر خارجہ

نے کہا بھارت نے کشمیرکی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی، بھارت

کا یکطرفہ اقدام اقوام متحدہ قراردادوں کے منافی ہے ، یورپی یونین کشمیریوں پر

مظالم کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے۔ بھارت عالمی معاہدوں کی پابندی نہ

وعدوں کی پاسداری کررہا ہے، بھارت بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔ مسئلہ

کشمیراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے، عالمی برادری بھارت

کی جانب سے کشمیریوں کے قتل عام کا نوٹس لے، بھارت کے غیرقانونی اقدام

سے خطے کو خطرات لاحق ہیں، پاکستان اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے

کرجا رہا ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، اخلاقی، سیاسی حمایت جاری

رکھے گا۔دوسری جانب چیئرمین یورپی یونین برائے خارجہ امور فیڈریکا

موروگینی نے کہا یورپی یونین صورتحال پرنظر رکھے ہوئے ہے، باہمی معاملات

کے حل کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔دریں اثناء امریکی ریپبلکن

سینیٹر لنزے گراہم نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا

جس کے حوالے سے انہوں نے سوشل میڈیا ٹوئٹر پیغام میں آگاہ کیاکہ مقبوضہ

کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے بھارتی اقدام سے فوری نمٹنا ہوگا ۔لنزے گراہم

نے بتایا پاکستانی وزیرخارجہ سے ٹیلی فونک رابطے میں کشمیر میں بڑھتی کشیدہ

صورتحال پر بات ہوئی، مزید کشیدگی بڑھنے سے پہلے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت

تبدیل کرنے کے بھارتی اقدام سے فوری نمٹنا ہوگا۔ امریکی سینیٹر نے حالیہ

صورتحال پر امید ظاہر کرتے ہوئے مزید کہا ٹرمپ انتظامیہ پاک بھارت تناؤ کم

کرنے میں دونوں کو تعاون فراہم کرے گی۔لنزے گراہم نے پیغام کے آخر میں

واضح کیا کہ کشمیر پر پاک بھارت فوجی محاذ آرائی خطے اور دنیا کیلئے نقصان

دہ ہوسکتی ہے۔خیال رہے بھارت نے صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقبوضہ

کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا تھا جبکہ

بھارتی لوک سبھا نے بھی آرٹیکل 370 ختم کرنے کی منظوری دیدی تھی۔پاکستان

نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کو یکسر مسترد

کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے واقعے کا فوری نوٹس لینے کا

مطالبہ کیا ہے۔