39

نیب نے مریم نواز اوریوسف عباس کو گرفتار کر لیا

Spread the love

لاہور ،اسلام آباد (کرائم رپورٹر ) قو می احتسا ب بیو رو (نیب )نے چوہدری

شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اورسابق وزیراعظم

نواز شریف کے بھتیجے یوسف عباس کو گرفتار کرلیا،ملزمان کاطبی معائنہ کرنے

کے بعد (آج) جمعہ کو انہیں جسمانی ریمانڈ کیلئے لاہور کی احتساب عدالت کے

جج کے روبرو پیش کیا جائے گا،مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل سے جبکہ یوسف

عباس کو نیب کے دفتر میں دوران انکوائری گرفتار کیا گیا، مریم نواز اور یوسف

عباس چوہدری شوگر ملز میں حصص کے مالک تھے۔نیب کی طرف سے جاری

اعلامیہ کے مطابق مریم نواز اور یوسف عباس کو چوہدری شوگر ملز کیس میں

گرفتار کیا گیا ہے،۔نیب ذرائع کے مطابق مریم نواز کو جمعرات کو سہ پہر

ساڑھے3 بجے نیب دفتر طلب کیا گیا تھا تاہم انہوں نے نیب کی تفتیشی ٹیم کے

سامنے پیشی سے معذرت کرتے ہوئے تحریری طور پر آگاہ کر دیا تھا اور وہ اپنے

والد سے ملنے کوٹ لکھپت جیل گئیں جہاں سے نیب کی ٹیم نے انہیں حراست میں

لے کر نیب دفتر منتقل کر دیا۔ دوسری طرف یوسف عباس جو سابق وزیراعظم نواز

شریف کے بھتیجے ہیں انہیں بھی چوہدری شوگر ملز کیس میں نیب دفتر طلب کیا

گیا تھا اور وہ نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے جہاں دوران انکوائری

انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ واضح رہے کہ دونوں ملزمان کی گرفتاری کیلئے چیئرمین

نیب نے وارنٹ کی منظوری دی تھی، مریم نواز اور یوسف عباس چوہدری

شوگرملز میں حصص کے مالک رہے ہیں، مریم نواز کے حصص 2010سے

2012کے دوران تھے جو بعد ازاں دیگر شراکت داروں کو منتقل ہو گئے تھے۔نیب

کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کے لئے ڈے کیئر

سنٹرکو سب جیل قرار دے کر پنجاب پولیس کی خواتین اہلکاروں کو طلب کرلیا گیا

۔ مریم نواز کی گرفتاری کے بعد نیب کی جانب سے مریم نواز کے رات قیام کے

لئے طویل مشاورت کی گئی ۔ بعد ازاں ڈے کیئر سنٹر کو سب جیل قرار دے کر

پنجاب پولیس کی خواتین اہلکاروں کوطلب کر لیا گیا۔قومی احتساب بیورو (نیب)ٹیم

نے گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب

اختلاف شہباز شریف کی ماڈل ٹان میں واقع رہائش گاہ پر چھاپہ مارا ۔ نیب ٹیم

شہباز شریف کے ان 2 ملازمین کی گرفتاری کیلئے آئی تھی جنہوں نے حمزہ

شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے پہنچنے والی نیب ٹیم کو روکا اور مزاحمت کی

نیب ٹیم شہباز شریف کی رہائش گاہ پہنچی اور گیٹ پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں

سے کہا کہ ہمیںان ملازمین کی تلاش ہے، انہیں ہمارے حوالے کیا جائے تاہم ان

کے وہاں موجود نہ ہونے پر نیب ٹیم واپس روانہ ہو گئی۔دریں اثنا مریم نواز کی

گرفتاری پرمسلم لیگ (ن )کا اہم اجلاس ہوا جس میں خواجہ محمد آصف، احسن

اقبال اور رانا تنویر ،مریم اورنگزیب، سردار ایاز صادق، و دیگر اراکین شریک

ہوئے ۔اجلاس میں نیب کی جانب سے مریم نواز کی گرفتاری کی پرزور الفاظ میں

مذمت کی گئی ذرائع کے مطابق پارٹی نے مریم نواز کی گرفتاری کے بعد کی

صورتحال پر بھی غور کیا ۔ پارٹی رہنمائوں نے صدر مسلم لیگ ن میاں شہباز

شریف سے بھی رابطہ کیا اور مریم نواز کی گرفتاری پر بات چیت کی۔دوسری

طرف سابق وزیر اعظم نوازشریف کے معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا ہے کہ مریم

نواز کو کوٹ لکھپت جیل میں ان کے بیمار والد کے سامنے گرفتار کیا گیا ۔ ڈاکٹر

عدنان نے کہا کہ اس سے برا عمل کیا ہوسکتا ہے کہ مریم کی گرفتاری کے

وقت ان کی صاحبزادی بھی ان کے ساتھ تھیںسینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر

راجہ محمد ظفر الحق نے کہا کہ محترمہ مریم نواز صاحبہ کی گرفتاری صریحا

انتقامی کارروائی ہے، سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین

آصف علی زرداری نے مریم نواز کو نیب کی جانب سے تحویل میں لینے کی شدید
مذمت کی ہے،سابق صدر نے جمعرات کے روز میڈ یا سے گفتگو میں کہا کہ کہا

ہے کہ ان کے ارادے کل میری بہن فریال تالپور کو بھی گرفتار کرنے کے

ہیں،آصف علی زرداری نے یہ بھی کہا کہ بات نکلی ہے تو دور تک جائے گی،

دوسروں کی بھی مائیں بہنیں ہیں، ان سب کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی

کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمن نے مریم نواز گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے

کہا ہے کہ حکومت تنقید کرنے والے تمام اپوزیشن ارکان کو نشانہ بنا رہی۔ انہوںنے

کہاکہ پیپلز پارٹی مریم نواز کی گرفتاری کی مذمت کرتی ہے۔انہوںنے کہاکہ

احتساب کے نام پر انتقام کی نئی تاریخ رقم کی جا رہی۔انہوںنے کہاکہ صرف

اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کا احتساب ہو رہا۔ وفاقی کابینہ کے وزراء پر بھی

کیسز ہیں تحریک انتقام اپنے وزراء کا بھی احتساب کرے۔انہوںنے کہاکہ یہ سیاسی

یکجہتی دکھانے کا وقت تھا انتقامی کارروائی کرکے حکومت نے دنیا کو پیغام دیا

ہے وہ اکیلی کھڑی ہے۔انہوںنے کہاکہ اس وقت حکومت کو اتفاق رائے کی

ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ ملک مشکل وقت سے گزر رہا۔ حکومت اپنے آپ کے

لئے مشکلات پیدا کر رہی۔مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی مولابخش چانڈیو نے

مریم نواز کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر اور ناقص

کارکردگی سے توجہ ہٹانے کیلئے مریم نواز کو گرفتار کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ مریم

نواز کی گرفتاری بدترین آمرانہ اقدام اور قابل مذمت ہے۔ا عمران خان حکومت

آمریت کی تمام حدود پار کر چکی ہے۔انہوںنے کہاکہ خان صاحب سے مسائل کے

حل کا پوچھیں تو کہتے ہیں این آر او نہیں دوں گا۔انہوںنے کہاکہ عمران خان ملک

میں بے چینی چاہتے ہیں کیوں کی بے چینی میں ہی ان کی بقا ہے ۔انہوںنے کہاکہ

خان صاحب جو کچھ بو رہے ہیں پی ٹی آئی کو وہ کاٹنا پڑے گا ۔انہوںنے کہاکہ دنیا

مسئلہ کشمیر کی وجہ پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ حکومت قوم

کو متحد کرنے کے بجائے تقسیم کر رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بجائے حکومت کی توجہ گرفتاریوں پر ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور نے مریم نواز کی گرفتاری کی مذمت

کرتے ہوئے کہاہے کہ کیا یہ مدینہ کی ریاست ہے جس میں عورتوں کو گرفتار کیا

جا رہا ہے۔