112

کشمیر ….. شہ رگ یا اٹوٹ انگ؟ فیصلہ کن گھڑی آگئی

Spread the love

(تحریر:…. ابو رجا حیدر) کشمیر …..

جب سے ہوش سنبھالا مسئلہ کشمیر کو فلیش پوائنٹ کی گردان سنتے چلے آ رہے

ہیں اس دوران کئی ایک مرتبہ اس مسئلے پر پاکستان اور بھارت میں جنگ کا سا

سماں بنا تو کئی بار اس مسئلے کے حل کی بھی امید بندھی لیکن نادیدہ قوتوں نے

معاملہ حل نہ ہونے دیا- پاکستان کا موقف ہے کہ کشمیر اس کی شہ رگ ہے اور

بھارت کی گردان ہے کشمیر اسکا اٹوٹ انگ ہے، مگر اہل کشمیرکیا چاہتے ہیں

سوائے پاکستان کے بھارت اور عالمی برادری انکا موقف سننے کو تیار ہی نہیں-

یہ بھی پڑھیں: “اِس ہاتھ دے اْس ہاتھ لے” کا اصول ہی سکہ رائج الوقت

امسال جولائی کے آخری عشرے میں جب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان

دورہ امریکہ پر گئے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تو ایک دھماکہ خیز

خبر دنیا کو سننے کیلئے ملی، بقول صدر ٹرمپ کہ انہیں بھارت کے وزیراعظم

نریندر مودی نے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے ثالثی کا کردار ادا

کریں، جسے پاکستان نے تو فوری طور پر قبول کر لیا اور اسے اپنی فتح گردان

بیٹھا مگر بھارت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو یکسر مسترد کرتے

ہوئے کہا ایسی کوئی خواہش وزیراعظم مودی نے کسی بھی موقع پر ظاہر ہی نہیں

کی یہ امریکی صدر کی اپنی اختراع ہے- جس پر پاکستان یہ سمجھ بیٹھا کہ مودی

سرکار نے امریکہ سے پنگا لے کر اپنی عالمی سطح پر تنہائی پر مہر ثبت کردی

ہے اور ہم عالمی برادری میں ایک اہم مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں،

جسکا اظہار وزیراعظم عمران خان نے امریکہ سے وطن واپسی پر دھرتی ماں پر

قدم رکھتے ہی ائیر پورٹ پر استقبالیہ تقریب سے خطاب میں کچھ اس انداز سے کیا

کہ ایسا لگ رہا ہے جیسے میں ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں-

شومئی قسمت ابھی وزیراعظم عمران خان اپنے دورہ امریکہ پر اپنی کابینہ ہی کو

اعتماد میں لے رہے تھے کہ ٹھیک ایک ہفتے بعد دونوں ممالک کے ماہ آزادی میں

بھارت نے اپنے زیرانتظام کشمیر میں مزید 38 ہزار فوجی تعینات کرنے اور وادی

میں موجود تمام ہندویاتریوں، سیاحوں کو فوری طور پر وہاں سے نکلنے کا حکم

صادر کر دیا اور اگلے ہی روز مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے کے اعلان سمیت

پوری مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر دیا جو تادم تحریر نافذ ہے جس سے ایک

ایسی پراسرار اور خوف زدہ کرنیوالی فضا پیدا ہو گئی کہ کشمیری عوام تو کجا

خود بھارت نواز کشمیری سیاسی لیڈر شپ بھی چیخ اٹھی یہ کیا ہونے جارہا ہے

جس پر انہیں بھی بھارت سرکار نے حریت قیادت کی طرح گھروں میں نظربند کر

دیا- اور اگلے ہی روز بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی ملکی آئین میں خود سے دی

گئی خصوصی حیثیت ختم کرکے اپنے رچائے گئے ڈرامے کا ڈراپ سین پیش کر

دیا- 5 اگست 2019 کو بھارتی وزیر داخلہ نے پارلیمینٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا

میں آئین کا آرٹیکل 370 ختم کرنیکی تجویز جس پر بھارت کے صدر کے دستخط

پہلے ہی حاصل کر لئے گئے پش کردی جسے بھاری اکثریت سے منظور کر لیا

گیا، جو تجویز پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں پیش کی گئی اس کے مطابق جموں و

کشمیر کی ’’تنظیم نو‘‘ کی جائیگی اور آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں و

کشمیر مرکز کے زیر اہتمام اس کی ایک اکائی یا یونین ٹیریٹری ہو گی جسکی اپنی

قانون ساز اسمبلی ہو گی اور وہاں لیفٹیننٹ گورنر تعینات کیا جائیگا جبکہ لداخ

مرکز کے زیر اہتمام ایسا علاقہ ہو گا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہو گی، بلکہ وہاں کی

نمائندہ وفاق میں ہوگی۔

مزید پڑھیں: عالمی برادری کیلئے مسئلہ کشمیر حل کرنے کا سنہری موقع

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی چہ میگوئیاں یوں تو عرصے

سے ہو رہی تھیں اور ساتھ ہی اس کی مخالفت بھی کی جا رہی تھی یہاں تک کہ وہ

جماعتیں، جو باقاعدگی سے بھارت کے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات

میں حصہ لیتی اور بھارتی سسٹم میں رہ کر ہی اپنے حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں،اس

تجویز کیخلاف سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور ہوگئیں، جس کی ایک جھلک

راجیہ سبھا میں بھی نظر آئی جب کشمیر سے تعلق رکھنے والے کانگریسی رہنما

غلام نبی آزاد نے ایوان میں کہا ’’ہم ہندوستان کے آئین کی حفاظت کیلئے اپنی جان

کی بازی لگا دیں گے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں، آج بی جے پی نے اس آئین کا

قتل کیا ہے‘‘ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ’’آج کا دن انڈیا کی جمہوریت

میں سیاہ ترین دن ہے‘‘ جموں و کشمیر کی قیادت کی جانب سے 1947ء میں دو

قومی نظریئے کو رد کرنا اور انڈیا کے الحاق کا فیصلہ بیک فائر کر گیا ہے، انڈیا

کی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ جس سے انڈیا جموں و کشمیر

میں قابض قوت بن جائیگا۔ اس اقدام کے برصغیر پر تباہ کن اثرات ہوں گے۔

آئین سے آرٹیکل 370خارج کرتے ہوئے آئینی ترمیم کا مروجہ طریق کار اختیار

نہیں کیا گیا مودی حکومت نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اکثریت رکھنے کے

باوجود یہ طریقِ کار اس لئے اختیار نہیں کیا کہ اسے ناکامی کا خدشہ تھا، جو

طریق کار اپنایا گیا اس کی بھارت کی آئینی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی، وزیر

داخلہ نے راجیہ سبھا میں جو تجویز پیش کی اس پر صدر کے دستخط پہلے سے

حاصل کر لئے گئے حالانکہ طریقِ کار کے مطابق کوئی بھی مسودئہ قانون پہلے

پارلیمنٹ کی منظوری کے لئے پیش کیا جاتا ہے اور پھر صدر کے دستخط حاصل

کئے جاتے ہیں اور یہ تو کوئی قانونی مسودہ تھا ہی نہیں یہ آئینی ترمیم کا معاملہ

تھا آئین سے ایک آرٹیکل صرف دو تہائی اکثریت سے ہی نکالا جا سکتا تھا شاید

یہی وجہ تھی کہ جب بھی اس آرٹیکل کو آئین سے نکالنے کی بات کی گئی تو دو

تہائی اکثریت کے حصول میں ناکامی کے خدشے کے پیش نظر حکومت پیچھے

ہٹ گئی لیکن بی جے پی نے نہ صرف اس طریقِ کار سے انحراف کیا بلکہ صدر

کے پہلے سے دستخط حاصل کر کے گھوڑے کے آگے گاڑی باندھ دی، گویا ایک

صدارتی آر ڈی ننس کے ذریعہ آئین میں غیر آئینی ترمیم کر دی گئی جس کی

بھارت تو کجا دنیا کے کسی جمہوریت پسند ملک میں کوئی مثال ملنا مشکل ہے۔

اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر متنازع علاقہ ہے جس کا تصفیہ

کشمیریوں کے استصواب رائے کے ذریعے ہونا ہے، اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر یہ

مسئلہ آج بھی موجود ہے یہ الگ بات ہے کہ بھارت پوری ڈھٹائی سے کشمیر کو

اپنا اٹوٹ انگ کہتا رہتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ بھارتی آئین کے مطابق کشمیر

بھارت کا حصہ ہے لیکن آج بھارت نے اپنے ہاتھوں سے وہ بنیاد بھی ڈھا دی اور

آئین کی مٹی اپنے ہاتھوں سے پلید کر دی، کشمیر کی خصوصی حیثیت کو محض

اس لئے بدل دیا کہ مسلمان اکثریت کی اس ریاست میں کوئی بھی غیر ریاستی

باشندہ جائیداد خریدنے کا حق نہیں رکھتا، کشمیری شہریوں کو خصوصی حقوق

حاصل ہیں جس کی وجہ سے ریاست میں آبادی کا تناسب مسلمانوں کے حق میں

ہے۔ متنازعہ علاقہ ہونے کے باوجود کشمیریوں کو بعض ایسے حقوق حاصل تھے

جس کی وجہ سے ریاست کے اندر تھوڑی تعداد میں ہی سہی ایسے عناصر بھی

موجود تھے جو انتخابات میں حصہ لیتے تھے اب ان کے لئے بھی بھارت کے

ساتھ جڑے رہنے کا کوئی جواز نہیں رہ گیا اور کشمیر کی پوری قیادت ایک ہی

موقف پر متحد ہو گئی ہے اور وہ ہے بھارتی تسلط سے پوری آزادی، اس وقت

ساڑھے آٹھ لاکھ فوج کشمیر میں موجود ہے جو اس لئے جمع کی گئی ہے کہ

کشمیری حریت پسند بھارت کی مرکزی حکومت کے اس غاصبانہ اقدام کے خلاف

اپنے جذبات کا اظہار کریں گے اور اس انگار وادی میں بھارتی حکومت کو جلد ہی

معلوم ہو جائیگا کہ اس نے جو جن بوتل سے باہر نکالا ہے اسے واپس بند کرنا کتنا

مشکل ہو گا جس کشمیر کے حالات پہلے ہی قابو میں نہیں تھے اب کس طرح

کنٹرول میں آئیں گے بھارتی منصوبہ سازوں نے عجلت میں احمقانہ اقدام کرتے

ہوئے شاید اس پر غور نہیں کیا۔

بھارت کا اگر یہ خیال ہے کہ اس کے اس عجوبہ روزگار اقدام سے ریاست کے

اندر جاری آزادی کی تحریک دم توڑ جائیگی تو یہ اس کی خام خیالی ہے کیونکہ

اس سے پہلے بھارت کی سکیورٹی فورسز تشدد کا ہر حربہ آزما کر دیکھ چکیں،

کشمیریوں کا جذبہ حریت سرد نہیں پڑا کشمیری نوجوانوں کی شہادتیں ان کے اس

جذبے کو اور جو ان کر دیتی ہیں اور جنازوں کے جلوس اس کے گواہ ہیں ویسے

تو آزادی کی تحریک عشروں سے جاری ہے لیکن برہان وانی کی شہادت نے اس

تحریک کو جو تازہ ولولہ دیا تھا وہ اب تک سنگینوں اور گولیوں کے سائے تلے

بھی پورے جوش و جذبے سے جاری ہے ۔ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کی

خواہش بی جے پی کی حکومت کے رہنمائوں کے ذہنوں میں بڑے عرصے سے

کلبلا رہی تھی جو اس نے پوری کر لی دیکھنا یہ ہو گا کہ حریت و آزادی کے

جذبے کے سامنے یہ تجویز کتنا عرصہ ٹھہرتی ہے۔

پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کا بھارت کا یک

طرفہ اقدام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متنازعہ علاقے کی حیثیت تبدیل نہیں کی

جا سکتی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یہ اقدام کر کے خطے کو تباہی کی

طرف دھکیل دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان سمیت پوری پاکستانی حکومت سفارتی

محاذ پر 5 اگست کے بعد سے سرگرم عمل ہے اور مسلم ممالک سمیت تمام عالمی

برادری کو یہ باور کرانے کی سعی کر رہی ہے کہ بھارت کا یہ اقدام کسی بھی

طور عالمی قوانین کی پاسداری نہیں بلکہ ان کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جس

پر بھارت کی سرکار سے باز پرس کرنے سمیت اسے یہ غیرآئینی اقدام واپس لینے

پر مجبور کیا جائے اور کشمیریوں سے کیا گیا حق خود ارادیت کا وعدہ ایفا کیا

جائے، عالمی برادری نے اس موقع پر بھی جانبداری کا مظاہرہ کیا تو دنیا کا رہا

سہا امن بھی تاراج ہو جائےگا کیونکہ بھارت نے حملہ کیا تو یہ ہو ہی نہیں سکتا

پاکستان جواب نہ دے-

بھارتی الیکشن سے پہلے وزیراعظم عمران خان کا خیال تھا کہ اگر مودی الیکشن

جیت گئے تو اُن کیساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کی بات چیت میں آسانی رہے گی،

لیکن یہ توقع بھی نقش برآب ثابت ہوئی، مودی نے مسئلہ کشمیر تو اپنے دیرینہ

خوابوں کی روشنی میں اپنے تئیں”حل“ کر دیا ہے اور جہاں تک بات چیت کا تعلق

ہے اس پر وہ اب تک آمادہ نہیں ہوئے، اس سے یہ اندازہ لگانے میں دِقت محسوس

نہیں ہوتی کہ ہمارے حکمرانوں نے مودی کو سمجھنے میں غلطی کی اور اُن کی

سیاست کے بارے میں غلط اندازے لگائے یا پھر بلاوجہ ایسی خوش گمانیوں کا

شکار ہو گئے جس کی معروضی حالات قطعاً اجازت نہیں دیتے تھے۔

بھارتی اقدام کے بعد البتہ یہ تنازعہ پھر سے دنیا کی نگاہوں میں آ گیا ہے، حتیٰ کہ

دنیا اس خدشے سے بھی دوچار ہو گئی کہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان تنازعہ

شدت اختیار کرکے کسی المناک حادثے کی صورت نہ اختیار کر جائے۔ بھارتی

وزیراعظم مودی نے مقبوضہ کشمیر کی جنت نظیر وادی کو جہنم بنانے میں کوئی

کسر نہیں چھوڑی اور ظلم و وحشت کی بھی نئی تاریخ رقم کی۔ پاکستان اور اس

کے عوام بہرحال مقبوضہ کشمیر کے اپنے بھائیوں کیساتھ ہیں، باقی امور کو ثانوی

کا حیثیت دے کر مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو فوقیت دیںا ہو گی کیونکہ بھارت

سفارتی محاذ پر ہم سے کہیں آگے ہے۔ اس کا مظاہرہ ہم مسلم ممالک کے مسئلہ

کشمیر سے متعلق سامنے آنیوالے موقف سے دیکھ چکے ہیں جبکہ باقی دنیا کی

جانب سے کی بھارتی اقدام کی کی جانےوالی مذمت صرف وقت گزاری کے سوا

کچھ نہیں- پاکستان کیخلاف امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا گٹھ جوڑ اب کوئی

ڈھکی چھپی بات نہیں رہی، امریکہ کی جانب سے افغان طالبان کیساتھ کامیاب

مذاکرات کے بعد ان سے دستبردار ہونا اور بھارت کو عالمی قوانین کی پامالی

کیلئے وقت دینا دونوں ایسے عوامل ہیں جن سے ہماری آنکھیں کھل جانی چاہیئں

ورنہ ناقابل تلافی نقصان ہوگا-

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مسئلہ کشمیر پر اجلاس بھی ہماری کامیابی یا

کشمیری مسلمانوں سے ہمدردی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ویٹو پاور ملک چین کو

وقتی طور پر خاموش کرانے کیلئے تھا تاکہ اس کیساتھ بھارت کو لداخ اور دیگر

متنازعہ سرحدی امور طے کرنے کیلئے وقت مل سکے، چین بلاشبہ پاکستان کے

موقف کی تائید و حمایت کرتا ہے لیکن آج کی دنیا کا اصول اپنے مفادات کا تحفظ

اولین ترجیح ہے، یہ ممکن ہے کہ بھارت چین کیساتھ اپنے سرحدی امور کچھ لو

کچھ دو کے فارمولے کے تحت حل کر کے اسے اپنے حق میں مسئلہ کشمیر پر

رام کر لے اس لئے موجودہ حالات میں ہمیں کسی بھی طرح کسی سے بھی کوئی

امید یا توقع وابستہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے زور باوز پر بھروسہ کرنا کی سوچ

کے تحت آگے بڑھنا چاہیے، وزیر اعظم عمران خان کا گزشتہ دنوں ایک تقریب

میں قوم سے یہ کہنا کہ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ان کے

خطاب اور عالمی برادری کے اس پر ردعمل کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائےگا

انتہائی صائب اقدام اور سوچ ہے تاکہ تمام کے تمام اتمام حجت ہوجائیں- لیکن ایک

بات پھر بھی زیر غور رہے کہ اب کی بار عالمی برادری کی طفل تسلیوں میں نہیں

آنا بلکہ اقوام متحدہ سے کشمیریوں کیلئے استصواب رائے کے منظور شدہ حق

کیلئے تاریخ، دن اور وقت کا تعین کرانا ہے بصورت دیگر وزیر اعظم عمران خان

عالمی برادری کو ڈیڈ لائن دیں کہ فلاں تاریخ تک ہم دنیا کو کشمیریوں کیساتھ

انصاف کا وقت دیتے ہیں ورنہ ہم اپنی سلامتی اور تحفظ کیلئے کشمیریوں کی

صرف سیاسی سفارتی اور اخلاقی ہی نہیں عملی مدد کرنے میں مزید کسی قسم کا

انتظار نہیں کریں گے، کیونکہ کشمیر ارض پاک اور اس کے باسیوں کی شہہ رگ

ہے-