Health Worker Drop The Polio Vaccine in the mouth of kid, 178

انسداد پولیو ناکامی کی 10 وجوہات، تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش، مدد طلب

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن ہیلتھ رپورٹر) انسداد پولیو ناکامی وجوہات

انسداد پولیو میں ناکامی کی 10 وجوہات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی

گئیں اور اس کے ساتھ ساتھ وزارت قومی صحت نے پارلیمنٹ میں اپیل ہے کی کہ

قومی اسمبلی کے تمام ارکان اپنے انتخابی حلقوں میں پولیو ویکسی نیشن میں مدد

کریں، پاکستان میں پولیو کے ختم نہ ہونے کی دس بڑی وجوہات ہیں۔

پڑھیں: ملک کے 12بڑے شہروں کے سیوریج میں پولیو وائرس کی تصدیق

وزارت قومی صحت نے کہا سوشل میڈیا پر پولیو ویکسین کیخلاف منفی پروپیگنڈا

کے باعث ویکسین سے انکار کرنیوالو ں میں اضافہ ہواہے، معاشرے میں پولیو

کے بارے میں خطرے کا احساس موجود نہیں۔ پولیو ٹیموں پر حملوں کے باعث

ورکرز کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے، پاک افغان سرحد پر لوگوں کے آنے جانے

کے باعث ویکسی نیشن چیلنج بن گئی ہے۔ افغانستان سرحد کیساتھ مشترکہ

راہداریوں کے اندر عدم رسائی نے مسئلے کو گھمبیر بنادیا ہے-

مزید پڑھیں: مہمند میں فائرنگ سے انسداد پولیو ورکر جاں بحق

وزارت قومی صحت نے یہ بھی بتایا کہ کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے بنیادی ریزر

وائرز پولیو وائرس کیلئے سازگار ماحول فراہم کررہے ہیں، صاف پانی کی عدم

فراہمی اور ناقص غذائیت بڑے چیلنجز ہیں، ملک میں مدافعتی مہم کے معمول میں

کمزوری اہم وجہ ہے، پولیو کیخلاف مہم میں عملدرآمد کی سطح پر انتظامیہ کی

نگرانی میں کمی بھی رکاوٹ ہے۔ انسداد پولیو ناکامی کی 10 وجوہات کو ختم کئے

بغیر ملک سے موذی مرض کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں اس لئے اراکان پارلیمنٹ

سمیت پوری قوم کو انفرادی اور اجتماعی طور پر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ہمارے

آنے والی نسلیں اس سے محفوظ ہو سکیں، یاد رہے پولیو جیسے موذی مرض کے

ملک سے ختم نہ ہونے کے باعث ہر تین ماہ بعد عالمی قوانین کے تحت پاکستان

سے بیرون ملک جانے کیلئے ہمیں سفری پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے-