Ch.Asim Tipu Advocate writer JTNOnline 152

بورس جانسن، بریگزٹ معاملہ اور سکاٹ لینڈ

Spread the love

بورس جانسن، بریگزٹ معاملہ اور سکاٹ لینڈ

’’برطانیہ 31 اکتوبر تک یورپی یونین سے نکل جائے گا‘‘ یہ وہ جملہ ہے جونئے

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اپنی پہلی ہی تقریر میں کہا اور ساتھ ہی باور

کرایا یورپی یونین سے انخلا برطانوی عوام کا بنیادی فیصلہ ہے، عوام پہلے ہی

بہت انتظار کر چکے، اب مزید نہیں۔ 2002ء میں لیبر پارٹی کے سابق رکن

پارلیمنٹ ٹونی رائٹ نے (The End of Britain) کے عنوان سے ایک مضمون

لکھا تھا۔ اس مضمون میں ٹونی رائٹ نے اپنے ملک کے مرد و خواتین میں شناخت

کے بحران کی بروقت نشاندہی کی اور لکھا برطانوی عوام میں یہ تصور واضح

نہیں کہ وہ کون ہیں؟ کہاں ہیں؟ اور کیا ہیں؟ ٹونی رائٹ نے کہا ایک ’’برطانویت‘‘

انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے عوام کو جوڑنے کے لیے تخلیق کیا

گیا۔ 20 ویں صدی میں جنگ، سلطنت اور بادشاہت نے برطانویت کو قائم رکھنے

کے لیے تاریخی اور علامتی گوند کا کردار ادا کیا۔ جونہی ان عظیم کامیابیوں اور

کمال کی یاد دھندلی پڑی اور بادشاہت بھی بحران میں آئی تو یہ گوند کمزور پڑگئی۔

اس کے نتیجے میں برطانیہ ایک گہری مشکل لئے21 ویں صدی میں داخل ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی پارلیمنٹ کی اکثریت نے بریگزٹ معاہدہ مسترد کردیا

وزیراعظم ٹونی بلیئر کے دور میں ویلز، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کو اپنی

علاقائی پارلیمان تو مل گئیں لیکن انگلینڈ کو کچھ نہ ملا۔ 2008ء اور 2009ء میں

پیدا ہونیوالے معاشی بحران کے دوران یونائیٹڈ کنگڈم (United Kingdom) کے

مختلف علاقے الگ الگ رفتار کیساتھ معاشی مشکلات سے نکلے۔ اگرچہ لندن کے

معاشی مرکز میں کاروبار دوبارہ سے چمک اٹھے لیکن انگلینڈ کے مختلف صنعتی

علاقوں میں آج بھی اس بحران کے اثرات موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: برطانوی پارلیمنٹ میں بریگزیٹ سے متعلق 4 قراردادیں مسترد

اس بحران کے نتیجے میں سیاسی قیادت نے بچت کیلئے جو اقدامات اٹھائے ان کے

نتیجے میں عدم مساوات کی کیفیت بھی پیدا ہوئی۔ ان حالات کے نتیجے میں انگلش

عوام میں قومی عظمت کا خواب پیدا ہوا جس کیلئے قربانی کا بکرا ’’یورپی سپر

اسٹیٹ‘‘بنی۔ یہی قوم پرستی تھی جس کی بنا پر انگلینڈ اور ویلز کے علاقوں کے

عوام نے بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا جبکہ لندن اور سکاٹ لینڈ میں رہنے والوں

کی اکثریت نے بریگزٹ کیخلاف رائے دی۔

جانیئے: برطانوی وزیراعظم کو بریگزٹ کے نئے پلان پر ڈیڈ لاک کا سامنا

بریگزٹ معاہد ہ اس وقت تک 2 وزرائے اعظم ڈیوڈ کیمرون اور تھریسامے کے

نیچے سے اقتدار کی کرسی کھینچ چکا ہے اور اسی بحران میں بورس جانسن نے

برطانیہ کے 77 ویں وزیراعظم کے طورپر بدھ کے روز حلف اٹھایا اور اپنی ٹیم

کا اعلان کیا۔ کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ اور برطانیہ کے نئے وزیراعظم کے

انتخاب کیلئے بورس جانسن اور سیکریٹری خارجہ جیرمی ہنٹ مد مقابل تھے جن

کا انتخاب کنزرویٹو پارٹی کے 2 لاکھ ارکان نے کیا۔ بورس جانسن نے 92153

جبکہ جیرمی ہنٹ نے 45656 ووٹ حاصل کیے۔ اس سے قبل بورس جانسن لندن

کے میئر اور وزیر خارجہ کی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں۔ یورپی کونسل کے

صدر ڈونلڈ ٹسک نے انہیں وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور کہا

ہم آپ کے ساتھ جلد مل کر بریگزٹ کے معاملے پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

یورپی یونین کے مذاکرات کار مائیکل بارنئیر نے بھی خوش آمدید کرتے ہوئے کہا

ہم وزیراعظم بورس جانسن کے ساتھ تعمیری انداز میں کام کرنے کے منتظر ہیں

تاکہ بریگزٹ کا معاملہ احسن انداز میں آگے بڑھایا جائے۔ سابق وزیراعظم

تھریسامے نے بھی ہاؤس آف کامنز سے آخری خطاب میں کہا وہ نئے وزیراعظم

کی ہر ممکن مدد کریں گی۔

یہ بھی جانیئے: بریگزٹ معاملہ، سپین 4لاکھ برطانوی باشندوں کو رہائش دینے پر تیار

ادھر ترک میڈیا نے نئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو “بورس دی ترک

کے نام سے بلانا شروع کر دیا ہے۔ ترکی کے متعدد اخبارات میں اس خبر کو

ترجیح دی جا رہی ہے جس میں لکھا گیا ہے ’’سلطنت عثمانیہ کا پوتا برطانیہ کا نیا

وزیراعظم‘‘۔ مسلمان آباؤ اجداد رکھنے والے بورس جانسن نے برطانوی اخبار

ڈیلی ٹیلیگراف میں برقع کے بارے میں متنازعہ رائے پر مبنی کالم بھی لکھا تھا

جس کے بعد برطانیہ کے سابق سیکریٹری خارجہ اور کنزرویٹو پارٹی کے اہم

رہنماؤں کی جانب سے بورس جانسن پر شدید دباؤ بڑھ گیا کہ وہ معافی مانگیں،

تنقید کرنے والوں میں وزیر اعظم تھریسامے بھی شامل تھیں۔ بورس جانسن نے

اپنے مضمون میں برقع پہننے والی مسلمان خواتین کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں

’’بینک ڈاکو‘‘اور ’’ڈاک خانہ‘‘قرار دیا تھا۔ ساتھ ساتھ انہوں نے مزید یہ بھی لکھا

کہ وہ اپنے حلقے کے عوام سے ملاقات کے دوران ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ

نقاب ہٹا کر بات کریں۔ معافی کے مطالبے کے باوجود بورس نے ایسا نہ کیا۔

پڑھیں: برطانیہ نے امیر ترین افراد کیلئے گولڈن ویزا سروس ختم کردی

بورس جانسن کا اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے پیغام میں کہنا تھا کہ ملکہ

برطانیہ نے مجھ پر اعتماد کیا ہے، انہوں نے جو حکومت بنانے کی دعوت دی

میں نے قبول کر لی، عوام میرے مالکان ہیں، میرا کام آپ کی خدمت کرنا ہے،

گلیوں کوچوں کو محفوظ کرنا چاہتا ہوں، عوام کی حفاظت کیلئے 20 ہزار نئے

پولیس اہلکار تعینات کریں گے، اب فیصلوں کا وقت آ گیا ہے۔ مسائل کے حل کے

لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ تعلیم اور سوشل سیکٹر میں جتنے بھی مسائل ہیں

انہیں حل کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ انہوں نے یورپی یونین کو بھی ایک

پیغام بھیجا اور کہا ہم بریگزٹ کے معاملے پر بات چیت کیلئے تیار ہیں میں یہ بھی

چاہتا ہوں ہم ڈیل کے بغیر بھی یورپی یونین سے نکل جائیں۔ بریگزٹ عوام کا

بنیادی فیصلہ ہے۔ ہمارے لیے بہت ساری مشکلات ہیں تاہم ہر طرح کے مسائل کا

سامنے کرنے کیلئے تیار ہیں۔ میں برطانوی شہریوں کو بتانا چاہتا ہوں میں صرف

آپ لوگوں کے لیے کھڑا ہوں۔ میں پورے انگلینڈ کا وزیراعظم ہوں۔ برطانیہ کے

20 ہسپتالوں کو اپ گریڈ کروں گا۔ یورپی یونین کے ساتھ تین سال سے جاری ملک

میں بے یقینی کی فضا کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے مخالف کبھی بھی اپنے مقصد

میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

پڑھیں: تھریسامے کے استعفے کا اعلان، نئے برطانوی وزیراعظم کیلئے دوڑ شروع

سکاٹ لینڈ میں روتھ ڈیوڈسن کی توانا قیادت میں سکاٹش کنزروٹیو پارٹی کا حالیہ

برسوں میں احیا ہوا ہے اور پارٹی میں نئی جان بھی پڑی ہے۔ پارٹی کے مخالفین

اس بات کے قائل ہیں بورس جانسن کے وزیراعظم بننے سے یہ سارا عمل رک

جائے گا اور ہو سکتا ہے اس سے سکاٹ لینڈ اور برطانیہ کا اتحاد بھی خطرے میں

پڑ جائے اور بات علیحدگی تک پہنچ جائے۔ یہ بات سچ ہے جانسن صاف گو، سادہ

لوح اور منکسرالمزاج ہیں جو برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کے حامی روتھ

ڈیوڈسن سے اس سے زیادہ مختلف ہو سکتے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے دوست

نہیں اور ماضی میں ایک دوسرے کی شدید مخالفت بھی کر چکے ہیں۔ کچھ

مبصرین کا کہنا ہے بورس جانسن کو سکاٹ لینڈ کے رائے دہندگان انگلش اشرافیہ

اور حکمران طبقے کی علامت کے طور پر دیکھیں گے جنہیں سکاٹ لینڈ کے

لوگ پسند نہیں کرتے لیکن شاید پالیسی شخصیت سے زیادہ اہم ثابت ہو۔ ٹیکسوں کی

وصولیوں میں تبدیلیوں کی تجویز پیش کرتے وقت انہیں شاید یہ خیال نہیں آیا تھا کہ

آمدن پر ٹیکس کا تعین سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کیا کرتی ہے لیکن اس کے بعد سے

انہوں نے سکاٹ لینڈ کی ٹوری پارٹی کے ارکان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ایوان

وزیر اعظم ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ میں سکاٹ لینڈ کے معاملات دیکھنے کے لیے ایک

خصوصی ’’یونین یونٹ‘ ‘تشکیل دیں گے۔ اگر انہیں معلوم ہو کہ انہیں کس کس

بات کا علم نہیں تو شاید وہ ایسی حماقتوں سے بچ سکیں۔ کئی لحاظ سے شاید

بریگزٹ بورس جانسن کے زوال کی وجہ نہ بنے۔ سکاٹ لینڈ جو یورپی یونین میں

رہنے کا حامی ہے، انکا مسئلہ یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ میں بغیر معاہدے کے بریگزٹ

کا خیال اتنا پسند نہیں کیا جاتا جتنا باقی برطانیہ میں کیا جاتا ہے۔ جتنا مشکل یا

سخت بریگزٹ بورس جانسن لے پائیں گے اتنا ہی سکاٹ لینڈ کی سکاٹش پارٹی کو

نقصان ہو گا۔ بورس جانسن اگر ایسی بریگزٹ پالیسی اپناتے ہیں جو سکاٹ لینڈ میں

پسند نہیں کی جاتی تو یہ ممکن ہے سکاٹ لینڈ کے لوگ یہ سوچنا شروع کردیں کہ

اب مزید برطانیہ کا حصہ رہنا ان کے بہترین مفاد میں ہے یا نہیں۔ حالیہ عوامی

سروے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یورپی یونین سے بغیر کسی معاہدے کے

علیحدگی کی صورت میں سکاٹ لینڈ میں 60 فیصد رائے دہندگان برطانیہ سے

آزادی کے حق میں رائے دیں گے۔ برطانیہ سے علیحدہ ہونے کی خواہش کی وجہ

یہ نہیں ہے کہ بریگزٹ کا معاہدہ کیسا ہو گا یا کسی خاص سیاستدان کی شخصیت یا

کردار کیسا ہے بلکہ اس کی بنیاد یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ میں لوگوں کی امنگیں اور

خواہشات برطانیہ کے دیگر علاقوں سے مختلف ہیں اور انھیں موجودہ یونین میں ہم

آہنگ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر بورس جانسن برطانیہ کو یکجا رکھنا چاہتے ہیں تو

انھیں ان شعلوں کو ہوا نہیں دینی ہو گی بلکہ انھیں بجھانا ہو گا۔

یورپی یونین سے علیحدگی پر برطانیہ کو ہونیوالے نقصانات

یورپی یونین سے علیحدگی کی صورت میں برطانیہ کو جو نقصان ہو گا اس میں

سب سے بڑا یہ ہے کہ وہ اپنا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر کھو دے گا۔ یورپ کو

برآمدات میں کمی ہو جائے گی، جس کا براہ راست اثر ملکی تجارت اور صنعتوں

پر پڑے گا۔ یورپی یونین کے فنڈز سے برطانیہ میں جاری ترقیاتی منصوبے بھی

متاثر ہوں گے۔ برطانیہ کے بینکنگ اور فنانس کے شعبے کو نقصان پہنچے گا۔

اسی طرح برطانیہ کی علیحدگی سے یورپی یونین بھی متاثر ہو گی، یورپین

مزدوروں اور تعلیم یافتہ افراد کو روزگار کا مسئلہ پیش آ سکتا ہے، برطانیہ یورپی

یونین سے علیحدگی کے بعد اپنے پائوں پر کھڑا ہو گیا تو کئی اور ممالک بھی

یورپی یونین سے الگ ہو سکتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ دُنیا پر سنہرے بالوں والی

اقوام کو راج کرتے کئی سو سال گزر چکے ہیں۔ یہ قومیں اپنی محنت سے

اندھیرے سے نکل کر روشنی میں آئیں، مسلمانوں کے علوم سے پورا پورا فائدہ

اٹھایا اور رفتہ رفتہ اپنے معاشی مسائل حل کرنے میں کامیاب رہیں، ساتھ ساتھ

انہوں نے یہ بھی خیال رکھا کہ دوسری قومیں ان سے آگے نہ نکل جائیں،چنانچہ

جہاں انہیں خطرہ محسوس ہوا غیر ترقی یافتہ اقوام کا زورِ بازو سے راستہ روکا۔

دوسروں کو جنگوں اور گروہ بندیوں میں اُلجھا کر خود ترقی کی منازل طے کرتے

گئے، ہر مغربی ملک اپنے آپ کو ترقی کے پہاڑ پر مضبوطی سے خود کو جما ہوا

دیکھنا چاہتا ہے مگر قانون قدرت کسی کا لحاظ نہیں کرتا، اب ان اقوام کے پائوں

پھسل رہے ہیں جبکہ کالے بالوں والی اقوام خواہ وہ ایشیاء میں ہوں، جنوبی امریکہ

یا افریقہ میں، مغربی اقوام کے ہی علوم کے ذریعے آہستہ آہستہ بہتری و خوشحالی

کی طرف گامزن ہیں۔ اس سارے عمل میں کتنی دیر لگتی ہے یہ تو کسی کو معلوم

نہیں تاہم رُخ کا تعین ہو چکا ہے۔

’’بورس جانسن اور ان کے مسلمان آباؤ اجداد‘‘

چند نسلیں پہلے بورس جانسن کا خاندان نہ صرف مسلمان تھا بلکہ ان کے پڑدادا کا

شمار سلطنت عثمانیہ کے آخری دور کی اہم شخصیات میں ہوتا ہے۔ بورس جانسن

کے پڑ دادا کا نام علی کمال تھا اور وہ ایک صحافی اور لبرل سیاستدان تھے۔ علی

کمال کے والد کا نام احمد آفندی تھا اور وہ پیشے کے لحاظ سے تاجر تھے۔ وہ اس

وقت کے قسطنطنیہ اور آج کے استنبول میں 1867ء میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ

حنیفہ فریدے سر کیشیائی نسل سے تھیں اور احمد آفندی کی دوسری اہلیہ تھیں۔علی

کمال نے ابتدائی تعلیم استنبول میں حاصل کی لیکن اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک

کا سفر اختیار کیا۔ وہ اس سلسلے میں جنیوا اور پیرس میں مقیم رہے جہاں سے

انہوں نے سیاسیات میں ڈگری مکمل کی۔ بیرون ملک قیام کے دوران ہی علی کمال

نے 1903ء میں ایک سوئس انگریز خاتون ونی فریڈ برون سے شادی کی۔ اس

شادی سے ان کے دو بچے ہوئے۔ بڑی بیٹی کا نام سلمیٰ رکھا گیا جبکہ ان کے

بیٹے کا نام عثمان علی تھا۔ عثمان علی کی پیدائش کے فوراً بعد علی کمال کی اہلیہ

کا انتقال ہوگیا اور دونوں بچوں کو پرورش کے لیے ان کے ننھیال کے ہاں بھیج دیا

گیا جو اس وقت برطانیہ میں رہتے تھے۔ دونوں بچوں کی پرورش ان کی نانی

مارگریٹ برون نے کی۔ اپنے ننھیال میں دونوں بچوں نے اپنے نام تبدیل کر لیے

تاکہ وہ اس وقت کے برطانوی معاشرے میں اپنی جگہ بنا سکیں۔ عثمان علی بعد

میں ولفریڈ عثمان جانسن کے نام سے پہچانے گئے۔ ولفریڈ نے جوان ہو کر ایرین

وِلس نامی ایک فرانسیسی خاتون سے شادی کی جس سے ان کے تین بچے پیدا

ہوئے، بورس کے والد سٹینلے جانسن، چچا پیٹر جانسن اور پھوپھی ہِلری جن کا

خاندان بعد میں آسٹریلیا منتقل ہو گیا۔ علی کمال کا خاندان صرف سلمی اور عثمان

علی تک محدود نہیں رہا کیونکہ بعد میں علی کمال نے ایک ترک خاتون صبیحہ

خانم سے شادی کی جو سلطنت عثمانیہ کے دربار سے وابستہ ایک نواب ذکی پاشا

کی بیٹی تھیں۔ اس شادی سے ان کے ہاں 1914ء میں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام

ذکی کنرالپ رکھا گیا۔ علی کمال صرف تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہی بیرون

ملک نہیں گئے بلکہ کئی مواقع پر انہیں اپنے لبرل سیاسی خیالات کی وجہ سے

بھی جلا وطنی اختیار کرنی پڑی جس دوران وہ برطانیہ اور شام میں مقیم رہے۔

جب برطانیہ نے دوسری عالمی جنگ کے بعد قسطنطنیہ پر قبضہ کر لیا تو علی

کمال نے قابض فوج کا ساتھ دیا۔ قبضے کے چار سال بعد جب ملک میں ایک طفیلی

حکومت قائم کی گئی تو علی کمال اس میں وزیر داخلہ تھے۔ لیکن یہ حکومت زیادہ

دیر تک قائم نہ رہ سکی اور تین ماہ بعد ہی اس کا خاتمہ ہو گیا۔ قابض فوج کا ساتھ

دینے کی وجہ سے ان کیخلاف سخت غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ علی کمال کو 4

نومبر 1922ء کو اس وقت اغوا کر لیا گیا جب وہ استنبول میں ایک حجام کی دکان

پر موجود تھے۔ علی کمال کو ایک ٹرین کے ذریعے ایک دوسرے شہر لے جایا جا

رہا تھا کہ بلوائیوں نے ایک سٹیشن پر انہیں ٹرین سے اتار لیا اور مار مار کر قتل

کر دیا۔ علی کمال کی اولاد میں سے عثمان علی کے سلسلہ نسب نے ناصرف نام

تبدیل کیے بلکہ انہوں نے عیسائی مذہب بھی اختیار کر لیا جبکہ ان کی دوسری

شادی سے ہونے والے بیٹے ذکی کی اولاد ابھی تک اسلام کی پیرو کار ہے۔ ذکی

کنرالپ نے کمال اتاترک کے انتقال کے بعد وطن واپسی اختیار کی اور اس وقت

کے صدر کی خصوصی اجازت سے ترک محکمہ خارجہ میں شمولیت اختیار کی

اور دو مواقع پر لندن میں ترک سفیر رہے۔ ان کے ایک بیٹے صنعان استنبول میں

نشرو اشاعت کا کام کرتے ہیں جبکہ دوسرے سلیم اپنے والد کی طرح سفارتکار

ہیں۔ تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ صنعان اور سلیم کے ہاں اولاد نہ ہونے کی

وجہ سے احمد آفندی کی نسل برطانیہ میں موجود جانسن قبیلے اور ہِلری کی اولاد

سے آسٹریلیا میں ہی آگے بڑھے گی جس میں ترک النسل ہونے کی واحد نشانی

بورس جانسن کی بہن ریچل جانسن کا درمیانی نام صبیحہ ہے جو انہیں اپنی پڑدادی

کے نام پر دیا گیا تھا۔