86

50ہزار روپے سے زائد کی خریداری پر شناختی کارڈ دکھانا لازمی قرار

Spread the love

اسلام آباد،لاہور(کامرس رپورٹر) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے عام شہریوں کیلئے

رجسٹرڈ سیلز ٹیکس سیلر سے 50ہزار روپے سے زائد کی خریداری کی صورت

میں کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ دکھانا لازمی قرار دے دیا،خاتون خریدار کے

معاملے میں ان کے شوہر یا والد کا قومی شناختی کارڈ خریداری کے لیے درست

سمجھا جائے گا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اگر خریداری کی رقم 50 ہزار سے کم

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کا خرید وٍفروخت کیلئے شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے سے انکار

ہے اور یہ ایک عام صارف کو فروخت کی جارہی ہے تو اس صورت میں یہ شرط

لاگو نہیں ہوگی۔قومی شناختی کارڈ کی شرط کا اصل مقصد کاروبار سے کاروبار

لین دین کو دستاویزی شکل دینا ہے اور صارفین کی مخصوص تعداد ہی 50 ہزار

سے زائد مالیت کی کچھ لین دین کرتی ہے اور وہ سیلز ٹیکس رجسٹرڈ بندے سے

ہی کی جاتی ہے۔یہ شرط جعلی اور غیر تصدیق شدہ کاروباری ان خریداروں سے

بچانے میں مدد دے گی جس کے نتیجے میں ویلیو چین میں بڑا سیلز ٹیکس کا

نقصان ہوتا ہے۔ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس سرکلر کے ذریعے آنے والی

وضاحت میں سیلز ٹیکس ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو واضح کیا گیا ہے جس کے

تحت خریداروں کیلئے رجسٹرڈ سیلز ٹیکس فرد سے خریداریوں پر قومی شناختی

کارڈ دکھانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔اس سرکلر میں بتایا گیا ہے کہ 41 ہزار 484

ایسے سیلز ٹیکس رجسٹرڈ افراد ہیں جو ریٹرنز کے ساتھ اصل ٹیکس ادا کر رہے

ہیں۔ایکٹ میں کی گئی ترمیم کے مطابق اگر سیلز ٹیکس رجسٹرڈ فرد سے

خریداری کی جاتی تو خریدار کا شناختی کارڈ نمبر مخصوص صورت میں فراہم

کیا جائے گا، شناختی کارڈ نمبر فراہم کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ خریدار کو سیلز

ٹیکس قانون کے تحت رجسٹرڈ ہونا پڑے گا بلکہ غیر رجسٹرڈ فرد کو سیلز کی

جاسکتی ہے۔ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر بعد میں یہ ثابت ہوتا کہ خریدار

کا شناختی کارڈ نمبر درست نہیں تو نقصان کی ذمہ داری یا جرمانہ سیلر نے خلاف

نہیں گا لیکن یہ صرف اس صورت میں ہوگا کہ یہ فروخت نیک نیتی پر مبنی ہو۔

پاکستان میں موجودہ نظام اور تجویر کردہ نظام میں بھی ریٹیلرز، عام چھوٹے اور

مزید پڑھیں:شناختی کارڈ کی شرط ختم نہیں کرینگے،شبر زیدی

درمیانے درجے کے ریٹیلرز سیلز ٹیکس نظام سے باہر آتے ہیں، لہٰذااس طرح کے

افراد کی جانب سے فروخت کسی بھی طرح سے اس شرط کو متاثر نہیں کرے گی۔

علاوہ ازیں اگر بعد میں فراہم کی گئی لین دین میں کوئی غلطی یا خرابی کی

نشاندہی ہوتی ہے تو سیلر کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی تاہم یہ بھی اسی صورت

میں ہوگا کہ لین دین نیک نیتی پر کی گئی ہو، اس صورتحال میں وضع کی گئی

کچھ پالیسی گائڈلائنز پر عمل کیا جائے گا۔ساتھ ہی مطلوبہ دائرہ کار کے چیف

کمشنر کی اجازت کے بغیر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی، اس کے

علاوہ جہاں معاملات 50لاکھ روپے سے تجاوز کریں گے تو وہاں کارروائی کے

لیے آپریشن رکن یا ڈائریکٹر جنرل (برآمدی شعبہ)کی مزید اجازت کی ضرورت

ہوگی۔اس کے علاوہ اس فرد کے خلاف جس نے جعلی شناختی کارڈ کا استعمال کیا

ہے تب تک کارروائی نہیں ہوگی جب تک وہ اسے تسلیم نہ کرلے۔