87

ڈیرہ اسماعیل خان دہشگردی 23 جون کی فورسز کارروائی کا بدلہ، ٹی ٹی پی

Spread the love

اسلام آباد،ڈیرہ اسماعیل خان (جے ٹی این آن لائن نیوز)

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں اتوار

کے روز دہشتگردی اور شدت پسندی کی دو مختلف کارروائیوں کی ذمہ داری

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرتے ہوئے کہا ہے پولیس چیک پوسٹ پر

فائرنگ اور ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ٹراما سنٹر مین خود کش حملہ

گزشتہ ماہ 23 جون 2019 کو ایک طالبان دہشتگرد کو سکیورٹی فورسز کی طرف

سے ہلاک کرنے کا بدلہ ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنے ایک بیان میں تحریک

طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے ڈی آئی خان میں ہوئے دونوں

حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ان حملوں میں سی ٹی ڈی اور پولیس

اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا کیونکہ انہوں نے ڈی آئی خان میں 23 جون کو ایک

طالبان شدت پسند کی ہلاکت کا بدلہ لینا تھا۔

اتوار کے روز صبح 8 بجے ڈیرہ اسماعیل خان میں درابن روڈ پر کوٹلہ سیداں کے

مقام پر موٹر سائیکل سوار شرپسندوں نے پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ کی جس

کے نتیجہ میں دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے، دونوں شہدائ کے جسد خاکی قانونی

کارروائی کیلئے ڈی ٹی ایچ کیو ہسپتال لائی گئیں تو یہاں دہشتگردوں کے خود کش

بمبار ساتھی نے خود کو زوردار دھماکے سے اڑا دیا جس سے مزید دو پولیس

اہلکاروں سمیت 7 عام شہری شہید اور خواتین بچوں سمیت 15 افراد شدید زخمی ہو

گئے، دھماکے کے بعد ہسپتال کے قریب داخلی و خارجی راستے بند کرکے شہر

کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، چیک پوسٹ پر فائرنگ کے نتیجے

میں شہید اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل جہانگیر اور کانسٹیبل انعام کے نام سے

ہوئی، جہانگیر کا اعجاز آباد مریالی جبکہ انعام کا تعلق کورائی سے ہے۔

ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ٹراما سینٹرکے گیٹ پرخود کش دھماکے

میں مزید 2 اہلکار اور 5 عام شہری شہید، 4 پولیس اہلکاروں، ہسپتال میں علاج

کیلئے آئی خواتین اور بچوں سمیت 15شہری زخمی ہوگئے۔ بعدازاں زخمیوں کو

کمبائن ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ڈی پی او سلیم ریاض کا کہنا تھا ہماری ساری توجہ قبائلی اضلاع میں صوبائی

الیکشن پر تھی اور بڑی تعداد میں نفری انتخابی ڈیوٹی پر مامور تھی، ایسی

صورتحال میں دہشتگردوں نے شب خون مارکر اپنی بزدلی کا ثبوت دیا، تاہم

ہمارے حوصلے بلند ہیں- سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے

اور شہر بھر میں سیکیورٹی فورسز کا گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ بی ڈی ایس کے

مطابق ہسپتال کے گیٹ پر ہونے والا آئی ای ڈی دھماکہ تھا۔ دھماکے میں 7 سے8

کلو گرام بارودی مواد استعمال ہوا، مزید تحقیقات جاری ہیں۔ دوسری جانب فائرنگ

اورخود کش دھماکے میں شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کر دی

گئی جس میں کمشنر جاوید مروت سمیت اسٹیشن کمانڈر عمران سرتاج، پولیس

افسران اور شہریوں نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد پولیس شہداء کو سلامی

پیش کی گئی اور پھر شہداء کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کے اوپر تلے دو واقعات میں سکیورٹی فورسز

اور عام شہریوں کی شہادت پر انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے صدر مملکت،

وزیراعظم ،عسکری قیادت اور سیاسی و مذہبی قائدین نے بزدلانہ کارروائی کی

شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا ایسے واقعات پاکستان کے عوام کو امن کی راہ

سے نہیں ہٹا سکتے بلکہ ان کے حوصلے مزید بلند کرتے ہیں اور وہ وطن عزیز

کو دہشتگردی کے ناسور سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں- سیکیورٹی

ادارے امن کے قیام، ملک و قوم کی حفاظت کے لیے جان کے نذرانے پیش کر

رہے ہیں۔ جو کسی بھی طور رائیگاں نہیں جائیں گے. دہشتگردی کا نشانہ بنانے

والے انسانیت کے بدترین دشمن ہیں، دہشتگردی کے عفریت کو جڑ سے اکھاڑ کر

دم لیں گے-