71

بھارتی انتہا پسند ہندئوں کا بابری مسجد کے بعد اگلہ ہدف تاج محل

Spread the love

نئی دہلی(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک)

انتہا پسند ہندوں کی جماعت شیوسینا کی جانب سے ملنے والی دھمکی کے بعد

بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ نے ضلعی انتظامیہ سے باقاعدہ مدد مانگ لی۔ شیو

سینا نے دھمکی دی ہے کہ تاریخی عمارت تاج محل چونکہ تیجو مہالیہ ہے جو

ہندوں کے عقیدے کی علامت ہے اسلیے وہ موجودہ ساون (مون سون) کے چاروں

سوموار (پیر) کو عمارت کے اندر جا کر آرتی اتاریں گے۔ شیو سینا کی جانب سے

دھمکی اس کے صوبائی صدر وینو لوانیا نے دی ہے جس پر بھارتی ذرائع ابلاغ

کے مطابق محکمہ آثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والے افسران کے ہاتھ پاوں پھول

گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مندر تنازع، ہندو انتہا پسندوں کا مسلمان خاتون صحافی پر تشدد

سپرنٹنڈنٹ آرکیالوجسٹ (ماہر آثار قدیمہ) بسنت سورنکار نے آگرہ کے ضلعی

مجسٹریٹ این جی روی کمار کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ماضی میں بھی کبھی تاج

محل میں کوئی پوجا، ارچنا یا مہا آرتی نہیں ہوئی، اسلئے نئی روایت کو قائم ہونے

سے روکا جائے۔ محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے 18 جولائی 2019 کو ضلعی

مجسٹریٹ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ انسینٹ مونومنٹ اینڈ آرکیالوجیکل

سائٹس ریمینز ایکٹ 1958 کی شق 5 (6) اور اصول 19598 (ایف) کے تحت

محفوظ یادگار میں کسی بھی طرح کی مذہبی رسومات کو ادا کرنا اور کسی نئی

روایت کو قائم کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں ہندوانتہا پسندی، میرٹھ میں 200 مسلم گھر نذر آتش

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پی سنگھ نے کہا

ہے شہر میں نظم و نسق کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی

جائے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اے ایس آئی (آرکیالوجیکل سروے

آف انڈیا) کی درخواست پر تاج محل میں معقول حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق شیو سینا کے صوبائی صدر وینو لوانیا نے اس پر باقاعدہ

چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس انہیں اور ان کے معاونین

کو تاج محل میں آرتی کرنے سے روک نہیں سکتی اور اگر روک سکتی ہیں تو

روک کر دکھائیں؟ کلینڈر کے حساب سے کل 22 جولائی کو ساون کا پہلا سوموار

ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے بابری مسجد کو تحفظ فراہم نہ کرسکنے والی بھارتی پولیس اور

انتظامیہ اس مرتبہ اس شیوسینا سے کس طرح نمٹتی ہے جس کو سرکار کی بھی

بھرپور حمایت حاصل ہے؟

جانیئے: جے پور میں انتہا پسند ہندوں نے پاکستانی قیدی کو قتل کردیا

سانحہ بابری مسجد کے وقت موجودہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی حزب

اختلاف میں تھی اور اس کے تمام اہم رہنما انہدام بابری مسجد کے مقدمہ میں نامزد

ملزم ہیں۔ ہندو وادی تنظیم کی ایک عورت گزشتہ سال بھی تاج محل کے اندر قائم

مسجد میں پوجا کرنے داخل ہوگئی تھی۔ 2008 میں شیو سینا کے کارکنان نے تاج

محل میں جبراََ داخل ہو کر ہاتھ جوڑ کر پریکرما(چکر لگانا) کی تھی اور پوجا پاٹھ

بھی ہوئی تھی۔ پولیس نے اس وقت مداخلت کی تھی اور انہیں منع کیا تھا لیکن جب

وہ نہ مانے تھے تو ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔