91

سابقہ فاٹا، موجودہ قبائلی اضلاع کا تاریخی دن، پہلے صوبائی اسمبلی انتخابات شروع

Spread the love

پشاور(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹر)

خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد سابقہ فاٹا اور موجود قبائلی اضلاع میں صوبائی

اسمبلی کی 16 جنرل نشستوں پرانتخابات آج ہو رہے ہیں، ان تاریخی انتخابات میں

تقریباً دس سیاسی جماعتوں کے 84 اور 213 آزاد اْمیدواروں سمیت کل 297

اْمیدوار اپنی قسمت آزمائی کررہے ہیں، پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو شام

5 بجے تک جاری رہے گی، تمام قبائلی اضلاع میں پولنگ کا وقت ہوتے ہی عوام

کا جم غفیر گھروں سے باہر نکل آیا اور اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں،

کیا بوڑھے کیا مرد کیا خواتین تمام کے تمام سولہ حلقوں میں پولنگ کا عمل زور

شور سے بڑے پر امن انداز میں جاری ہے، عام نشستوں پر 282 امیدوار میدان

میں ہیں جبکہ خواتین کی 22، اقلیتوں کی 6 مخصوص نشستیں ہیں۔ 16 حلقوں میں

انتخابات کیلئے 1897 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 554 پولنگ

سٹیشن انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔ ایک ہزار 39 مخلوط پولنگ سٹیشن ہیں

جبکہ صرف مردوں کیلئے 482 اور خواتین کیلئے مختص 376 پولنگ سٹیشن قائم

کیے گئے ہیں، تمام پولنگ سٹیشنز کے باہر جبکہ انتہائی حساس 554 پولنگ

اسٹیشنز کے اندر اور باہر فوج تعینات ہے۔ تمام پولنگ سٹیشنز پر سی سی ٹی وی

کیمرے نصب کیے گئے ہیں جبکہ الیکشن کیلئے 28 لاکھ 91 ہزار بیلٹ پیپرز

پرنٹ کرائے گئے ہیں۔ شکایات اور نتائج موصول کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں

سیل قائم کر دیا گیا ہے، جو آج 20 اور کل 21 جولائی کو 24 گھنٹے کام کرے گا۔

الیکشن سے متعلق شکایات 0519210809 اور 0519210810 پر موصول کی

یہ بھی پڑھیں: شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری، پاکستان پیپلزپارٹی

جائیں گی۔ ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج کا اعلان پرانے سسٹم کے ذریعے کیا

جائے گا۔ پریزائیڈنگ افسر فارم 45 پولنگ ایجنٹس کے حوالے کرے گا اور

ریٹرننگ افسر کے دفتر پہنچائے گا، جہاں سے نتائج الیکشن کمیشن آف پاکستان کو

ارسال کر دیے جائیں گے۔ ضلع باجوڑ میں صوبائی اسمبلی کی تین، ضلع مہمند

میں 2، ضلع خیبر میں تین، ضلع کرم میں 2 اور ضلع اورکزئی میں ایک صوبائی

نشست کیلئے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ ضلع شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بھی دو

دو نشستوں کیلئے پولنگ کا عمل جاری ہے، اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ سابق فرنٹیر

ریجن میں ایک صوبائی نشست رکھی گئی ہے۔ پی کے 115 کے علاقوں میں جانی

خیل، بٹہ خیل، جنگل خیل، تحصیل لالچی، تحصیل گمبٹ اور تحصیل درہ آدم خیل

شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: قبائلی اضلاع میں ماتحت عدالتوں کے قیام کی منظوری

حتمی فہرستوں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے تمام 16 حلقوں‘ جمعیت

العلمائے اسلام (ف) نے 15‘ عوامی نیشنل پارٹی نے 14‘ پاکستان پیپلز پارٹی

پارلیمینٹرین اور جماعت اسلامی نے 13‘13 حلقوں پر اپنے اپنے اْمیدوارمیدان میں

اْتارے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) نے 5‘ قومی وطن پارٹی نے 3‘ جمیعت العلمائے

اسلام (س) اور پاکستان سرزمین پارٹی نے 2‘2 حلقوں جبکہ پاکستان عوامی انقلاب

پارٹی نے صرف ایک حلقے سے اپنے اْمیدوار نامزد کررکھے ہیں تاہم قبائلی ضلع

ا ورکزئی میں جمیعت العلمائے اسلام (ف) کے اْمیدوار قاسم گل سمیت کئی آزاد

اْمیدوار پہلے ہی ایک آزاداْمیدوار غزن جمال کے حق میں دستبردار ہوچکے ہیں۔

قابل ذکر امر یہ ہے کہ ان قبائلی اضلاع میں انتخابی مہم کے دوران جہاں تمام

اْمیدواروں نے اپنی انتخابی مہم بھرپورانداز میں چلائی اوراپنے اپنے حلقوں میں

کارنر میٹینگز کے علاوہ جلسے جلوسوں کا انعقاد بھی کیا تاہم کہیں بھی کوئی

ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ الیکشن کمیشن کی جاری حتمی فہرستوں کے مطابق

قبائلی ضلع کرم کے حلقہ پی کے 108 میں سب سے زیادہ 26 آزاد اْمیدوارانتخابی

میدان میں اپنی قسمت آزمائی کررہے ہیں جبکہ سب سے کم آزاداْمیدواروں کی

تعداد قبائلی ضلع باجوڑ کے حلقہ پی کے 100 میں ہے جہاں کل 12میں سے

صرف 4 آزاد اْمیدوارحصہ لے رہے ہیں۔اسی طرح تمام 16حلقوں میں سب سے کم

اْمیدوار چھ قبائلی سب ڈویژن پر مشتمل حلقہ پی کے 115 میں ہے جہاں تین سیاسی

جماعتوں پی ٹی آئی، اے این پی اور جے یو آئی(ف) کے تین اْمیدواروں اور سات

آزاد اْمیدواروں سمیت کل 10 اْمیدوارحصہ لے رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے دو

قبائلی اضلاع خیبر کے حلقہ پی کے 106 سے عوامی نیشنل پارٹی کی خاتون

اْمیدوار ناہید اور ضلع کرم کے حلقہ پی کے 109 سے جماعت اسلامی کی خاتون

ملاسہ بی بی (زوجہ حکمت خان) ان انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

ہمارے نمائندوں کے مطابق اس وقت قبائلی عوام اپنے اپنے علاقوں میں بلا خوف

وخطر پہلے تاریخی صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں اپنے نمائندوں کے چنائو

کیلئے پولنگ کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور اپنا حق رائے

دہی استعمال کررہے ہیں، الیکشن کمیشن پاکستان کے قواعد و ضوابط کے مطابق

جن حلقوں میں خواتین ووٹوں کی تعداد دس فیصد سے کم ہونگی تو وہاں الیکشن

کالعدم قرار دیئے جائینگے،الیکشن کمیشن نے دنیا بھر کے الیکشن مبصرین کو

یہاں آکر انتخابات کی نگرانی کی اجازت دے رکھی ہے۔ گزشتہ سال مئی میں قبائلی

اضلاع کے خیبر پختونخوا کیساتھ انضمام کے بعد یوں تو قومی اسمبلی سے منظور

کردہ 26 ویں ترمیم کے تحت نشستیں چوبیس تک بڑھ گئی تھیں لیکن سینٹ سے

اب تک بل پاس نہ ہونے کی وجہ سے انتخابات 16 نشستوں پر ہورہے ہیں، ووٹوں

کی کل تعداد تقریباً 28 لاکھ ہے۔ انتخابات کو پرامن، صاف و شفاف بنانے کیلئے

تمام قبائلی اضلاع میں فول پروف سکیورٹی سمیت تمام دیگر متعلقہ انتظامات کئے

گئے ہیں-