83

ڈالر29 پیسے، سونا 700روپے تولہ مہنگا، 100 انڈیکس کی نفسیاتی حد بحال

Spread the love

کراچی (جے ٹی این آن لائن کامرس رپورٹر)

ڈالر29 پیسے، سونا 700روپے تولہ مہنگا، 100 انڈیکس کی نفسیاتی حد بحال

ملکی کرنسی مارکیٹوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی بے

قدری کا تسلسل جاری ہے۔ جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے

امریکی ڈالر کی قدر میں 29 پیسے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 20

پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جاری کردہ

اعداد و شمار کے مطابق ڈالر کی قیمت میں29 پیسے اضافے کے نتیجے میں

امریکی ڈالر کی قیمت خرید 160.06 سے بڑھ کر160.35 روپے،قیمت فروخت

160.16 سے بڑھ کر160.45 روپے ہوگئی۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی

روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالرکی قیمت میں 20 پیسے کے اضافے کے

یہ بھی پڑھیں: ڈالر، سونے کی بڑھتی قیمتں رک گئیں، سٹاک مارکیٹ میں تیزی

نتیجے میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید 159.80 سے بڑھ کر160.00 اورقیمت

فروخت 160.30 سے بڑھ کر 160.50 روپے ہوگئی۔ عالمی گولڈ مارکیٹ میں فی

اونس سونے کی قیمت میں 16 ڈالرکا اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں مقامی

صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ سونا 700 روپے مہنگا ہوکرملکی تاریخ کی نئی

بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ آل کراچی صرافہ اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے

مطابق کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی،

پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 700

روپے اور10 گرام سونے کی قیمت میں 600 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس

کے نتیجے میں فی تولہ سونے کی قیمت 83400 سے بڑھ کر 84100 روپے

اوردس گرام سونے کی قیمت 71485 سے بڑھ کر72085 روپے کی نئی بلند

ترین سطح پر پہنچ گئی ۔

مزید پڑھیں: 7 ماہ میں سٹاک ایکسچینج سے 40 کروڑ ڈالر کا انخلا، سرمایہ کاری میں 17 فیصد کمی، سٹیٹ بینک

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ایک روزہ مندی کے بعد کاروباری ہفتے کے آخری

روزجمعہ کو اتارچڑھائو کے بعد تیزی رہی اورکے ایس ای 100 انڈیکس کی

32400 کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی، تیزی کے نتیجے میں سرمایہ کاری مالیت

میں 13 ارب 45 کروڑ روپے سے زائد کا اضافہ ہوا، کاروباری حجم گزشتہ روز

کی نسبت 39.05 فیصد زائد جبکہ 49.50 فیصد حصص کی قیمتوں میں اضافہ

ریکارڈ کیا گیا۔ فروخت کے دبائواور پرافٹ ٹیکنگ کے سبب کاروبار کا آغاز

منفی زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای 100 انڈیکس

32000 کی نفسیاتی حد سے بھی گرگیا تاہم بعدازاں حکومتی مالیاتی اداروں،

مقامی بروکریج ہائوسز سمیت دیگرانسٹی ٹیوشنز کی جانب سے سیمنٹ، توانائی،

بینکنگ، کیمیکل، فوڈز، اسٹیل سمیت دیگرمنافع بخش سیکٹرمیں خریداری کے

باعث مندی کے اثرات زائل ہوگئے اور کے ایس ای 100 انڈیکس کی 32500 کی

حد بھی بحال ہوگئی تاہم ملکی کرنسی مارکیٹوں میں ڈالر کی قدر بڑھنے سے

مقامی سرمایہ کار گروپوں نے اپنے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی، جس

کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس کی 32500 کی حد ایک بار پھر گر

گئی تاہم اتارچڑھائو کا سلسلہ سارا دن جاری رہا۔ مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس

ای 100 انڈیکس 149.23 پوائنٹس اضافے سے 32458.77 پوائنٹس پر بند ہوا۔

جانیئے: پاکستان اسٹاک ایکسچینج بلندیوں کی جانب گامزن

جمعہ کو مجموعی طور پر 316 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں

سے 155 کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں اضافہ، 129 کمپنیوں کے حصص

کے بھاؤ میں کمی جبکہ 32 کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں استحکام رہا۔

سرمایہ کاری مالیت میں 13 ارب 45 کروڑ 96 لاکھ 28 ہزار600 روپے کا

اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت

بڑھ کر 65 کھرب 75 ارب 25 کروڑ 17 لاکھ 24 ہزار 926 روپے ہوگئی۔