73

شفاف الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری، گھوٹکی اور فاٹا میں فوج تعینات نہ کی جائے،پیپلزپارٹی

Spread the love

اسلام آباد (جنرل رپورٹر ) پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنمائوں نے مطالبہ کیا

ہے کہ گھوٹکی اور فاٹا کے الیکشن میں فوج کو پولنگ اسٹیشنوں کے اندر تعینات

نہ کیا جائے اگر ایسا نہ کیا گیا تو الیکشن دھاندلی زدہ ہوں گیِ،2018 ء کے الیکشن

میں فوج کو پولنگ اسٹیشنوں کے اندر تعینات کیا گیا اور انہوں نے پولنگ ایجنٹوں

کو گنتی کے وقت باہر نکال دیا اور 95 فیصد فارم 45 پر پولنگ ایجنٹوں کے

دستخط موجود نہیں تھے الیکشن کمیشن نے جو فارم 45 اپ لود کئے وہ جعلی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی مخالفت کا اعلان کردیا

چیئرمین سینیٹ پر عدم اعتماد کے حوالے سے رولز بڑے واضح ہیں۔ ان خیالات کا

اظہار پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری اور پاکستان پیپلزپارٹی

پارلیمنٹرین کے جنرل سیکرٹری فرحت اللہ بابر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے

ہوئے کیا۔ ان کے ہمراہ نذیر ڈھوکی اور کیپٹن واصف بھی موجود تھے۔ نیئر بخاری

نے کہا کہ صاف شفاف الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے گھوٹکی

میں مختار کار کو اغواء کیا گیا ہے تاکہ الیکشن پر اثر انداز ہوسکیں۔فرحت اللہ بابر

نے کہا کہ گھوٹکی کے 290 پولنگ اسٹیشن ہیں جس میں 125 سے 130 تک

پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس قرار دے دیا گیا ہے۔ باقی پولنگ اسٹیشنوں نو

حساس قرار دیا ہے تاکہ فوج تعینات کی جا سکے۔ فاٹا میں بھی تمام پولنگ

مزید پڑھیں:پیپلزپارٹی ہمیشہ ٹارگٹ رہی ،،بلاول بھٹو

اسٹیشنوں پر فوج تعینات ہوگی۔ لیکن گھوٹکی کی صورتحال فاٹا سے گھمبیر نظر

آرہی ہے گھوٹکی کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر فوج کی تعیناتی سے کیا پیغام دیا

جارہا ہے۔ اگر فوج اندر ہو گی اور ووٹر کو گھور کر دیکھے گی۔اگر فوج پولنگ

اسٹیشن کے اندر تعینات ہوگی تو الیکشن کو کوئی آزادانہ تسلیم نہیں کرے گا۔

مرکزی ترجمان پیپلز پارٹی سینیٹر مولابخش چانڈیو نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری

کا خوف عمران خان کے حواسوں پر طاری ہے،تقریب کوئی بھی ہو، موقع کوئی

بھی ہو عمران خان اپنے خوف کا اظہار کر جاتے ہیں، خان صاحب آپ سلیکٹڈ

سہی مگر آپ کا کام کسی کی اردو کی گرامر ٹھیک کرنا نہیں ملک چلانا ہے،ملک

آپ سے چل نہیں رہا اور آپ چلیں ہیں لوگوں کی اردو ٹھیک کرنے۔ مولابخش

چانڈیو نے کہا کہ تحریک پاکستان کے بڑے بڑے رہنمائوں کو اردو نہیں آتی تھی

تو کیا وہ لیڈر نہیں تھے ؟ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے عمران خان کی تقریر پر ردعمل

دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو کبھی بلاول بھٹو کی انگریزی سے مسئلہ ہے تو

کبھی اردو سے، بلاول بھٹو نے انگریزی میں سلیکٹڈ بولا، عمران خان تالیاں

بجاتے رہے،عمران خان کی ذہنی سطح اتنی زیادہ نہیں کہ بلاول بھٹو کی گفتگو کو

سمجھ سکیں،پاکستان پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی نہیں ہے کہ جس کے زیادہ شیئر خرید کر

انیل مسرت مالک بن جائیں،ایسا لگ رہا ہے کہ انیل مسرت نے اپنے سرمائے اور

تعلقات سے عمران خان کو پاکستان کا وزیراعظم لگوادیا،سیاست دانوں کے خلاف

تو جنرل ایوب کے دور سے احتساب ہورہا ہے،عمران خان کی طرح ہر ڈکٹیٹر نے

احتساب کے نام پر سیاست دانوں کو ختم کرنے کی کوشش کی،پی ٹی آئی رہنما

ٹاک شوز میں گرفتاریوں کی پیشگی اطلاعات دے کر کہتے ہیں شفاف احتساب

ہورہا ہے۔